jo mere gaanv ke kheton mein bhuuk ugne lagi
mire kisaanon ne shahron mein naukri kar li

Arif Shafiq
Arif Shafiq
Arif Shafiq
Popular Shayari
30 totalapne darvaaze pe khud hi dastakein detaa hai vo
ajnabi lahje mein phir vo puchhtaa hai kaun hai
kaisaa maatam kaisaa ronaa miTTi kaa
TuuT gayaa hai ek khilaunaa miTTi kaa
aksar sab ko rasta dene vaale log
meri tarah se khud pichhe rah jaate hain
puchhte hain log mujh se kyon miraa naam-o-nasab
soch lein paighambaron se silsila mil jaaegaa
aisaa na ho vo khud ko samajhne lage khudaa
itnaa bhi jhuknaa Thiik nahin iltimaas mein
aankhon mein jaag uTThe hain tanhaa shajar ke dukh
guldaan mein jo phuul saje dekhtaa huun main
us shakhs par bhi shahr ke kutte jhapaT paDe
roTi uThaa rahaa thaa jo kachre ke Dher se
kisi ki aankh se aansu bhi ponchh letaa kabhi
ghurur kartaa hai jo shakhs apne sajdon par
kyaa kabhi tu ne sach nahin bolaa
tere shaanon pe phir ye sar kyon hai
har ek haath mein hathyaar hon jahaan 'aarif'
mujhe qalam se vahaan inqalaab laanaa hai
jab koi ahm faisla karnaa
apne bachchon se mashvara karnaa
Ghazalغزل
بادباں کو گلہ ہواؤں سے اور مجھ کو ہے ناخداؤں سے دشمنوں سے بھی اب نہیں لڑتا پہلے لڑتا تھا میں ہواؤں سے گاؤں میں لگ رہا ہے پھر میلا بچے بچھڑیں گے کتنے ماؤں سے لوگ محنت کے بیچ بوئیں گے جب بھی فرصت ملی دعاؤں سے حبس سے بجھ گیا دیا گھر کا میں بچاتا رہا ہواؤں سے میرے کھیتوں کو اس دفعہ عارفؔ کتنی امید تھی گھٹاؤں سے
baadbaan ko gila havaaon se
اندھے عدم وجود کے گرداب سے نکل یہ زندگی بھی خواب ہے تو خواب سے نکل سورج سے اپنے بچھڑی ہوئی اک کرن ہے تو تیرا نصیب جسم کے برفاب سے نکل تو مٹی پانی آگ ہوا میں ہے قید کیوں ہونے کا دے جواز تب و تاب سے نکل پھولوں میں چاند تاروں میں سورج میں اس کو دیکھ ان پتھروں کے منبر و محراب سے نکل مرجھا نہ جائے دیکھ کہیں روح کا گلاب فانی جہاں کی وادئ شاداب سے نکل بن کے جزیرہ ابھرے گا کردار خود ترا خوش رنگ خواہشوں کے تو سیلاب سے نکل کہتی ہیں مجھ سے سوچ سمندر کی وسعتیں عارفؔ تو اپنی ذات کے تالاب سے نکل
andhe adam vajud ke girdaab se nikal
گھر سے چیخیں اٹھ رہی تھیں اور میں جاگا نہ تھا اتنی گہری نیند تو پہلے کبھی سویا نہ تھا نشۂ آوارگی جب کم ہوا تو یہ کھلا کوئی بھی رستہ مرے گھر کی طرف جاتا نہ تھا کیا گلہ اک دوسرے سے بے وفائی کا کریں ہم نے ہی اک دوسرے کو ٹھیک سے سمجھا نہ تھا گل نہ تھے جس میں وہ گلشن بھی تھا جنگل کی طرح گھر وہ قبرستان تھا جس میں کوئی بچہ نہ تھا آسماں پر تھا خدا تنہا مگر عارف شفیقؔ اس زمیں پر کوئی بھی میری طرح تنہا نہ تھا
ghar se chikhein uTh rahi thiin aur main jaagaa na thaa
کیسا ماتم کیسا رونا مٹی کا ٹوٹ گیا ہے ایک کھلونا مٹی کا اتروں گا آفاق سے جب میں دھرتی پر بھر لوں گا دامن میں سونا مٹی کا اک دن مٹی اوڑھ کے مجھ کو سونا ہے کیا غم جو ہے آج بچھونا مٹی کا اونچا اڑنے کی خواہش میں تم عارفؔ ماؤں جیسا پیار نہ کھونا مٹی کا
kaisaa maatam kaisaa ronaa miTTi kaa
جو جستجو کروں ہر راز پا بھی سکتا ہوں میں کائنات سے پردہ اٹھا بھی سکتا ہوں مرے بزرگوں نے بخشی ہے اک دعا ایسی بچھڑ گئے ہیں جو ان کو ملا بھی سکتا ہوں نہ کوئی زائچہ کھینچوں نہ دیکھوں ہاتھ ترا میں تیرے بارے میں سب کچھ بتا بھی سکتا ہوں بس ایک رات میں سجدے میں گر کے رویا تھا اب آسماں کو زمیں پر جھکا بھی سکتا ہوں ابھی تو سوچ سفر ہے ازل کی سمت مگر پلٹ کے سوئے ابد پھر سے جا بھی سکتا ہوں مجھے خدا نے وہ بخشا ہے شاعری کا ہنر جو خواب دیکھتا ہوں وہ دکھا بھی سکتا ہوں یہ مانتا ہوں کہ عارف ہوں کربلا سے دور مگر میں حر کی طرح سر کٹا بھی سکتا ہوں
jo justuju karun har raaz paa bhi saktaa huun
جب بھی دشمن بن کے اس نے وار کیا میں نے اپنے لہجے کو تلوار کیا میں نے اپنے پھول سے بچوں کی خاطر کاغذ کے پھولوں کا کاروبار کیا میری محنت کی قیمت کیا دے گا تو میں نے دشت و صحرا کو گلزار کیا میں فرہادؔ یا مجنوں کیسے بن جاتا میں شاعر تھا میں نے سب سے پیار کیا اس کی آنکھیں خواب سے بننے لگتی ہیں جب بھی میں نے چاہت کا اظہار کیا اپنے پیچھے آنے والوں کی خاطر میں نے ہر اک رستے کو ہموار کیا اس کے گھر کے سارے لوگ مخالف تھے پھر بھی عارفؔ اس نے مجھ سے پیار کیا
jab bhi dushman ban ke is ne vaar kiyaa





