"ye jo hasil hamen har shai ki faravani hai ye bhi to apni jagah ek pareshani hai"

Amjad Islam Amjad
Amjad Islam Amjad
Amjad Islam Amjad
Sherشعر
See all 64 →ye jo hasil hamen har shai ki faravani hai
یہ جو حاصل ہمیں ہر شے کی فراوانی ہے یہ بھی تو اپنی جگہ ایک پریشانی ہے
chehre pe mire zulf ko phailao kisi din
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
us ke lahje men barf thi lekin
اس کے لہجے میں برف تھی لیکن چھو کے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے
kya ho jaata hai in hanste jiite jagte logon ko
کیا ہو جاتا ہے ان ہنستے جیتے جاگتے لوگوں کو بیٹھے بیٹھے کیوں یہ خود سے باتیں کرنے لگتے ہیں
baDe sukun se Duube the Dubne vaale
بڑے سکون سے ڈوبے تھے ڈوبنے والے جو ساحلوں پہ کھڑے تھے بہت پکارے بھی
vo tire nasib ki barishen kisi aur chhat pe baras ga.iin
وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں دل بے خبر مری بات سن اسے بھول جا اسے بھول جا
Popular Sher & Shayari & Quotes
131 total"chehre pe mire zulf ko phailao kisi din kya roz garajte ho baras jaao kisi din"
"us ke lahje men barf thi lekin chhu ke dekha to haath jalne lage"
"kya ho jaata hai in hanste jiite jagte logon ko baiThe baiThe kyuun ye khud se baten karne lagte hain"
"baDe sukun se Duube the Dubne vaale jo sahilon pe khaDe the bahut pukare bhi"
"vo tire nasib ki barishen kisi aur chhat pe baras ga.iin dil-e-be-khabar miri baat sun use bhuul ja use bhuul ja"
itne khadshe nahin hain raston mein
jis qadar khvaahish-e-safar mein hain
vo tire nasib ki baarishein kisi aur chhat pe baras gaiin
dil-e-be-khabar miri baat sun use bhuul jaa use bhuul jaa
kahaan aa ke rukne the raaste kahaan moD thaa use bhuul jaa
vo jo mil gayaa use yaad rakh jo nahin milaa use bhuul jaa
jaise baarish se dhule sehn-e-gulistaan 'amjad'
aankh jab khushk hui aur bhi chehraa chamkaa
guzrein jo mere ghar se to ruk jaaein sitaare
is tarah miri raat ko chamkaao kisi din
sadiyaan jin mein zinda hon vo sach bhi marne lagte hain
dhuup aankhon tak aa jaae to khvaab bikharne lagte hain
Ghazalغزل
duriyaan simaTne mein der kuchh to lagti hai
دوریاں سمٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنجشوں کے مٹنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہجر کے دوراہے پر ایک پل نہ ٹھہرا وہ راستے بدلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے آنکھ سے نہ ہٹنا تم آنکھ کے جھپکنے تک آنکھ کے جھپکنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے حادثہ بھی ہونے میں وقت کچھ تو لیتا ہے بخت کے بگڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خشک بھی نہ ہو پائی روشنائی حرفوں کی جان من مکرنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے فرد کی نہیں ہے یہ بات ہے قبیلے کی گر کے پھر سنبھلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے درد کی کہانی کو عشق کے فسانے کو داستان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے دستکیں بھی دینے پر در اگر نہ کھلتا ہو سیڑھیاں اترنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے خواہشیں پرندوں سے لاکھ ملتی جلتی ہوں دوست پر نکلنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے عمر بھر کی مہلت تو وقت ہے تعارف کا زندگی سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے رنگ یوں تو ہوتے ہیں بادلوں کے اندر ہی پر دھنک کے بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ان کی اور پھولوں کی ایک سی ردائیں ہیں تتلیاں پکڑنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے زلزلے کی صورت میں عشق وار کرتا ہے سوچنے سمجھنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے بھیڑ وقت لیتی ہے رہنما پرکھنے میں کاروان بننے میں دیر کچھ تو لگتی ہے ہو چمن کے پھولوں کا یا کسی پری وش کا حسن کے سنورنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے مستقل نہیں امجدؔ یہ دھواں مقدر کا لکڑیاں سلگنے میں دیر کچھ تو لگتی ہے
kitni sarkash bhi ho sar-phiri ye havaa rakhnaa raushan diyaa
کتنی سرکش بھی ہو سرپھری یہ ہوا رکھنا روشن دیا رات جب تک رہے اے مرے ہم نوا رکھنا روشن دیا روشنی کا وظیفہ نہیں وہ چلے راستہ دیکھ کر وہ تو آزاد ہے مثل موج صبا رکھنا روشن دیا رات کیسی بھی ہو خوف کے چور کی گھات کیسی بھی ہو اپنی امید کا اپنے وشواس کا رکھنا روشن دیا شب کی بے انت ظلمت سے لڑ سکتی ہے ایک ننھی سی لو راہ بھولے ہوؤں کو ہے بانگ درا رکھنا روشن دیا آشنا کی صدا گھپ اندھیرے میں بن جاتی ہے روشنی اس شب تار میں اپنی آواز کا رکھنا روشن دیا روشنی کی شریعت میں روز ازل سے یہی درج ہے جوت سے جوت جلتی رہے گی سدا رکھنا روشن دیا مجھ سے امجدؔ کہا جھلملاتے ہوئے اختر شام نے اس کو آنا ہی ہے وہ ضرور آئے گا رکھنا روشن دیا
paspaa hui sipaah to parcham bhi ham hi the
پسپا ہوئی سپاہ تو پرچم بھی ہم ہی تھے حیرت کی بات یہ ہے کہ برہم بھی ہم ہی تھے گرنے لگے جو سوکھ کے پتے تو یہ کھلا گلشن تھے ہم جو آپ تو موسم بھی ہم ہی تھے ہم ہی تھے تیرے وصل سے محروم عمر بھر لیکن تیرے جمال کے محرم بھی ہم ہی تھے منزل کی بے رخی کے گلہ مند تھے ہمیں ہر راستے میں سنگ مجسم بھی ہم ہی تھے اپنی ہی آستیں میں تھا خنجر چھپا ہوا امجدؔ ہر ایک زخم کا مرہم بھی ہم ہی تھے
auron kaa thaa bayaan to mauj sadaa rahe
اوروں کا تھا بیان تو موج صدا رہے خود عمر بھر اسیر لب مدعا رہے مثل حباب بحر غم حادثات میں ہم زیر بار منت آب و ہوا رہے ہم اس سے اپنی بات کا مانگیں اگر جواب لہروں کا پیچ و خم وہ کھڑا دیکھتا رہے آیا تو اپنی آنکھ بھی اپنی نہ بن سکی ہم سوچتے تھے اس سے کبھی سامنا رہے گلشن میں تھے تو رونق رنگ چمن بنے جنگل میں ہم امانت باد صبا رہے سرخی بنے تو خون شہیداں کا رنگ تھے روشن ہوئے تو مشعل راہ بقا رہے امجدؔ در نگار پہ دستک ہی دیجئے اس بے کراں سکوت میں کچھ غلغلہ رہے
dar-e-kaaenaat jo vaa kare usi aagahi ki talaash hai
در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مرے کام کی وہ جو ایک آن میں پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مرے دل کو لگتے ہیں بوجھ سے وہ جو اپنے آپ میں مست ہوں مجھے اس ہنسی کی تلاش ہے یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے
tashhir apne dard ki har su karaaiye
تشہیر اپنے درد کی ہر سو کرائیے جی چاہتا ہے منت طفلاں اٹھائیے خوشبو کا ہاتھ تھام کے کیجے تلاش رنگ پاؤں کے نقش دیکھ کے رستہ بنائیے پھر آج پتھروں سے ملاقات کیجیے پھر آج سطح آب پہ چہرے بنائیے ہر انکشاف درد کے پردے میں آئے گا گر ہو سکے تو خود سے بھی خود کو چھپائے پھولوں کا راستہ نہیں یارو مرا سفر پاؤں عزیز ہیں تو ابھی لوٹ جائیے کب تک حنا کے نام پہ دیتے رہیں لہو کب تک نگار درد کو دلہن بنائیے امجدؔ متاع عمر ذرا دیکھ بھال کے ایسا نہ ہو کہ بعد میں آنسو بہائیے





