jaane kis baat se dukhaa hai bahut
dil kai roz se khafaa hai bahut

Alok Mishra
Alok Mishra
Alok Mishra
Popular Shayari
13 totalkyuun bataataa nahin koi kuchh bhi
aakhir aisaa bhi kyaa huaa hai mujhe
khud-kushi jaisi koi baat nahin
ik zaraa mujh ko bad-gumaani hai
ek patta huun shaakh se bichhDaa
jaane bah kar main kis dishaa jaaun
sab sitaare dilaasa dete hain
chaand raaton ko chikhtaa hai bahut
kyaa zarurat hai mujh ko chehre ki
kaun chehre se jaantaa hai mujhe
main bhi bikhraa huaa huun apnon mein
vo bhi tanhaa saa apne ghar mein hai
ajiib khvaab thaa aankhon mein niind chhoD gayaa
ki niind guzri hai mujh ko zalil karte hue
maraa huaa main vo kirdaar huun kahaani kaa
jo ji rahaa hai kahaani tavil karte hue
mujhe pata hai ki rone se kuchh nahin hotaa
nayaa saa dukh hai to thoDaa chhalak gayaa huun main
jab se dekhaa hai khvaab mein us ko
dil musalsal kisi safar mein hai
kyaa qayaamat hai ki teri hi tarah se mujh se
zindagi ne bhi bahut duur kaa rishta rakkhaa
Ghazalغزل
بجھے لبوں پہ تبسم کے گل سجاتا ہوا مہک اٹھا ہوں میں تجھ کو غزل میں لاتا ہوا اجاڑ دشت سے یہ کون آج گزرا ہے گئی رتوں کی وہی خوشبوئیں لٹاتا ہوا تمہارے ہاتھوں سے چھٹ کر نہ جانے کب سے میں بھٹک رہا ہوں خلاؤں میں ٹمٹماتا ہوا نگل نہ جائے کہیں بے رخی مجھے تیری کہ رو پڑا ہوں میں اب کے تجھے ہنساتا ہوا تو شاہزادی مہکتے ہوئے اجالوں کی میں ایک خواب اندھیروں کی چوٹ کھاتا ہوا مرا بدن یہ کسی برف کے بدن سا ہے پگھل نہ جاؤں میں تجھ کو گلے لگاتا ہوا تمہاری آنکھوں کا پانی کہیں نہ بن جاؤں میں ڈر رہا ہوں بہت داستاں سناتا ہوا
bujhe labon pe tabassum ke gul sajaataa huaa
دھوپ اب سر پہ آ گئی ہوگی کچھ نمی دشت میں بچی ہوگی دل مسلسل ہی زخم کھاتا ہے اس کی مٹی میں کچھ کمی ہوگی تو بھی کچھ بد حواس لوٹا ہے سانس رک رک کے ٹوٹتی ہوگی چاند شب بھر دہک رہا ہوگا نیند شب بھر پگھل رہی ہوگی گھر کی دیوار تھی ہی بوسیدہ اب کی بارش میں گر گئی ہوگی
dhuup ab sar pe aa gai hogi
چیخ کی اور میں کھنچا جاؤں گھپ اندھیروں میں ڈوبتا جاؤں کب سے پھرتا ہوں اس توقع پر خود کو شاید کہیں میں پا جاؤں روح تک بجھ چکی ہے مدت سے تو جو چھو لے تو جگمگا جاؤں لمحہ لمحہ یہ چھانو گھٹتی ہے پتہ پتہ میں ٹوٹتا جاؤں دھوپ پی کر تمام صحرا کی ابر بن کر میں خود پہ چھا جاؤں دکھ سے کیسا بھرا ہوا ہے دل اس کو سوچوں تو سوچتا جاؤں ایک پتہ ہوں شاخ سے بچھڑا جانے بہہ کر میں کس دشا جاؤں جی میں آتا ہے چھوڑ دوں یہ زمیں آسمانوں میں جا سما جاؤں
chikh ki or main khinchaa jaaun
دل پر کسی کی بات کا ایسا اثر نہ تھا پہلے میں اس طرح سے کبھی در بدر نہ تھا چاروں طرف تھے دھوپ کے جنگل ہرے بھرے صحرا میں کوئی میرے علاوہ شجر نہ تھا تارے بھی شب کی جھیل میں غرقاب ہو گئے میری اداسیوں کا کوئی ہم سفر نہ تھا فرقت کی آنچ تھی نہ تری یاد کی تپش دل سرد پڑ رہا تھا کہیں اک شرر نہ تھا کل شب نہ جانے کون سے غم تھے اپھان پر اشکوں سے اس قدر میں کبھی تر بہ تر نہ تھا
dil par kisi ki baat kaa aisaa asar na thaa
خاک ہو کر بھی کب مٹوں گا میں پھول بن کر یہیں کھلوں گا میں تجھ کو آواز بھی میں کیوں دوں گا تیرا رستہ بھی کیوں تکوں گا میں اک پرانے سے زخم پر اب کے کوئی مرہم نیا رکھوں گا میں گھیر لیں گی یہ تتلیاں مجھ کو خوشبوئیں جیوں رہا کروں گا میں خود سے باہر تو کم نکلتا ہوں جی میں آیا تو پھر ملوں گا میں ورنہ جینا محال کر دے گا درد کو اب غزل کروں گا میں دھکدھکی سی لگی ہے کیوں جی کو اتنی جلدی کہاں مروں گا میں سانسیں دیتی رہیں جو چنگاری ایک جنگل سا جل اٹھوں گا میں تھک گیا ہوں میں اس جزیرے پر پھر سمندر کا رخ کروں گا میں روح کا یہ لباس بدلوں گا بھیس دوجا کوئی دھروں گا میں
khaak ho kar bhi kab miTungaa main
آنکھوں کا پورا شہر ہی سیلاب کر گیا یہ کون مجھ میں نظم کی صورت اتر گیا جنگل میں تیری یاد کے جگنوں چمک اٹھے میداں سیاہ شب کا اجالوں سے بھر گیا ورنہ سیاہ رات میں جھلسا ہوا تھا میں یہ تو تمہاری دھوپ میں کچھ کچھ نکھر گیا جھوما تھرکتے ناچتے جوڑوں میں کچھ گھڑی دل پھر نہ جانے کیسی اداسی سے بھر گیا دونوں انا میں چور تھے ان بن سی ہو گئی رشتہ نیا نیا سا تھا کچھ دن میں مر گیا پہلے کچھ ایک دن تو کٹی مشکلوں میں رات پھر تیرا ہجر میری رگوں میں اتر گیا ہاتھوں سے اپنے خود ہی نشیمن اجاڑ کر دیکھو اداس ہو کے پرندہ کدھر گیا اک چیخ آسمان کے دامن میں سو گئی دل کی زمیں پہ درد ہر اک سو بکھر گیا
aankhon kaa puuraa shahr hi sailaab kar gayaa





