SHAWORDS
Anwar Sabri

Anwar Sabri

Anwar Sabri

Anwar Sabri

poet
31Shayari
25Ghazal

Popular Shayari

31 total

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

ان کی محفل میں ہمیشہ سے یہی دیکھا رواج آنکھ سے بیمار کرتے ہیں تبسم سے علاج میں جو رویا ان کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے حسن کی فطرت میں شامل ہے محبت کا مزاج میری خاطر خود اٹھاتے ہیں وہ تکلیف کرم کون رکھتا ورنہ مجھ جیسے گنہ گاروں کی لاج میرے ہونے اور نہ ہونے پر ہی کیا موقوف ہے موت پر ان کی حکومت زندگی پر ان کا راج اف وہ عارض جس کے جلووں پر فدا مہر مبیں آہ وہ لب جن کو دیتے ہیں مہ و انجم خراج میں ہوں انورؔ ان کی ذات پاک کا ادنیٰ غلام ہے سر اقدس پہ جن کے رحمت یزداں کا تاج

un ki mahfil mein hamesha se yahi dekhaa rivaaj

غزل · Ghazal

لب پہ کانٹوں کے ہے فریاد و بکا میرے بعد کوئی آیا ہی نہیں آبلہ پا میرے بعد میرے دم تک ہی رہا ربط نسیم و رخ گل نکہت آمیز نہیں موج صبا میرے بعد اب نہ وہ رنگ جبیں ہے نہ بہار عارض لالہ رویوں کا عجب حال ہوا میرے بعد چند سوکھے ہوئے پتے ہیں چمن میں رقصاں ہائے بیگانگی آب و ہوا میرے بعد منہ دھلاتی نہیں غنچوں کا عروس شبنم گرد آلود ہے کلیوں کی قبا میرے بعد آدمیت شکنی بھی تو نہیں کم انورؔ ڈر ہے کچھ اور نہ ہو اس کے سوا میرے بعد

lab pe kaanTon ke hai fariyaad-o-bukaa mere baad

غزل · Ghazal

عطائے غم پہ بھی خوش ہوں مری خوشی کیا ہے رضا طلب جو نہیں ہے وہ بندگی کیا ہے تری نگاہ کی نقاشی حسیں کے سوا تو ہی بتا مرا مفہوم زندگی کیا ہے ستم شعار جفا آشنا وفا دشمن یہ ننگ عظمت آدم ہے آدمی کیا ہے ترا تصور رنگیں اگر نہ ہو شامل بہار گلشن امکاں میں دل کشی کیا ہے زمانہ آپ کا کہتا ہے جس کو عکس جمیل نظر اٹھا کے تو دیکھو یہ چاندنی کیا ہے تمام عمر قفس میں گزار دی ہم نے خبر نہیں کہ نشیمن کی زندگی کیا ہے

ataa-e-gham pe bhi khush huun miri khushi kyaa hai

غزل · Ghazal

دور حاضر ہو گیا ہے اس قدر کم آشنا آشنا ہمدم ہے کوئی اب نہ ہمدم آشنا آہ کس منزل پہ پہنچی ہیں مری تنہائیاں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا مجھے غم آشنا مختصر یہ ہے مرے قلب و نظر کی داستاں آشنائے درد دل ہے آنکھ ہے نم آشنا اللہ اللہ یہ فضائے دشمن مہر و وفا آشنا کے نام سے ہوتا ہے برہم آشنا عمر بھر انورؔ رہوں گا آرزو کا سوگوار مرگ ارماں پر ازل سے ہوں میں ماتم آشنا

daur-e-haazir ho gayaa hai is qadar kam-aashnaa

غزل · Ghazal

انقلاب سحر و شام الٰہی توبہ اثر گردش ایام الٰہی توبہ فطرت بادۂ رنگیں میں نہیں کیف و نشاط رند ہیں مورد الزام الٰہی توبہ صحن گلشن میں بہاروں نے بچھا رکھے ہیں لالہ و گل کے حسیں دام الٰہی توبہ عالم نزع میں پلکوں پہ لرزتے آنسو عشق کا آخری پیغام الٰہی توبہ گلشن فکر پہ انورؔ ہے گراں بار مزاج شعر کی بارش الہام الٰہی توبہ

inqilaab-e-sahar-o-shaam ilaahi tauba

غزل · Ghazal

وہ نیچی نگاہیں وہ حیا یاد رہے گی مل کر بھی نہ ملنے کی ادا یاد رہے گی ممکن ہے مرے بعد بھلا دیں مجھے لیکن تا عمر انہیں میری وفا یاد رہے گی جب میں ہی نہیں یاد رفیقان سفر کو حیراں ہوں کہ منزل انہیں کیا یاد رہے گی کچھ یاد رہے یا نہ رہے ذکر گلستاں غنچوں کے چٹکنے کی صدا یاد رہے گی محروم رہے اہل چمن نکہت گل سے بیگانگی موج صبا یاد رہے گی پلکوں پہ لرزتے رہے انورؔ جو شب غم مجھ کو انہیں تاروں کی ضیا یاد رہے گی

vo nichi nigaahein vo hayaa yaad rahegi

Similar Poets