SHAWORDS
Armaan Jodhpuri

Armaan Jodhpuri

Armaan Jodhpuri

Armaan Jodhpuri

poet
29Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

29 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

کھائی ہے جو قسم وہ ہمیں ہے قسم عزیز ارمانؔ کی قسم مجھے میرا صنم عزیز رکھے ہیں اس نے زیست میں جب سے قدم عزیز اس کے قدم عزیز خدا کی قسم عزیز ہنسنا سسکنا روٹھنا ملنا وہ بارہا ہر اک ادائیں آپ کی ہیں محترم عزیز انگلی جو کاٹ ڈالی ہے یوسف کو دیکھ کر اس مہ جبین مصر کی ہر اک قسم عزیز ہیں با شعور جو بھی وہ میرے عزیز ہیں کیسے کہوں میں آپ کو ہیں آپ کم عزیز شہر سخنوراں کا سخنور ہوں ادنیٰ سا میرا سخن عزیز ہے میرا قلم عزیز جو کچھ دیا ہے اس نے وہ دل سے قبول ہے ہر اک خوشی عزیز ہے ہر ایک غم عزیز کل رات میں نے آئنے سے پوچھ ہی لیا کتنے ہمیں عزیز ہیں کتنوں کو ہم عزیز

khaai hai jo qasam vo hamein hai qasam 'aziz

غزل · Ghazal

ہائے کیسا نگر اداسی کا ہر بشر ہم سفر اداسی کا قہقہوں تک میں آ کے بیٹھ گیا دیکھ لیجے اثر اداسی کا بیج ڈالے نہ کھاد ڈالی ہے اگ گیا خود شجر اداسی کا اک تو پہلے ہی غم کے مارے تھے اور اس پر ضرر اداسی کا چن کے اشعار میں پرویا ہے میں نے ہر اک گہر اداسی کا تیرے جانے کے بعد جانا ہے زندگی ہے سفر اداسی کا ہے اگر تو جواب دے کوئی کون ہے ہم سفر اداسی کا اے خدا بھیج دے کوئی رہزن لوٹے مجھ سے جو زر اداسی کا لوگ تو دل اداس رکھتے ہیں میں ہوں پورا بشر اداسی کا تم اگر آ سکو تو آ جاؤ جشن ہے میرے گھر اداسی کا

haae kaisaa nagar udaasi kaa

غزل · Ghazal

باغ بہشت زیست بنا کر چلا گیا جو بجھ گئے چراغ جلا کر چلا گیا ویسے تو اس کے پاس ذرا بھی سمے نہ تھا کچھ وقت پھر بھی ساتھ بتا کر چلا گیا اب تک سلگ رہا ہے یہ دل اس کے عشق میں وہ تو مزے سے آگ لگا کر چلا گیا آیا تھا چار دن کو مری زندگی میں وہ اور چار دن کا ساتھ نبھا کر چلا گیا عالم تھا غم گساری کا رنج و الم کا پھر تجویز غم رہائی سنا کر چلا گیا کیوں برقرار ہے مری نظروں کی تشنگی جب کے وہ جاں نثار تو آ کر چلا گیا یوں جلوہ ہائے حسن مجسم ہوئے عیاں اہل خرد کے ہوش اڑا کر چلا گیا توبہ رے آشیان تخیل پہ برہمی برق تپاں سے اس کو جلا کر چلا گیا آیا تھا وہ پلٹ کے ندامت کے واسطے دو چار باتیں اور سنا کر چلا گیا

baagh-e-bahisht ziist banaa kar chalaa gayaa

غزل · Ghazal

اوڑھ کر درد کی اس دھوپ کو جلتے رہیے خار مل جائیں تو پھر خاروں پہ چلتے رہیے زندگی سے ہے پرے چاہ کی پرچھائیاں رات دن درد کے سناٹوں میں پلتے رہیے ایک شو بن کے تمہیں جینا پڑے گا ہر دن زہر جتنا بھی ملے اس کو نگلتے رہیے آپ سے کوئی بھی امید نہیں مرہم کی آپ تو صرف نمک زخموں پہ ملتے رہیے اور بڑھ جائے گی کچھ رنگ حنائی اس کی بس ہتھیلی پہ لہو کو مرے ملتے رہیے آپ کے نام سے منسوب ہو غزلیں میری لفظ بن کر مرے اشعار میں ڈھلتے رہیے خود بخود ہار کے انصاف چلا جائے گا صرف تاریخ پہ تاریخ بدلتے رہیے آستینوں میں انہیں پالتے رہیے لیکن ان سپولوں کے ذرا پھن بھی کچلتے رہیے منزلیں دور ہیں پر حوصلہ رکھیے ارمانؔ آپ کا فرض مسافت ہے تو چلتے رہیے

oDh kar dard ki is dhuup ko jalte rahiye

غزل · Ghazal

بوئے گل کے مراقبے میں ہوں یعنی پہلے سے میں مزے میں ہوں آسماں تک اڑان بھرنی ہے اک پرندے سے رابطے میں ہوں تیرے گن ملتے ہیں سبھی مجھ سے یعنی میں تیرے زائچے میں ہوں وہ سہیلی سے بات کر رہی ہے میں بھی یاروں کے مشورے میں ہوں اس کی آنکھوں سے نیند غائب ہے اور میں شک کے دائرے میں ہوں تیرے ہاتھوں سے پی تھی چائے کبھی آج تک اس کے ذائقے میں ہوں تم کو دیکھا تو ہوش میں آیا ورنہ کہتا کہ میں نشہ میں ہوں خشک پتوں سی زندگی میری اک خزاں کے محاصرے میں ہوں اس کی سانسوں میں درد گہرا ہے جس دیے کو سنبھالنے میں ہوں عکس میرا تلاشنے والے اس کی آنکھوں کے آئنے میں ہوں مجھ کو حیرت سے دیکھتی کیوں ہے زندگی تیرے فلسفے میں ہوں

bu-e-gul ke muraaqabe mein huun

غزل · Ghazal

قدرت کی عدالت میں کانٹوں کی شکایت ہے ہر باغ میں پھولوں کی فطرت میں رعونت ہے سمجھا دو فرشتوں کو کس کی مجھے حسرت ہے ہوں جس کا تمنائی نام اس کا محبت ہے اس درجہ محبت ہے اک دوجے سے دونوں کو میں اس کی ضرورت ہوں وہ میری ضرورت ہے یہ کس کی اطاعت میں دل میرا دکھا بیٹھے تصویر میں جا بیٹھے یہ کیسی شرارت ہے وہ زلف پریشاں بھی کیا خوب نظر آئی لہرائے تو بادل سی بل کھائے قیامت ہے اب مولیٰ محافظ ہے نوخیز سی کلیوں کا پھولوں کی ریاست میں کانٹوں کی حکومت ہے عالم میں جوانی کے مغرور تھا پہلے تو کیوں چاند کو تاروں سے اب اتنی شکایت ہے اقرار وفا کر کے سینہ سے لگایا جو یہ ان کی محبت ہے یہ ان کی عنایت ہے ہم ہی تو نہیں تنہا سب عشق کے مارے ہیں ہر دل پہ چڑھی دیکھو الفت کی حرارت ہے تفریح کو نکلے ہیں ہم شہر میں سج دھج کے ان کو جو شکایت ہے اتنی سی شکایت ہے اک تل کے اضافے نے برباد کیا ارمانؔ بے دام پھنسے عاشق یہ حسن کی فطرت ہے

qudrat ki adaalat mein kaanTon ki shikaayat hai

Similar Poets