SHAWORDS
Aziz Qaisi

Aziz Qaisi

Aziz Qaisi

Aziz Qaisi

poet
14Shayari
22Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

دل خستگاں میں درد کا آذر کوئی تو آئے پتھر سے میرے خواب کا پیکر کوئی تو آئے دریا بھی ہو تو کیسے ڈبو دیں زمین کو پلکوں کے پار غم کا سمندر کوئی تو آئے چوکھٹ سے حال پوچھا تو بازار سے سنا اک دن غریب خانے کے اندر کوئی تو آئے جو زخم دوستوں نے دیے ہیں وہ چھپ تو جائیں پر دشمنوں کی سمت سے پتھر کوئی تو آئے ہیں نوحہ گر ہزار ثنا خواں ہزار ہیں میرے سوائے تیر کی زد پر کوئی تو آئے لاکھوں جب آ کے جا چکے کیا مل گیا میاں اب بھی یہ سوچتے ہو پیمبر کوئی تو آئے شکوہ درست قیسیؔ کے پیہم سکوت کا لیکن اس انجمن میں سخنور کوئی تو آئے

dil-khastagaan mein dard kaa aazar koi to aae

غزل · Ghazal

پس‌ ترک عشق بھی عمر بھر طرف مژہ پہ تری رہی مری کشت جاں بھی عجیب ہے کہ خزاں کے ساتھ ہری رہی کئی بار دور کساد میں گرے مہر و ماہ کے دام بھی مگر ایک قیمت جنس دل جو کھری رہی تو کھری رہی نہ وہ رسم پردگیٔ وفا نہ چھپا چھپا سا پیام ہے نہ شمیم و گل سے کلام ہے نہ صبا کی نامہ بری رہی میں تہی نصیب سہی مگر مری چشم نم کو دعا تو دے تری مانگ اے شب زندگی سدا موتیوں سے بھری رہی سر دشت تار گزار لیں کسی طور رات یہ عمر کی نہ لگے گی آنکھ اگر یوں ہی ہمیں فکر شب بسری رہی

pas-e-tark-e-ishq bhi umr-bhar taraf-e-mizha pe tari rahi

غزل · Ghazal

بلا کشوں پہ کہاں پیاس کا عذاب نہ تھا وہاں پہ منع تھا پانی جہاں سراب نہ تھا شکست خواب کا ماتم تھا چار سو لیکن تمام شہر کی آنکھوں میں کوئی خواب نہ تھا نہ آستینوں پہ ملتا نہ خاک مقتل پر خدا کا شکر ہمارا لہو شراب نہ تھا ادھر گناہ ادھر حسرت گناہ کا بوجھ فشار قبر کی تمثیل تھا شباب نہ تھا بکا تھا ذہن و دل و جاں سمیت منڈی میں الگ ضمیر کے کیا دام تھے حساب نہ تھا بہ طرز خاص تھی مقصود مجھ کو شہرت عام لبوں پہ تھا مرے سینے میں انقلاب نہ تھا زمانہ ساز تھا قیسیؔ نہ زر شناس مگر عزیز کیسے تھا جو شخص کامیاب نہ تھا

balaa-kashon pe kahaan pyaas kaa azaab na thaa

غزل · Ghazal

زخم ہے سینہ ابھی تلوار ہے احساس ابھی کچھ نہ کچھ جینے کا سرمایہ ہے میرے پاس ابھی سانس روکے سن رہا ہے وقت ان کا فیصلہ اٹھتی جھکتی وہ نگاہیں آس ابھی ہیں یاس ابھی برف کی سل ہے کبھی دل اور کبھی شعلے کی لو اس بیاباں کو کوئی موسم نہ آیا راس ابھی حد سے بڑھ جائے تو پھر دریا کی کچھ ہستی نہیں ساحل ممنوع پر دم توڑتی ہے پیاس ابھی شہر جاں تیری طرف اب بھی کھنچا جاتا ہے دل تیری گلیوں میں ہے اگلے دور کی بو باس ابھی گونجتی ہے دل میں اب بھی کوئی گم گشتہ صدا ہم کو قیسیؔ ہے شکست آرزو کا پاس ابھی

zakhm hai siina abhi talvaar hai ehsaas abhi

غزل · Ghazal

وفا نہ ان کے نہ اپنے ہی بس میں کیا کیجے اسیر بحر ہیں تنکوں سے کیا گلہ کیجے حصار سنگ سے ٹکرا کے مر تو سکتے ہیں نجات سامنے ہے کچھ تو حوصلہ کیجے بہت دنوں سے نہیں کوئی زندگی کا جواز بدل کے لفظ وہی وعدہ پھر عطا کیجے پہاڑ کاٹنے والوں کو کوئی سمجھا دے کہ ہو سکے تو کسی دل میں راستہ کیجے پلک پہ ٹھہری ہوئی شب پگھل کے بہہ جائے کسی اداس فسانے کی ابتدا کیجے نہ یوں ہو لاش کے پرزے خلا میں کھو جائیں زمیں کا خاتمہ با لخیر ہو دعا کیجے اسی کو اپنا کفن کیجیے اور سو رہئے یہ شب نہ گزرے گی قیسیؔ خدا خدا کیجے

vafaa na un ke na apne hi bas mein kyaa kiije

غزل · Ghazal

رات کی رات پڑاؤ کا میلہ کوچ کی دھول سویرے محل مکان کٹیا چھپر سب بنجاروں کے ڈیرے سورج ڈھلتے ہی گلیوں میں فتنے جاگ اٹھتے ہیں رین نہیں جب اپنے بس میں کیسے رین بسیرے وہ تو ہم سے سادہ دلوں کا حشر یہی ہونا تھا ورنہ تم سے ترک وفا کے حیلے تھے بہتیرے جان بچے گی تو پہنچیں گے داد رسوں کے گھر تک گلی گلی میں موڑ موڑ پر ٹھگ ہیں رستہ گھیرے چل قیسیؔ میلے میں چل کیا رونا تنہائی کا کوئی نہیں جب تیرا میرا سب میرے سب تیرے

raat ki raat paDaav kaa mela coach ki dhuul savere

Similar Poets