SHAWORDS
Anwar Jamal Anwar

Anwar Jamal Anwar

Anwar Jamal Anwar

Anwar Jamal Anwar

poet
11Sher
11Shayari
6Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

chaDhte tufaan ko saahil se guzarnaa thaa miyaan

چڑھتے طوفان کو ساحل سے گزرنا تھا میاں ریت کے گھر کو بہرحال بکھرنا تھا میاں کب تلک پاؤں کو توڑے ہوئے بیٹھا رہتا راہ دشوار سے رہرو کو گزرنا تھا میاں اتنے مانوس تھے صیاد سے جاتے نہ کہیں قید میں پر نہ پرندوں کے کترنا تھا میاں جب نہ سمجھے تو پھر اب چھیڑ کے پچھتانا کیا چشم نمناک میں ابلا ہوا جھرنا تھا میاں عشق کے گہرے سمندر میں گئے کیوں انورؔ اتھلے پانی میں اگر ڈوب کے مرنا تھا میاں

غزل · Ghazal

dard-e-dil ki davaa hai maah-e-nau

درد دل کی دوا ہے ماہ نو آسماں پر کھلا ہے ماہ نو میری ہی طرح تیرا بھی ان سے کیا کوئی واسطہ ہے ماہ نو ان کا چہرہ دکھائی دیتا ہے کیا کوئی آئنہ ہے ماہ نو مسکراتا ہے دیکھ کر ہم کو جیسے سب جانتا ہے ماہ نو دن کو سوتا ہے وہ نہ جانے کہاں رات کو جاگتا ہے ماہ نو رہ کے میری طرح سے چپ انورؔ جانے کیا سوچتا ہے ماہ نو

غزل · Ghazal

raat kaa kyaa zikr hai shaam-o-sahar aayaa nahin

رات کا کیا ذکر ہے شام و سحر آیا نہیں کون سا الزام ہے جو میرے سر آیا نہیں یوں تو راہ بے خطر میں رہنما ملتے رہے پر خطر راہوں میں کوئی راہبر آیا نہیں کون جانے کس کے ڈر سے آج پھر میرا رفیق چاہتا تھا میرے گھر آنا مگر آیا نہیں اس قدر قربت بڑھی ہر نقش دھندلا ہو گیا وہ تھا میرے سامنے لیکن نظر آیا نہیں دل کو کیا کہئے کہ وہ قاتل کے گھر خود ہی گیا لاکھ کوشش کی مگر وہ راہ پر آیا نہیں لاکھ اندیشوں نے انورؔ گھیر رکھا ہے مجھے رات سر پر آ گئی اور نامہ بر آیا نہیں

غزل · Ghazal

zindagi apni khvaab jaisi hai

زندگی اپنی خواب جیسی ہے خوب رو بے نقاب جیسی ہے صحن گلشن میں آپ کی ہستی شاخ پر ایک گلاب جیسی ہے کبھی ڈوبی ہے اور کبھی ابھری عاشقی بھی حباب جیسی ہے ہوش میں رہ کے بھی ہے بے ہوشی زیست اپنی شراب جیسی ہے ان کی شوخی تو ہے بہار چمن سادگی محو خواب جیسی ہے ہے کرشمہ یہ ان کی آنکھوں کا خامشی بھی خطاب جیسی ہے گزرے لمحوں کے ساتھ ساتھ انورؔ زندگی انقلاب جیسی ہے

غزل · Ghazal

be-ghar thaa phir chhoD gayaa ghar jaane kyuun

بے گھر تھا پھر چھوڑ گیا گھر جانے کیوں پار کیا ہے سات سمندر جانے کیوں آنکھیں حیراں دل ویراں ہیں چہرے زرد چیخ رہا ہے منظر منظر جانے کیوں آنکھوں میں مظلوموں کے بس آنسو ہیں فکر میں ہے ہر ایک ستم گر جانے کیوں تپتی ریت جھلستے سائے تند ہوا گھر سے نکلا موم کا پیکر جانے کیوں پھول سا چہرہ جھیل سی اس کی آنکھیں ہیں یاد آتا ہے مجھ کو اکثر جانے کیوں آتے جاتے سب سے باتیں کرتا تھا چپ بیٹھا ہے آج قلندر جانے کیوں میری غزلیں سن کر انورؔ چاہت سے دیکھتا ہے ہر ایک سخنور جانے کیوں

غزل · Ghazal

zamaana uf ye kaisaa ho rahaa hai

زمانہ اف یہ کیسا ہو رہا ہے جو سیدھا تھا وہ الٹا ہو رہا ہے اب اہل علم میں تاریکیاں ہیں جہالت میں سویرا ہو رہا ہے وہاں پر زندگی کیسے بچے گی جہاں قاتل مسیحا ہو رہا ہے بشر کا مقصد تخلیق دیکھو اسے ہونا تھا کیا کیا ہو رہا ہے یہ ہے تقلید مغرب کا نتیجہ جدا مسلم سے پردہ ہو رہا ہے ہماری راست گوئی کام آئی وفا ہونا تھا وعدہ ہو رہا ہے جمال فکر و فن کا تیرے انورؔ سخن دانوں میں چرچا ہو رہا ہے

Similar Poets