SHAWORDS
Amjad Islam Amjad

Amjad Islam Amjad

Amjad Islam Amjad

Amjad Islam Amjad

poet
64Sher
64Shayari
61Ghazal
3Quotes

Sherشعر

See all 64

Popular Sher & Shayari & Quotes

131 total

Ghazalغزل

See all 61
غزل · Ghazal

duriyaan simaTne mein der kuchh to lagti hai

دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنجشوں کے مٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہجر کے دوراہے پر ایک پل نہ ٹھہرا وہ راستے بدلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے آنکھ سے نہ ہٹنا تم آنکھ کے جھپکنے تک آنکھ کے جھپکنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خشک بھی نہ ہو پائی روشنائی حرفوں کی جان من مکرنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے فرد کی نہیں ہے یہ بات ہے قبیلے کی گر کے پھر سنبھلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے درد کی کہانی کو عشق کے فسانے کو داستان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے دستکیں بھی دینے پر در اگر نہ کھلتا ہو سیڑھیاں اترنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خواہشیں پرندوں سے لاکھ ملتی جلتی ہوں دوست پر نکلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے عمر بھر کی مہلت تو وقت ہے تعارف کا زندگی سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنگ یوں تو ہوتے ہیں بادلوں کے اندر ہی پر دھنک کے بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ان کی اور پھولوں کی ایک سی ردائیں ہیں تتلیاں پکڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے زلزلے کی صورت میں عشق وار کرتا ہے سوچنے سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے بھیڑ وقت لیتی ہے رہنما پرکھنے میں کاروان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وش کا حسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے مستقل نہیں امجدؔ یہ دھواں مقدر کا لکڑیاں سلگنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے

غزل · Ghazal

kitni sarkash bhi ho sar-phiri ye havaa rakhnaa raushan diyaa

کتنی سرکش بھی ہو سرپھری یہ ہوا رکھنا روشن دیا رات جب تک رہے اے مرے ہم نوا رکھنا روشن دیا روشنی کا وظیفہ نہیں وہ چلے راستہ دیکھ کر وہ تو آزاد ہے مثل موج صبا رکھنا روشن دیا رات کیسی بھی ہو خوف کے چور کی گھات کیسی بھی ہو اپنی امید کا اپنے وشواس کا رکھنا روشن دیا شب کی بے انت ظلمت سے لڑ سکتی ہے ایک ننھی سی لو راہ بھولے ہوؤں کو ہے بانگ درا رکھنا روشن دیا آشنا کی صدا گھپ اندھیرے میں بن جاتی ہے روشنی اس شب تار میں اپنی آواز کا رکھنا روشن دیا روشنی کی شریعت میں روز ازل سے یہی درج ہے جوت سے جوت جلتی رہے گی سدا رکھنا روشن دیا مجھ سے امجدؔ کہا جھلملاتے ہوئے اختر شام نے اس کو آنا ہی ہے وہ ضرور آئے گا رکھنا روشن دیا

غزل · Ghazal

paspaa hui sipaah to parcham bhi ham hi the

پسپا ہوئی سپاہ تو پرچم بھی ہم ہی تھے حیرت کی بات یہ ہے کہ برہم بھی ہم ہی تھے گرنے لگے جو سوکھ کے پتے تو یہ کھلا گلشن تھے ہم جو آپ تو موسم بھی ہم ہی تھے ہم ہی تھے تیرے وصل سے محروم عمر بھر لیکن تیرے جمال کے محرم بھی ہم ہی تھے منزل کی بے رخی کے گلہ مند تھے ہمیں ہر راستے میں سنگ مجسم بھی ہم ہی تھے اپنی ہی آستیں میں تھا خنجر چھپا ہوا امجدؔ ہر ایک زخم کا مرہم بھی ہم ہی تھے

غزل · Ghazal

auron kaa thaa bayaan to mauj sadaa rahe

اوروں کا تھا بیان تو موج صدا رہے خود عمر بھر اسیر لب مدعا رہے مثل حباب بحر غم حادثات میں ہم زیر بار منت آب و ہوا رہے ہم اس سے اپنی بات کا مانگیں اگر جواب لہروں کا پیچ و خم وہ کھڑا دیکھتا رہے آیا تو اپنی آنکھ بھی اپنی نہ بن سکی ہم سوچتے تھے اس سے کبھی سامنا رہے گلشن میں تھے تو رونق رنگ چمن بنے جنگل میں ہم امانت باد صبا رہے سرخی بنے تو خون شہیداں کا رنگ تھے روشن ہوئے تو مشعل راہ بقا رہے امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے

غزل · Ghazal

dar-e-kaaenaat jo vaa kare usi aagahi ki talaash hai

در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مرے کام کی وہ جو ایک آن میں پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مرے دل کو لگتے ہیں بوجھ سے وہ جو اپنے آپ میں مست ہوں مجھے اس ہنسی کی تلاش ہے یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے

غزل · Ghazal

tashhir apne dard ki har su karaaiye

تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے جی چاہتا ہے منت طفلاں اٹھائیے خوشبو کا ہاتھ تھام کے کیجے تلاش رنگ پاؤں کے نقش دیکھ کے رستہ بنائیے پھر آج پتھروں سے ملاقات کیجیے پھر آج سطح آب پہ چہرے بنائیے ہر انکشاف درد کے پردے میں آئے گا گر ہو سکے تو خود سے بھی خود کو چھپائے پھولوں کا راستہ نہیں یارو مرا سفر پاؤں عزیز ہیں تو ابھی لوٹ جائیے کب تک حنا کے نام پہ دیتے رہیں لہو کب تک نگار درد کو دلہن بنائیے امجدؔ متاع عمر ذرا دیکھ بھال کے ایسا نہ ہو کہ بعد میں آنسو بہائیے

Similar Poets