SHAWORDS
Amjad Najmi

Amjad Najmi

Amjad Najmi

Amjad Najmi

poet
13Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

13 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

دیکھ کر ہم کو اسیر آرزو اور بھی وہ ہو گئے بیگانہ خو پھاڑ ڈالا دست وحشت نے جسے پھر کریں کیا اس گریباں کا رفو پھر سجاؤ محفل دار و رسن مضطرب ہے پھر زبان گفتگو گر زیادہ سے زیادہ ہوں گنہ کم نہیں ہے آیت‌ لا‌ تقنطو مجھ کو ڈر لگتا ہے اپنے شہر میں ہیں بہت اونچے یہاں کے کاخ و کو جب بھی رت آتی ہے پت جھڑ کی یہاں چوس لیتی ہے بہاروں کا لہو رہ کے نجمیؔ نے پس پردہ یہاں کر دیا ہے سب کو محو جستجو

dekh kar ham ko asir-e-aarzu

غزل · Ghazal

بلبل رنگیں نوا خاموش ہے باغ کی ساری فضا خاموش ہے گل کھلائے اس نے کیا کیا باغ میں پھر بھی کس درجہ صبا خاموش ہے آرزو جن کی تھی مجھ کو مل گئے اب زبان التجا خاموش ہے بے کسی یہ کس نے لی تیری پناہ گور کا کس کی دیا خاموش ہے شورش دل شورش محشر نہیں زندگی اپنی بھی کیا خاموش ہے سوچتی ہے جا کے یہ برسے کہاں میرے اشکوں کی گھٹا خاموش ہے کس کو جینے کی تمنا ہے یہاں کیوں لب معجزنما خاموش ہے حسن دل کش کا بھی کیا انداز ہے ناز گویا ہے ادا خاموش ہے ہے یہاں نجمیؔ اسی کا شور و غل گو بظاہر وہ صدا خاموش ہے

bulbul-e-rangin-navaa khaamosh hai

غزل · Ghazal

ترانۂ غم پنہاں ہے ہر خوشی اپنی کہ ایک درد مسلسل ہے زندگی اپنی بہل نہ جائے کہیں یہ دل خزاں مانوس بہار آ کے دکھاتی ہے دل کشی اپنی کسی کے چہرۂ زیبا سے اس کو کیا نسبت یوں ہی بکھیرا کرے چاند چاندنی اپنی شعور چاک گریباں کدھر ہے دامن یار جنوں کی حد سے ملی جا کے عاشقی اپنی بتا کہ یہ بھی کوئی شان بے نیازی ہے سنی نہ ہائے کوئی تو نے گفتنی اپنی

taraana-e-gham-e-pinhaan hai har khushi apni

غزل · Ghazal

سوز ہے دل کے داغ میں اب تک روشنی ہے چراغ میں اب تک زلف مشکیں تھی مہرباں کس کی بو بسی ہے دماغ میں اب تک تشنہ کاموں کو اس سے کیا حاصل مے دھری ہے ایاغ میں اب تک ہائے آوارگیٔ باد صبا ہے یہ کس کے سراغ میں اب تک گو خزاں کا بھی دور دورہ ہے پھول کھلتے ہیں باغ میں اب تک روز و شب مارے مارے پھرتے ہیں ہم تلاش فراغ میں اب تک یہ بھی بجھ جائے گی کبھی نجمیؔ روشنی ہے چراغ میں اب تک

soz hai dil ke daagh mein ab tak

غزل · Ghazal

مجھے یہ ڈر ہے ہر ہر عضو میرا دل نہ بن جائے محبت کا یہ عقدہ عقدۂ مشکل نہ بن جائے یہ سوز شمع روشن اور یہ ساز خون پروانہ کسی کا جلوہ پھر رنگینیٔ محفل نہ بن جائے تلاش کعبہ مقصود میں یہ گرم رفتاری مرا ہر ہر قدم سنگ رہ منزل نہ بن جائے عجب کیا ہے کہ روز حشر یہ تر دامنی نجمیؔ ہماری مزرع امید کا حاصل نہ بن جائے

mujhe ye Dar hai har har uzv meraa dil na ban jaae

غزل · Ghazal

سرگزشت غم کو محتاج بیاں پاتا ہوں میں کیوں زبان شوق کو اب بے زباں پاتا ہوں میں ہے وہی کیفیت بے تابئ موج نظر حسن کے جلوؤں کو بحر‌ بیکراں پاتا ہوں میں داستان عشق میری زینت کون و مکاں جس کے کچھ ٹکڑے یہاں اور کچھ وہاں پاتا ہوں میں عشق بن کر کھولتا ہوں حسن کے سربستہ راز فطرت عالم کا خود کو ترجماں پاتا ہوں میں اپنی ہستی کا مجھے احساس جب سے ہو چلا سر کو اپنے دوش پر بار گراں پاتا ہوں میں ہر شکست آرزو ہے تازہ تر تمہید شوق اور کچھ اب اپنی ہمت کو جواں پاتا ہوں میں خضر رہ بنتا چلا ہر سنگ زیر پا مرا ٹھوکریں کھا کھا کے منزل کا نشاں پاتا ہوں میں ماورائے قید رنگ و بو ہے امکان نگاہ دامن صحرا میں حسن گلستاں پاتا ہوں میں کس قدر اونچی ہے نجمیؔ میری پرواز خیال ہر زمین شعر کو اب آسماں پاتا ہوں میں

sarguzisht-e-gham ko mohtaaj-e-bayaan paataa huun main

Similar Poets