SHAWORDS
Arshad Jamal Sarim

Arshad Jamal Sarim

Arshad Jamal Sarim

Arshad Jamal Sarim

poet
18Shayari
14Ghazal

Popular Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

جڑے ہوئے ہیں پری خانے میرے کاغذ سے جو اٹھ رہے ہیں یہ افسانے میرے کاغذ سے کترتا رہتا ہے مقراض چشم سے مجھ کو بنانا کیا ہے اسے جانے میرے کاغذ سے قلم نے نوک الم کیا رکھی بہ چشم دل چھلکنے لگ گئے پیمانے میرے کاغذ سے رقم کروں بھی تو کیسے میں داستان وفا حروف پھرتے ہیں بیگانے میرے کاغذ سے ابھی رکھی بھی نہیں لو چراغ پر میں نے لپٹ گئے کئی پروانے میرے کاغذ سے کدال خامہ سے بوتا ہوں میں جنوں صارمؔ سو اگتے رہتے ہیں دیوانے میرے کاغذ سے

juDe hue hain pari-khaane mere kaaghaz se

غزل · Ghazal

دو چار ستارے ہی مری آنکھ میں دھر جا کچھ دیر تو اے ساعت شب مجھ میں ٹھہر جا اب اور سنبھالی نہیں جاتی تری حرمت یوں کر غم جاناں میری نظروں سے اتر جا تا عمر ترا نقش فروزاں رہے مجھ میں اک زخم کی صورت مرے ماتھے پہ ابھر جا چھوڑ آنا وہیں پر ذرا آوارہ مزاجی صحرا کی طرف اے دل نادان اگر جا یا ہو جا تو دریا کی نگاہوں میں ترازو یا تشنہ لبی ساتھ لیے جاں سے گزر جا جب ذہن کو سننی ہی نہیں بات تمہاری دل تو بھی رسومات تفاہم سے مکر جا

do-chaar sitaare hi miri aankh mein dhar jaa

غزل · Ghazal

کیا کہوں کتنی اذیت سے نکالی گئی شب ہاں یہی شب یہ مری ہجر بنا لی گئی شب پہلے ظلمت کا پرستار بنایا گیا میں اور پھر میری نگاہوں سے اٹھا لی گئی شب رات بھر فتح وہ کرتی رہی اجیاروں کو صبح دم اپنے اندھیروں سے بھی خالی گئی شب تا سدا مجھ میں رہیں چاند ستارے روشن میری مٹی میں طبیعت سے ملا لی گئی شب ختم ہوتا ہی نہیں سلسلہ تنہائی کا جانے کس درجہ مسافت میں ہے ڈھالی گئی شب فصل مقصود تھی صارمؔ ہمیں سورج کی جہاں حیف ہے ان ہی زمینوں پہ اگا لی گئی شب

kyaa kahun kitni aziyyat se nikaali gai shab

غزل · Ghazal

اضطراب ایسا ہوا دل کا سہارا مجھ کو کوئی ٹھہراؤ نہیں خود میں گوارا مجھ کو سر اٹھاتی ہے وہ تجدید کی خواہش مجھ میں نقش گر سوچنے لگتا ہے دوبارہ مجھ کو میں تہی دست کھڑا تھا سر صحرائے حیات آرزو نے تری یک لخت پکارا مجھ کو جا پہنچنا کسی رفعت کو نہیں ہے دشوار ہاں! ٹھہرنے کا وہاں چاہئے یارا مجھ کو دیکھ اے میری زبوں حالی پہ ہنسنے والے وقت کی دھوپ نے کس درجہ نکھارا مجھ کو ایک کنکر سا مزاحم میں رہوں گا کب تک لے ہی جائے گا بہا کر کوئی دھارا مجھ کو وقت نے جانے بنانا ہے مجھے کیا صارمؔ گردش چاک سے اب تک نہ اتارا مجھ کو

iztiraab aisaa huaa dil kaa sahaaraa mujh ko

غزل · Ghazal

کشت احساس میں تھوڑا سا ملا لیں گے تجھے پھر نئی پود کی صورت میں اگا لیں گے تجھے کیا خبر کام کا لمحہ کوئی ہاتھ آ جائے کاسۂ وقت کسی روز کھنگالیں گے تجھے اک فقط تیری توجہ سے ترے پیار تلک رفتہ رفتہ ہی سہی اپنا بنا لیں گے تجھے سرحد وقت کے اس پار تو جانے دے مجھے اے غم یار! وہاں پر بھی بلا لیں گے تجھے نہ مچا شور امنڈتے ہوئے دریا میرے ورنہ عفریت سمندر کے یہ کھا لیں گے تجھے زندگی ہم سے تری آنکھ مچولی کب تک اک نہ اک روز کسی موڑ پہ آ لیں گے تجھے کام آ ہی گئی صارمؔ تری آشفتہ سری قافلے عشق کے اب راہنما لیں گے تجھے

kisht-e-ehsaas mein thoDaa saa milaa leinge tujhe

غزل · Ghazal

یہ خاکی پیرہن اک اسم کی بندش میں رہتا ہے زمانہ ہر گھڑی ورنہ نئی سازش میں رہتا ہے اسی باعث میں اپنا نصف رکھتا ہوں اندھیرے میں مرے اطراف بھی سورج کوئی گردش میں رہتا ہے میں اک پرکار سا سیار بھی ہوں اور ثابت بھی جہاں سارا مرے قدموں کی پیمائش میں رہتا ہے مری آنکھوں میں اب ہے موجزن بس ریت وحشت کی سمندر اب کہاں پلکوں کی ہر جنبش میں رہتا ہے سپرد آب یوں ہی تو نہیں کرتا ہوں خاک اپنی عجب مٹی کے گھلنے کا مزا بارش میں رہتا ہے تسلط ہے کسی کا جب سے اپنی ذات پر صارمؔ ہمارا دل بہت آرام و آسائش میں رہتا ہے

ye khaaki pairahan ik ism ki bandish mein rahtaa hai

Similar Poets