mujhe kisi ne sunaa hi nahin tavajjoh se
main bad-zabaan sadaa-e-karakht huun shaayad

Aqeel Shadab
Aqeel Shadab
Aqeel Shadab
Popular Shayari
17 totalgumaan hi asaasa thaa yaqin kaa
yaqin hi gumaan mein nahin rahaa
huaa jo sahl us ke ghar kaa raasta
maza hi kuchh takaan mein nahin rahaa
har ek lamha saron pe hai saaneha aisaa
har ek saans guzarti hai haadsaat aisi
jo apne aap se baDh kar hamaaraa apnaa thaa
use qarib se dekhaa to duur kaa niklaa
hai lafz-o-maani kaa rishta zavaal-aamaada
khayaal paidaa huaa bhi na thaa ki mar bhi gayaa
thaa jis pe meri zindagi kaa inhisaar
usi kaa naam dhyaan mein nahin rahaa
shaayad koi kami mere andar kahin pe hai
main aasmaan pe huun miraa saaya zamin pe hai
aandhiyaan sab kuchh uDaa kar le gaiin
peD par patta na phal daaman mein thaa
main apne aap ko kis tarah sangsaar karun
mire khilaaf miraa dil agar gavaahi de
havas kaa rang chaDhaa us pe aur utar bhi gayaa
vo khud hi jama huaa aur khud bikhar bhi gayaa
khirad ki aag mein sadiyon jale badan lekin
dil-o-dimaagh se bu-e-munaafirat na gai
Ghazalغزل
اس کے ہوتے اٹھا سکا کب سر کوئی سرکا دے آکاش کی یہ چادر کوئی برس رہے ہیں سنگ ملامت ہر جانب کیسے نکلے اب گھر سے باہر کوئی اک دوجے کو کاٹ رہا ہے ہر رستہ کھڑا ہوا ہے چوراہے پر ہر کوئی کانچ کی کایا لے کر نکلا ہوں گھر سے آ نہ لگے بھولا بھٹکا پتھر کوئی چھوڑ گیا ردی کے داموں بکنے کو چاٹ گیا مجھ کو اکشر اکشر کوئی باہر ڈھونڈ رہے ہو تم کس دشمن کو چھپا ہوا ہے اپنے ہی اندر کوئی کوئی بھول چکا ہوگا شاید ہم کو یاد نہیں آتا ہے اب اکثر کوئی بلا رہا ہے جنگل جنگل سناٹا بھٹک رہا ہے تنہا نگر نگر کوئی کان لگائے آنکھ بچھائے بیٹھا ہوں گیا ہے جب سے آنے کو کہہ کر کوئی
us ke hote uThaa sakaa kab sar koi
1 views
ساتویں نمبر کی صورت وہ بھی پر اسرار تھا میں صفر کی طرح سب کچھ تھا مگر بیکار تھا ہر نفس اب تک مرے دل کی عجب حالت رہی موت سے ڈرتا بھی تھا جینے سے بھی بیزار تھا اک شناسا نا شناسائی تھی میرے ہر طرف میرا گھر میرے لیے تو گھر نہ تھا بازار تھا میری بربادی کا ضامن دوسرا کوئی نہیں میں کہ اپنے واہموں کا آپ ذمے دار تھا جسم ہی کیا روح تک زخموں سے چھلنی ہو گئی سانس کا رشتہ نہ تھا چلتی ہوئی تلوار تھا اب بھلا حاصل بھی کیا ہوگا بجز شرمندگی کیا کہوں شادابؔ کس سے برسر پیکار تھا
saatvein number ki surat vo bhi pur-asraar thaa
متاع و مال نہ دے دولت تباہی دے مجھے بھی مملکت غم کی بادشاہی دے کھڑا ہوا ہوں میں دست طلب دراز کئے نہ میرے سر کو یوں الزام کج کلاہی دے میں اپنے آپ کو کس طرح سنگسار کروں مرے خلاف مرا دل اگر گواہی دے میں ٹھہرے پانی کی مانند قید ہوں خود میں کوئی نشیب کی جانب مجھے بہا ہی دے مرے دنوں کو جواں جسم کا اجالا دے مری شبوں کو گھنی زلف کی سیاہی دے کبھی تو لذت کام و دہن دوبالا کر ہم ایسے فاقہ کشوں کو بھی مرغ و ماہی دے ہر ایک دور کے سقراط کا یہ ورثہ ہے مجھے بھی لا مری زہراب کی صراحی دے
mataa-o-maal na de daulat-e-tabaahi de
میرے ذہن و دل میں فکر و فن میں تھا نیم کا وہ پیڑ جو آنگن میں تھا جس پہ لکھا تھا مرا نام و نسب قید میں مٹی کے اس برتن میں تھا ایک وہ ہر دشت میں سیراب تھا ایک میں پیاسا ہر اک ساون میں تھا دیکھ کر بھی جو نہ دیکھا جا سکا عکس آرا وہ ہر اک درپن میں تھا کہہ نہ پایا جانے کیوں اک حرف بھی جانے کیا اس آدمی کے من میں تھا جس کو کوئی نام دے سکتا نہیں وہ بلاوا اس پرائے پن میں تھا آندھیاں سب کچھ اڑا کر لے گئیں پیڑ پر پتہ نہ پھل دامن میں تھا جا بجا قوس قزح کی چھوٹ تھی اک طلسم آباد پیراہن میں تھا چھین کر شادابؔ کوئی لے گیا اک انوکھا سکھ جو گھر آنگن میں تھا
mere zehn-o-dil mein fikr-o-fan mein thaa
اثر مری زبان میں نہیں رہا وہ تیر اب کمان میں نہیں رہا ہے پتھروں کا قرض اس کے دوش پر جو کانچ کے مکان میں نہیں رہا الاؤ سرد ہو گئے حیات کے رچاؤ داستان میں نہیں رہا تھا جس پہ میری زندگی کا انحصار اسی کا نام دھیان میں نہیں رہا گمان ہی اثاثہ تھا یقین کا یقین ہی گمان میں نہیں رہا ہوا جو سہل اس کے گھر کا راستہ مزہ ہی کچھ تکان میں نہیں رہا نہ کی کبھی بھی فکر میں نے سود کی کبھی بھی میں زیان میں نہیں رہا وہ کھو گیا غبار گرد راہ میں جو شخص امتحان میں نہیں رہا خموشیوں نے بھر دیا خلاؤں کو سخن وہ درمیان میں نہیں رہا تڑپ اٹھے جسے خریدنے کو دل وہ مال ہی دکان میں نہیں رہا
asar miri zabaan mein nahin rahaa
لباس گرد کا اور جسم نور کا نکلا تمام وہم ہی اپنے شعور کا نکلا جو اپنے آپ سے بڑھ کر ہمارا اپنا تھا اسے قریب سے دیکھا تو دور کا نکلا بدن کے پار اترتے ہی کھل گئیں آنکھیں سراغ تیرے سراپا سے طور کا نکلا سبھی نشانیاں اس شخص پر کھری اتریں جو بھول کر بھی کبھی ذکر حور کا نکلا اٹھے جو ہاتھ مری سنگساریوں کے لئے ہر ایک دست عنایت حضور کا نکلا نہ جانے بھول گیا کون کب کہاں لکھ کر مٹا سا نقش میں بین السطور کا نکلا جو دانہ دانہ فنا فصل آرزو کا ہوا تمام فتنہ ملخ اور مور کا نکلا گرفت فن سے نہ آزاد ہو سکا شادابؔ خیال تازہ کرشمہ بحور کا نکلا
libaas gard kaa aur jism nuur kaa niklaa





