"Dubo.e deta hai khud-agahi ka baar mujhe main Dhalta nashsha huun mauj-e-tarab ubhar mujhe"

Anwar Siddiqui
Anwar Siddiqui
Anwar Siddiqui
Sherشعر
Dubo.e deta hai khud-agahi ka baar mujhe
ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے میں ڈھلتا نشہ ہوں موج طرب ابھار مجھے
saari shafaq sameT ke suraj chala gaya
ساری شفق سمیٹ کے سورج چلا گیا اب کیا رہا ہے موج شب تار کے سوا
bikhar ke TuuT ga.e ham bikharti duniya men
بکھر کے ٹوٹ گئے ہم بکھرتی دنیا میں خود آفرینی کا سودا ہمارے سر میں تھا
ujalti nahin ab mujh ko koi tariki
اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کو
kitne subuk-dil hue tujh se bichhaDne ke ba.ad
کتنے سبک دل ہوئے تجھ سے بچھڑنے کے بعد ان سے بھی ملنا پڑا جن سے محبت نہ تھی
Popular Sher & Shayari
10 total"saari shafaq sameT ke suraj chala gaya ab kya raha hai mauj-e-shab-e-tar ke siva"
"bikhar ke TuuT ga.e ham bikharti duniya men khud-afrini ka sauda hamare sar men tha"
"ujalti nahin ab mujh ko koi tariki sanvarta nahin ab koi hadsa mujh ko"
"kitne subuk-dil hue tujh se bichhaDne ke ba.ad un se bhi milna paDa jin se mohabbat na thi"
ujaalti nahin ab mujh ko koi taariki
sanvaartaa nahin ab koi haadsa mujh ko
Duboe detaa hai khud-aagahi kaa baar mujhe
main Dhaltaa nashsha huun mauj-e-tarab ubhaar mujhe
saari shafaq sameT ke suraj chalaa gayaa
ab kyaa rahaa hai mauj-e-shab-e-taar ke sivaa
bikhar ke TuuT gae ham bikharti duniyaa mein
khud-aafrini kaa saudaa hamaare sar mein thaa
kitne subuk-dil hue tujh se bichhaDne ke baad
un se bhi milnaa paDaa jin se mohabbat na thi
Ghazalغزل
kyaa shahr mein hai garmi-e-baazaar ke sivaa
کیا شہر میں ہے گرمئ بازار کے سوا سب اجنبی ہیں ایک دل زار کے سوا اس دشت بے خودی میں کہ دنیا کہیں جسے غافل سبھی ہیں اک نگۂ یار کے سوا چہروں کے چاند راکھ ہوئے بام بجھ گئے کچھ بھی بچا نہ حسرت دیدار کے سوا عالم تمام تیرگئ درد مضمحل ہاں اک فروغ شعلۂ رخسار کے سوا ساری شفق سمیٹ کے سورج چلا گیا اب کیا رہا ہے موج شب تار کے سوا جس سمت دیکھیے ہے صلیبوں کی اک قطار کوئی افق نہیں افق دار کے سوا
azaab-e-ham-safari se gurez thaa mujh ko
عذاب ہم سفری سے گریز تھا مجھ کو پکارتا رہا اک ایک قافلا مجھ کو میں اپنی لوٹتی آواز کے حصار میں تھا وہ لمحہ جب تری آواز نے چھوا مجھ کو یہ کس نے چھین لیے مجھ سے خوشبوؤں کے مکاں یہ کون دشت کی دیوار کر گیا مجھ کو اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کو بجھا بجھا سر محراب دور بیٹھا تھا کوئی چراغ سمجھ کر جلا گیا مجھ کو میں کیسے اپنے بکھرنے کا تجھ کو دوں الزام زمانا خود ہی بکھرتا ہوا ملا مجھ کو
meri nazar ke liye koi rivaayat na thi
میری نظر کے لیے کوئی روایت نہ تھی سب کی طرح دیکھنا جبر تھا عادت نہ تھی ایسا لگا جیسے میں منظر مانوس تھا اس کی نگاہوں میں کل شوخیٔ حیرت نہ تھی میرے شب و روز تھے میری صدی کی طرح کون سا لمحہ تھا وہ جس میں قیامت نہ تھی پیرہن جسم و جاں زخم ستم تھا تمام کیسا ستم گر تھا وہ کوئی جراحت نہ تھی کب کسی دیوار سے سیل تمنا رکا گرم لہو کی کبھی کوئی شریعت نہ تھی کتنے سبک دل ہوئے تجھ سے بچھڑنے کے بعد ان سے بھی ملنا پڑا جن سے محبت نہ تھی
Duboe detaa hai khud-aagahi kaa baar mujhe
ڈبوئے دیتا ہے خود آگہی کا بار مجھے میں ڈھلتا نشہ ہوں موج طرب ابھار مجھے اے روح عصر میں تیرا ہوں تیرا حصہ ہوں خود اپنا خواب سمجھ کر ذرا سنوار مجھے بکھر کے سب میں عبث انتظار ہے اپنا جلا کے خاک کر اے شمع انتظار مجھے صدائے رفتہ سہی لوٹ کر میں آؤں گا فراز خواب سے اے زندگی پکار مجھے عذاب یہ ہے کہ مجھے جیسے پھول اور بھی ہیں صلیب شاخ سے دست خزاں اتار مجھے غریب شہر نوا ہی سہی مگر یارو بہت ہے اپنی ہی آواز کا دیار مجھے
hujum shoala mein thaa halqa-e-sharar mein thaa
ہجوم شعلہ میں تھا حلقۂ شرر میں تھا کب اپنا خواب میں کوئی سایۂ شجر میں تھا میں آج پھر تجھے کیا دیکھ پاؤں گا دنیا وہ شخص دیر تلک آج پھر نظر میں تھا سیہ فضاؤں میں اونچی اڑان سے پہلے کرن کرن کا اجالا سا بال و پر میں تھا خنک فضاؤں میں اس دشت غم کے آنے تک ہمارے ساتھ کوئی اور بھی سفر میں تھا شرر شرر تھے جو لمحے حسین لگتے تھے جو لطف تھا بھی تو کچھ قرب مختصر میں تھا بکھر کے ٹوٹ گئے ہم بکھرتی دنیا میں خود آفرینی کا سودا ہمارے سر میں تھا





