samajh rahaa thaa jise khair-khvaah main apnaa
vahi hai dushman-e-jaan meraa sab se baDh kar aaj

Barqi Azmi
Barqi Azmi
Barqi Azmi
Popular Shayari
9 totalruThne aur manaane ke ehsaas mein hai ik kaif-o-surur
main ne hamesha use manaayaa vo bhi mujhe manaae to
is haal mein kab tak yunhi ghuT ghuT ke jiyungaa
ruThaa hai vo aise ki manaa bhi nahin saktaa
huaa karbalaa mein jo qurbaan 'barqi'
husain ibn-e-haidar kaa vo khaandaan thaa
chappa chappa us ki gali kaa rahaa hai mere zer-e-qadam
josh-e-junun se azm-e-safar tak ek kahaani biich mein hai
ab main huun aur khvaab-e-pareshaan hai mere saath
kitnaa paDegaa aur abhi jaagnaa mujhe
ajab khun-chakaan karbalaa kaa samaan thaa
the sab tishna-lab aur dariyaa ravaan thaa
zindagi us ne badal kar miri rakh di aisi
na mujhe chain na aaraam hai kyaa arz karun
sisakte the bachche bilakti thiin maaein
jo insaan bhi pyaas se naa-tavaan thaa
Ghazalغزل
اس کی دزدیدہ نگاہی دیکھنا اچھا لگا بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا جس کی تصویر تصور ذہن میں محفوظ ہے جادۂ الفت میں اس کو ڈھونڈھنا اچھا لگا گھولنا کانوں میں رس شیرینئ گفتار سے روح پرور اس کا ہنسنا بولنا اچھا لگا مرتعش ہوتا ہے جس کو دیکھ کر تار نفس اس کا زلف خم بہ خم کا کھولنا اچھا لگا دل سے دل کو راہ ہوتی ہے یہ ہے اس کا ثبوت جاتے جاتے اس کا مڑ کر دیکھنا اچھا لگا وجد آور تھا گل و بلبل کا ربط باہمی غنچہ و گل سے چمن میں کھیلنا اچھا لگا ہے جہان رنگ و بو میں حسن جس کا انتخاب اس کا ہونا بزم میں جلوہ نما اچھا لگا میرے سینے میں دھڑکتا ہے دل درد آشنا اس لیے ٹوٹے ہوئے دل جوڑنا اچھا لگا منعکس ہر چیز میں ہوتا ہے برقیؔ جس کا عکس اس کا چہرہ آئنہ در آئنہ اچھا لگا
us ki duzdida-nigaahi dekhnaa achchhaa lagaa
سکون قلب کسی کو نہیں میسر آج شکست خواب ہے ہر شخص کا مقدر آج ہے وضع حال مری کیوں یہ بد سے بد تر آج امیر شہر کے بدلے ہوئے ہیں تیور آج ہر ایک شخص ہے اپنے حصار میں محصور ہے سب کے درپئے آزار وہ ستم گر آج کیا ہے گردش دوراں نے در بدر سب کو جو سر میں پہلے تھا وہ پاؤں میں ہے چکر آج سمجھ رہا تھا جسے خیر خواہ میں اپنا وہی ہے دشمن جاں میرا سب سے بڑھ کر آج فصیل شہر کے اندر تھے کتنے اہل ہنر نہیں ہے جن سے شناسا کوئی بھی باہر آج دکھا رہا ہے مجھے سبز باغ جو برقیؔ وہ لے کے پھرتا ہے کیوں آستیں میں خنجر آج
sukun-e-qalb kisi ko nahin mayassar aaj
در بدر پھرتا تھا جب تب تجھے آباد کیا کیا بگاڑا تھا ترا کیوں مجھے برباد کیا جس طرح کرتا ہے تو خون تمنا میرا کیا کبھی میں نے بھی ایسے تجھے ناشاد کیا زخم جو تو نے دئے تھے ہیں ابھی تک تازہ جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا اس سے بہتر تھا کہ تو قید ہی رکھتا مجھ کو پر کتر کر مرا کیوں باغ میں آزاد کیا زندگی کھیل نہیں ہے جسے بچوں کی طرح کبھی آباد کیا اور کبھی برباد کیا زیب دیتا ہے تجھے مفسد دوراں کا خطاب ناروا تھا جو وہ کیوں اے ستم ایجاد کیا باغباں جس کو بنایا تھا اسی نے برقیؔ صحن گلشن میں بپا نالہ و فریاد کیا
dar-ba-dar phirtaa thaa jab-tab tujhe aabaad kiyaa
رو پڑا ناگہاں مسکرانے کے بعد یاد آئی بہت اس کی جانے کے بعد میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں وہ نظر آیا جب اک زمانے کے بعد روح پرور تھا اس کا یہ طرز عمل روٹھ جانا دوبارہ منانے کے بعد دل کو دل سے ملاتی ہے یہ دل لگی اس کا ہونا پشیماں ستانے کے بعد تلخ و شیریں ہے روداد دل بستگی منکشف یہ ہوا آزمانے کے بعد شخصیت کا مری بن گیا ایک جز میرے قلب و جگر میں سمانے کے بعد ہے یہ برقیؔ حسینوں کی فطرت کا جز وعدہ کر کے نہ آنا بلانے کے بعد
ro paDaa naa-gahaan muskuraane ke baad
پرواز میں جو ساتھ نہ دے آسمان پر بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر اب قرب و بعد میں نہ رہا کوئی فاصلہ دنیا سمٹ کے آ گئی میرے مکان پر میرا حریف درپئے آزار ہے مرے مجھ کو ہدف بناتا ہے وہم و گمان پر شہ زور سے کبھی نہیں کرتا مقابلہ چلتا ہے اس کا زور فقط بے زبان پر میزان عدل کو نہیں لاتا بروئے کار کرتا ہے انحصار وہ فرضی بیان پر یہ خوئے بے نیازی ہے مجھ کو بہت عزیز آئے کبھی نہ حرف مری آن بان پر جس کی نہیں ہے آج کہیں کوئی یادگار کرتا ہے فخر وہ مرے نام و نشان پر دہلی میں ایک شاعر گمنام کا کلام برقیؔ ہے اب محیط زمان و مکان پر
parvaaz mein jo saath na de aasmaan par
ہنسا کے پہلے مجھے پھر رلا گیا اک شخص فسانہ کہہ کے فسانہ بنا گیا اک شخص دکھا کے ایک جھلک اپنی چشم مے گوں سے مئے نشاط یہ کیسی پلا گیا اک شخص کہوں تو کیسے کہوں اک عجیب منظر تھا نگار خانۂ ہستی سجا گیا اک شخص خلش سی اٹھتی ہے رہ رہ کے قلب مضطر میں تھا کیسا تیر نظر جو چبھا گیا اک شخص نہ جانے آ گیا دام فریب میں کیسے تھا سبز باغ جو مجھ کو دکھا گیا اک شخص تھی جس سے شمع شبستان زندگی روشن جلا کے شمع محبت بجھا گیا اک شخص میں اس کو دیکھ کے ہوش و حواس کھو بیٹھا جب آیا ہوش میں اٹھ کر چلا گیا اک شخص خمار جس کا ابھی تک ہے سر میں برقیؔ کے شراب شوق کا چسکا لگا گیا اک شخص
hinsaa ke pahle mujhe phir rulaa gayaa ik shakhs





