SHAWORDS
Bakhsh Layalpuri

Bakhsh Layalpuri

Bakhsh Layalpuri

Bakhsh Layalpuri

poet
12Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

12 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

اسیران حوادث کی گراں جانی نہیں جاتی جہاں سے خون انسانی کی ارزانی نہیں جاتی دروغ مصلحت کے دیکھ کر آثار چہروں پر حقیقت آشنا آنکھوں کی حیرانی نہیں جاتی نشان خسروی تو مٹ گئے ہیں لوح عالم سے کلاہ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی اندھیرا اس قدر ہے شہر پر چھایا سیاست کا کسی بھی شخص کی اب شکل پہچانی نہیں جاتی زمانہ کربلا کا نام سن کر کانپ اٹھتا ہے ابھی تک خون شبیری کی جولانی نہیں جاتی فزوں تر اور ہوتے جا رہے ہیں چاک دامن کے رفو گر سے ہماری چاک دامانی نہیں جاتی یہ مانا روشنی کو پی گئی ظلمت جہالت کی مگر اس ذرۂ خاکی کی تابانی نہیں جاتی

asiraan-e-havaadis ki giraan-jaani nahin jaati

غزل · Ghazal

پڑے ہیں راہ میں جو لوگ بے سبب کب سے پکارتی ہے انہیں منزل طلب کب سے یہ اور بات مکینوں کو کچھ خبر نہ ہوئی لگا رہے تھے محافظ مگر نقب کب سے کوئی بھی حربۂ تشہیر کارگر نہ ہوا تماش بیں ہی رہی شہرت ادب کب سے اکھڑ گئی ہیں طنابیں ستم کے خیموں کی الٹ گئی ہے بساط حسب نسب کب سے نہ حوصلہ ہے دعا کا نہ آہ پر ہے یقیں کہ ہم سے روٹھ گیا ہے ہمارا رب کب سے سمندروں سے کوئی موج سر بلند اٹھے کہ ساحلوں پہ تڑپتے ہیں جاں بہ لب کب سے وہ ہم نے چن دیے تنقید کی صلیبوں پر مچل رہے تھے جو کچھ حرف زیر لب کب سے

paDe hain raah mein jo log be-sabab kab se

غزل · Ghazal

اطاق شب میں سحر کے چراغ روشن کر قبائے دل ہی نہیں دل کے داغ روشن کر کسی طریق سے تازہ ہوا گرفت میں لا کسی سبیل سے اپنا دماغ روشن کر مشام جاں میں بسا خیر و امن کی خوشبو پھر اس مہک سے محبت کے باغ روشن کر چھڑک کے خون رگ دل حقیر ذروں پر سواد منزل جاں کے سراغ روشن کر صلیب اٹھا کے کبھی کوچۂ ستم میں بھی چل جنوں کی لو سے بھی دشت چراغ روشن کر رہ حیات میں وہم و گماں کے سائے ہیں نظر میں عزم و یقیں کے ایاغ روشن کر کبھی تقدس انسان کے تو گیت بھی گا کبھی تو دل میں محبت کی آگ روشن کر

ataaq-e-shab mein sahar ke charaagh raushan kar

غزل · Ghazal

اسی کے ظلم سے میں حالت پناہ میں تھا ہر اک نفس مرا جس شخص کی پناہ میں تھا چمک رہا تھا وہ خورشید دو جہاں کی طرح وہ ہاتھ جو کہ گریبان کج کلاہ میں تھا افق افق کو پیام سحر دیا میں نے مرا قیام اگرچہ شب سیاہ میں تھا مہک رہے تھے نظر میں گلاب سپنوں کے کھلی جو آنکھ تو دیکھا میں قتل گاہ میں تھا مرے حریف مجھے روند کر نکل نہ سکے فصیل سنگ کی صورت کھڑا میں راہ میں تھا جو بات بات پہ کرتا تھا انقلاب کی بات سجی صلیب تو وہ حامیان شاہ میں تھا عدو کی فوج نے لوٹا تو کیا ستم یہ ہے رئیسؔ شہر بھی شامل اسی سپاہ میں تھا

usi ke zulm se main haalat-e-panaah mein thaa

غزل · Ghazal

صفحۂ قرطاس پر خوش رنگ تحریریں نہیں اپنے قبضے میں ابھی لفظوں کی جاگیریں نہیں زندگی ہم نے گزاری ایک بیوہ کی طرح خواب وہ دیکھے کہ جن کی کوئی تعبیریں نہیں جی رہے ہیں شہر میں سب لوگ اندیشوں کے ساتھ اک ترے ہی پاؤں میں سوچوں کی زنجیریں نہیں اور اچھلیں گے ادب کے مسخروں کے سر یہاں زنگ آلودہ ابھی شعروں کی شمشیریں نہیں مانگے تانگے پر گزارہ کر رہے ہیں دوستو زندگی کرنے کی اپنے پاس تدبیریں نہیں چیخ کی صورت حیات نو کا اک پیغام ہیں ہم ہوا کی لوح پر بے جان تصویریں نہیں سر جھکا کر ظلم سہنا بھی سراسر ظلم ہے بخش ورنہ ظلم کی کچھ اور تفسیریں نہیں

safha-e-qirtaas par khush-rang tahrirein nahin

غزل · Ghazal

دیدۂ بے رنگ میں خوں رنگ منظر رکھ دیے ہم نے اس دشت تپاں میں بھی سمندر رکھ دیے وہ جگہ جو لعل و گوہر کے لیے مقصود تھی کس نے یہ سنگ ملامت اس جگہ پر رکھ دیے اب کسی کی چیخ کیا ابھرے کہ میر شہر نے ساکنان شہر کے سینوں پہ پتھر رکھ دیے شاخساروں پر نہ جب اذن نشیمن مل سکا ہم نے اپنے آشیاں دوش ہوا پر رکھ دیے اہل زر نے دیکھ کر کم ظرفی اہل قلم حرص زر کے ہر ترازو میں سخن ور رکھ دیے ہم تو ابریشم کی صورت نرم و نازک تھے مگر تلخئ حالات نے لہجے میں خنجر رکھ دیے جس ہوا کو وہ سمجھتے تھے کہ چل سکتی نہیں اس ہوا نے کاٹ کر لشکر کے لشکر رکھ دیے بخشؔ صیاد ازل نے حکم آزادی کے ساتھ اور اسیری کے بھی خدشے دل کے اندر رکھ دیے

dida-e-be-rang mein khun-rang manzar rakh diye

Similar Poets