SHAWORDS
A

Asad Ali Khan Qalaq

Asad Ali Khan Qalaq

Asad Ali Khan Qalaq

poet
74Shayari
51Ghazal

Popular Shayari

74 total

Ghazalغزل

See all 51
غزل · Ghazal

واعظ کی ضد سے رندوں نے رسم جدید کی یعنی مہ صیام کی پہلی کو عید کی مرنے کے بعد بھی یہ تمنا تھی دید کی آنکھیں ہوئیں نہ بند تمہارے شہید کی پھر جنس دل نہ اپنی کسی نے خرید کی سچ ہے کہ قدر کچھ نہیں مال مزید کی یہ وقت چشم پوشیٔ اہل وفا نہیں جان آنکھوں میں ہے یار ترے محو دید کی مسی دہان تنگ کی دیکھی تو شک ہوا انگشتری ہے کوئی نگین حدید کی وہ شوخ جنگجو جو ہمارے گلے ملا ماتم مخالفوں نے محبوں نے عید کی عالم ہے چشم شوق کا ہر ایک ذرے میں برباد خاک ہے یہ کسی محو دید کی کیا بے نقط سنائی ہیں اس طفل شوق نے قاصد نے نامہ دے کے طلب جب رسید کی کیوں وہ سوال وصل کا دیتے نہیں جواب حاجت ہے ان کے قفل دہن کو کلید کی غصے سے آگ ہو کے ہوئے تر پسینے میں عطر بہار حسن کی اپنے کشید کی کس روز میں نے مصحف رخسار مس کیا جھوٹی نہ قسمیں کھاؤ کلام مجید کی دیکھے نہ پیر زال جہاں کو اٹھا کے آنکھ مردوں میں آبرو نہیں کچھ زن مرید کی بے شبہ اے قلقؔ سگ دنیا ہے وہ بشر جس نے بہ دل اطاعت نفس پلید کی

vaaiz ki zid se rindon ne rasm-e-jadid ki

غزل · Ghazal

جنوں برسائے پتھر آسماں نے مزرع جاں پر جفائے پیر سبقت لے گئی بیداد طفلاں پر لگایا عطر جب ہم نے لب رنگین جاناں پر تو گویا تیل چھڑکا آتش لعل بدخشاں پر نہیں یہ معجزہ موقوف کچھ موسیٔ عمراں پر پیالے ہیں ید بیضا کف پر نور مستاں پر کبھی چلتی نہیں باد بہاری اپنے گلشن میں وہ بلبل ہوں کہ وارفتہ ہوں میں گلہائے حرماں پر بیاض‌ کوۓ جاناں بلبل شیراز گر دیکھے صفت اس بوستاں کی لکھے اوراق گلستاں پر کیا قتل اس نے مجھ کو میں نے کی قاتل کی آرائش جمایا خون کا لاکھا لب شمشیر براں پر پس دیوار تڑپو گے کہاں تک شوق کہتا ہے کمند آہ سے چڑھ جاؤ بام قصر جاناں پر تصور بندھ گیا وحشت میں کس کے روئے روشن کا کہ عالم وادیٔ ایمن کا ہے اپنے بیاباں پر ہمیشہ سبز رہتا ہے گلستاں جود و بخشش کا کبھی باد خزاں چلتے نہ دیکھی باغ احساں پر ہوا جامے سے باہر کس قدر شوق شہادت ہے پڑی جس دم نظر قاتل تری شمشیر عریاں پر یہ کس مہر سپہر حسن نے رکھے قدم اپنے گمان مہر ہے ہر ذرۂ خاک شہیداں پر تمہارا مسکرانا جانتا ہوں جان کھوئے گا کرے گی ایک دن برق تبسم خرمن جاں پر نہیں بس آج کل سلطان اقلیم شہادت میں ہے اپنے نام کا سکہ زر گنج شہیداں پر مٹا دیں تیزیاں اے ضعف تو نے دشت وحشت میں پڑا ہے صورت تار گریباں چاک داماں پر بنا کر تل رخ روشن پہ وہ شوخی سے کہتے ہیں یہ کاجل ہم نے پارا ہے چراغ ماہ تاباں پر انہیں پروا نہیں ہے کچھ نہ ہو گر باڑ کا ڈورا کہ ڈورے ڈالتے ہیں یار کی ہم تیغ عریاں پر دہن ہو اس کے پیدا اور زباں اس کی ہویدا ہو زبان زخم کو رکھ دوں زبان تیغ براں پر پڑا عکس شفق تو ناز سے کہنے لگا قاتل چڑھا سونے کا پانی گنبد قبر شہیداں پر ہمارے یار نے کیں چھپ کے باتیں پیار کی ہم سے لگایا آج پوشیدہ یہ مرہم زخم پنہاں پر اگر روشن کروں اس کو چراغ داغ سودا سے دھواں زنجیر بن جائے سیر شمع شبستاں پر ہوا دھوکا جو ہم کو تیغ خوں آلود قاتل کا گلا رگڑا کیے ہم موجۂ خون شہیداں پر مضامیں اس کے جب باندھے تو بندش صاف دی ہم نے جلا کر دی ہمیشہ گوہر مضمون دنداں پر پس مردن قلقؔ احساں کیا یہ ناتوانی نے سبک میرا جنازہ ہو گیا دوش عزیزاں پر

junun barsaae patthar aasmaan ne mazra-e-jaan par

غزل · Ghazal

چشمک زنی میں کرتی نہیں یار کا لحاظ نرگس کی آنکھ میں بھی نہیں ہے ذرا لحاظ بے گالی اب تو بات بھی کرتے نہیں کبھی وہ ابتدا میں کرتے تھے بے انتہا لحاظ تنہا میں اور اتنے وہاں ہیں مرے رقیب ناز و ادا غمزہ و شرم و حیا لحاظ ساقی کی بے رخی کی کہاں تاب تھی مگر پیر مغاں کی روح کا کرنا پڑا لحاظ کیا وصف چشم یار کروں اس کے سامنے نرگس سے ہے فقط مجھے اک آنکھ کا لحاظ حرمت بڑی ہے اس کی نہ کر ہجو اس قدر لازم ہے دخت رز کا تجھے واعظا لحاظ نکلی نہ خم سے بزم جوانان‌‌ مست میں پیر مغاں کا بنت عنب نے کیا لحاظ پھر مجھ سے اس طرح کی نہ کیجے گا دل لگی خیر اس گھڑی تو آپ کا میں کر گیا لحاظ بے خود شراب شوق نے شب کو یہ کر دیا ان کو رہا حجاب نہ مجھ کو رہا لحاظ قربان اس حجاب کے اس شرم کے نثار اتنا نہ عاشقوں سے کر اے مہ لقا لحاظ محجوب ہے مزاج قلقؔ اپنا اس قدر کرتے ہیں اپنے خورد کا بھی ہم برا لحاظ

chashmak-zani mein karti nahin yaar kaa lihaaz

غزل · Ghazal

دل ان کو دیا تھا نہ دل آزار سمجھ کر ہم پھنس گئے دھوکے میں وفادار سمجھ کر خورشید کرے گا رخ ادھر بہر تماشا محشر کو ترے گرمئ بازار سمجھ کر اے کبک بہت کھا چکے ہیں ٹھوکریں ہر گام چلنا تو مرے یار کی رفتار سمجھ کر تاریکی مرقد سے نہ گھبراتا میں لیکن خوف آ گیا فرقت کی شب تار سمجھ کر وہ زار سیہ بخت ہوں دربانوں نے اس کے ٹوکا نہ مجھے سایۂ دیوار سمجھ کر یہ محو شہادت تھا کہ بے مرضیٔ قاتل ابرو پہ گلا رکھ دیا تلوار سمجھ کر یہ بے خود الفت تھا دم سیر گلستاں شمشاد سے لپٹا قد دلدار سمجھ کر کچھ روز انہیں سن لیجیو کمسن ہے ابھی تو خود ترک کرے گا وہ بد اطوار سمجھ کر عشاق کو جل مرنے کی ہوتی ہے تمنا بجلی کو ترا پرتو رخسار سمجھ کر دیکھی مرے یوسف کی جو ہیں گرمئ بازار چپ ہو گئے کچھ دل میں خریدار سمجھ کر نازک ہے بہت وہ کہیں بل کوئی نہ پڑ جائے لپٹے کمر یار سے تلوار سمجھ کر بلبل کی محبت کا قلقؔ بھید کھلا آج عاشق ہے گل تر پہ یہ زردار سمجھ کر

dil un ko diyaa thaa na dil-aazaar samajh kar

غزل · Ghazal

نہیں چمکے یہ ہنسنے میں تمہارے دانت انجم سے نکل آئی تڑپ کر برق آغوش تبسم سے کرو تم مجھ سے باتیں اور میں باتیں کروں تم سے کلیم اللہ ہو جاؤں میں اعجاز تکلم سے صدائے لن ترانی آتی ہے ان کے تکلم سے گرا دیں طور دل پر صاعقہ برق تبسم سے فلک کو وجد ہوگا اے پری تیرے تبسم سے اتر آئے گی زہرہ رقص کرتی بزم انجم سے یہ شوق مے کشی مجنوں بنا کر مجھ کو لایا ہے نکل آئے کہیں لیلائے مے بھی محمل خم سے کیا دانتوں کو رنگیں واہ رہی باتوں کی رنگینی لگی آب گہر میں آگ لو برق تبسم سے سمند ناز کی ٹاپوں سے سر ٹکرائیں سب عاشق پلا شربت شہادت کا کسی دن کاسۂ سم سے جو وہ مہر سپہر حسن ناچے اپنی محفل میں تو زہرہ مشعل مہ لے کے آئے بزم انجم سے اسی دن پھول ہیں جس دن وہ گل تربت پہ آ بیٹھے سوم سے کچھ غرض مجھ کو نہ کچھ مطلب ہے پنجم سے جو الجھے محتسب میخانے میں ہم جائیں مسجد کو خدا کے گھر چلیں سر پھوڑ کر خشت سر خم سے فراق یار میں میری طرح سے یہ بھی روئے ہیں سواد شب نہیں کاجل بہا ہے چشم انجم سے ہوا میں رند مشرب خاک مر کر اس تمنا میں نماز آخر پڑیں گے وہ کسی دن تو تیمم سے وہی چتون وہی تیور مری آنکھوں میں پھرتے ہیں غضب میں پڑ گیا دیکھا عبث تم نے ترحم سے کہاں تک ایڑیاں رگڑیں گلا کاٹو گلا کاٹو اٹھاؤ تم نہ خنجر باز آیا اس ترحم سے جو وعدہ کرتے ہو تو صدمۂ فرقت نہ دکھلانا مسیحا ہوتے ہو مشہور جی اٹھتا ہوں میں تم سے مدلل جو سخن اپنا ہے وہ برہان قاطع ہے طبیعت میں روانی ہے زیادہ ہفت قلزم سے مرے ہیں عشق میں اک گل کے کیوں قرآں منگاتے ہو پڑھی جائے گلستاں میں سوم میں باب پنجم سے جو پہنچے تا فلک شہرہ تمہاری خود فروشی کا خریداری کو آئے مشتری بازار انجم سے عوض چونے کے گارا لائے مے کا چاہئے ساقی ہماری قبر اگر پکی ہو تو خشت سر خم سے ہمیشہ خاک چھنواؤ گے مثل قیس صحرا کی قلقؔ کو یہ نہ تھی امید اے لیلیٰ منش تم سے

nahin chamke ye hansne mein tumhaare daant anjum se

غزل · Ghazal

بولے گا کون عاشق نادار کی طرف سارا زمانہ آج تو ہے یار کی طرف جن آنکھ سے لیا تھا دل اب وہ رہی نہ آنکھ حیرت سے دیکھتا ہوں رخ یار کی طرف درباں کبھی جو روکے وہ نازک مزاج ہیں منہ کر کے سوئیں ہم نہ در یار کی طرف ہارے ہوئے ہو بوسوں کا کر لو ابھی حساب فاضل ہے کچھ ہمارا ہی سرکار کی طرف بیٹھا ہے کب سے منتظر یاں پر نگاہ مہر دیکھ آنکھ اٹھا کے طالب دیدار کی طرف پڑتی ہے جبکہ ابروئے قاتل پہ میری آنکھ رہ رہ کے دیکھتا ہے وہ تلوار کی طرف داغ ریا شراب سے دھونے کے واسطے زاہد چلا ہے خانۂ خمار کی طرف بلبل نے کی بہار میں کس یاس سے اک آہ چاک قفس سے دیکھ کے گلزار کی طرف پڑھتا ہوں فاتحہ میں سوئے قبر کوہ کن ہوتا ہے جب گزر کبھی کہسار کی طرف یوں دل پہ میرے پڑتی ہے آنکھ اس کی جس طرح جلاد دیکھتا ہے گنہ گار کی طرف کرتا ہے شوق دل کے عوض مول حسن کا دلال بولتا ہے خریدار کی طرف آئینہ ساں ہوں آمد دلبر کا حیرتی رخ سوئے در ہے پشت ہے دیوار کی طرف پھولوں میں یہ کہاں خلش خار کا مزا جانا جنوں نہ دشت سے گلزار کی طرف برباد کر نہ خاک مری اے ہوائے شوق لے چل اڑا کے کوچۂ دل‌‌ دار کی طرف کون اب کرے ہماری طرف داری اے قلقؔ دل تک ہے اپنا اپنے دل آزار کی طرف

bolegaa kaun aashiq-e-naadaar ki taraf

Similar Poets