SHAWORDS
Alok Mishra

Alok Mishra

Alok Mishra

Alok Mishra

poet
13Shayari
30Ghazal

Popular Shayari

13 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

بجھے لبوں پہ تبسم کے گل سجاتا ہوا مہک اٹھا ہوں میں تجھ کو غزل میں لاتا ہوا اجاڑ دشت سے یہ کون آج گزرا ہے گئی رتوں کی وہی خوشبوئیں لٹاتا ہوا تمہارے ہاتھوں سے چھٹ کر نہ جانے کب سے میں بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں ٹمٹماتا ہوا نگل نہ جائے کہیں بے رخی مجھے تیری کہ رو پڑا ہوں میں اب کے تجھے ہنساتا ہوا تو شاہزادی مہکتے ہوئے اجالوں کی میں ایک خواب اندھیروں کی چوٹ کھاتا ہوا مرا بدن یہ کسی برف کے بدن سا ہے پگھل نہ جاؤں میں تجھ کو گلے لگاتا ہوا تمہاری آنکھوں کا پانی کہیں نہ بن جاؤں میں ڈر رہا ہوں بہت داستاں سناتا ہوا

bujhe labon pe tabassum ke gul sajaataa huaa

غزل · Ghazal

دھوپ اب سر پہ آ گئی ہوگی کچھ نمی دشت میں بچی ہوگی دل مسلسل ہی زخم کھاتا ہے اس کی مٹی میں کچھ کمی ہوگی تو بھی کچھ بد حواس لوٹا ہے سانس رک رک کے ٹوٹتی ہوگی چاند شب بھر دہک رہا ہوگا نیند شب بھر پگھل رہی ہوگی گھر کی دیوار تھی ہی بوسیدہ اب کی بارش میں گر گئی ہوگی

dhuup ab sar pe aa gai hogi

غزل · Ghazal

چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں گھپ اندھیروں میں ڈوبتا جاؤں کب سے پھرتا ہوں اس توقع پر خود کو شاید کہیں میں پا جاؤں روح تک بجھ چکی ہے مدت سے تو جو چھو لے تو جگمگا جاؤں لمحہ لمحہ یہ چھانو گھٹتی ہے پتہ پتہ میں ٹوٹتا جاؤں دھوپ پی کر تمام صحرا کی ابر بن کر میں خود پہ چھا جاؤں دکھ سے کیسا بھرا ہوا ہے دل اس کو سوچوں تو سوچتا جاؤں ایک پتہ ہوں شاخ سے بچھڑا جانے بہہ کر میں کس دشا جاؤں جی میں آتا ہے چھوڑ دوں یہ زمیں آسمانوں میں جا سما جاؤں

chikh ki or main khinchaa jaaun

غزل · Ghazal

دل پر کسی کی بات کا ایسا اثر نہ تھا پہلے میں اس طرح سے کبھی در بدر نہ تھا چاروں طرف تھے دھوپ کے جنگل ہرے بھرے صحرا میں کوئی میرے علاوہ شجر نہ تھا تارے بھی شب کی جھیل میں غرقاب ہو گئے میری اداسیوں کا کوئی ہم سفر نہ تھا فرقت کی آنچ تھی نہ تری یاد کی تپش دل سرد پڑ رہا تھا کہیں اک شرر نہ تھا کل شب نہ جانے کون سے غم تھے اپھان پر اشکوں سے اس قدر میں کبھی تر بہ تر نہ تھا

dil par kisi ki baat kaa aisaa asar na thaa

غزل · Ghazal

خاک ہو کر بھی کب مٹوں گا میں پھول بن کر یہیں کھلوں گا میں تجھ کو آواز بھی میں کیوں دوں گا تیرا رستہ بھی کیوں تکوں گا میں اک پرانے سے زخم پر اب کے کوئی مرہم نیا رکھوں گا میں گھیر لیں گی یہ تتلیاں مجھ کو خوشبوئیں جیوں رہا کروں گا میں خود سے باہر تو کم نکلتا ہوں جی میں آیا تو پھر ملوں گا میں ورنہ جینا محال کر دے گا درد کو اب غزل کروں گا میں دھکدھکی سی لگی ہے کیوں جی کو اتنی جلدی کہاں مروں گا میں سانسیں دیتی رہیں جو چنگاری ایک جنگل سا جل اٹھوں گا میں تھک گیا ہوں میں اس جزیرے پر پھر سمندر کا رخ کروں گا میں روح کا یہ لباس بدلوں گا بھیس دوجا کوئی دھروں گا میں

khaak ho kar bhi kab miTungaa main

غزل · Ghazal

آنکھوں کا پورا شہر ہی سیلاب کر گیا یہ کون مجھ میں نظم کی صورت اتر گیا جنگل میں تیری یاد کے جگنوں چمک اٹھے میداں سیاہ شب کا اجالوں سے بھر گیا ورنہ سیاہ رات میں جھلسا ہوا تھا میں یہ تو تمہاری دھوپ میں کچھ کچھ نکھر گیا جھوما تھرکتے ناچتے جوڑوں میں کچھ گھڑی دل پھر نہ جانے کیسی اداسی سے بھر گیا دونوں انا میں چور تھے ان بن سی ہو گئی رشتہ نیا نیا سا تھا کچھ دن میں مر گیا پہلے کچھ ایک دن تو کٹی مشکلوں میں رات پھر تیرا ہجر میری رگوں میں اتر گیا ہاتھوں سے اپنے خود ہی نشیمن اجاڑ کر دیکھو اداس ہو کے پرندہ کدھر گیا اک چیخ آسمان کے دامن میں سو گئی دل کی زمیں پہ درد ہر اک سو بکھر گیا

aankhon kaa puuraa shahr hi sailaab kar gayaa

Similar Poets