SHAWORDS
Behzad Lakhnavi

Behzad Lakhnavi

Behzad Lakhnavi

Behzad Lakhnavi

poet
12Sher
12Shayari
39Ghazal

Sherشعر

See all 12

Popular Sher & Shayari

24 total

Ghazalغزل

See all 39
غزل · Ghazal

lab pe hai fariyaad ashkon ki ravaani ho chuki

لب پہ ہے فریاد اشکوں کی روانی ہو چکی اک کہانی چھڑ رہی ہے اک کہانی ہو چکی مہر کے پردے میں پوری دل ستانی ہو چکی بندہ پرور رحم کیجیے مہربانی ہو چکی میرا دل تاکا گیا جور و جفا کے واسطے جب کہ پورے رنگ پر ان کی جوانی ہو چکی جائیے بھی کیوں مجھے جھوٹی تشفی دیجیے آپ سے اور میرے دل کی ترجمانی ہو چکی آ گیا اے سننے والے اب مجھے پاس وفا اب بیاں روداد دل میری زبانی ہو چکی آخری آنسو مری چشم الم سے گر چکا سننے والو ختم اب میری کہانی ہو چکی ہم بھی تنگ آ ہی گئے آخر نیاز و ناز سے ہاں خوشا قسمت کہ ان کی مہربانی ہو چکی سننے والے صورت تصویر بیٹھے ہیں تمام حضرت بہزادؔ بس جادو بیانی ہو چکی

غزل · Ghazal

zinda huun is tarah ki gham-e-zindagi nahin

زندہ ہوں اس طرح کہ غم زندگی نہیں جلتا ہوا دیا ہوں مگر روشنی نہیں وہ مدتیں ہوئی ہیں کسی سے جدا ہوئے لیکن یہ دل کی آگ ابھی تک بجھی نہیں آنے کو آ چکا تھا کنارا بھی سامنے خود اس کے پاس میری ہی نیا گئی نہیں ہونٹوں کے پاس آئے ہنسی کیا مجال ہے دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں یہ چاند یہ ہوا یہ فضا سب ہیں ماند ماند جو تو نہیں تو ان میں کوئی دل کشی نہیں

غزل · Ghazal

ik be-vafaa ko pyaar kiyaa haae kyaa kiyaa

اک بے وفا کو پیار کیا ہائے کیا کیا خود دل کو بے قرار کیا ہائے کیا کیا معلوم تھا کہ عہد وفا ان کا جھوٹ ہے اس پر بھی اعتبار کیا ہائے کیا کیا وہ دل کہ جس پہ قیمت کونین تھی نثار نظر نگاہ یار کیا ہائے کیا کیا خود ہم نے فاش فاش کیا راز عاشقی دامن کو تار تار کیا ہائے کیا کیا آہیں بھی بار بار بھریں ان کے ہجر میں نالہ بھی بار بار کیا ہائے کیا کیا مٹنے کا غم نہیں ہے بس اتنا ملال ہی کیوں تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا ہم نے تو غم کو سینے سے اپنے لگا لیا غم نے ہمیں شکار کیا ہائے کیا کیا صیاد کی رضا یہ ہم آنسو نہ پی سکے عذر غم بہار کیا ہائے کیا کیا قسمت نے آہ ہم کو یہ دن بھی دکھا دیئے قسمت پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا رنگینئ خیال سے کچھ بھی نہ بچ سکا ہر شے کو پر بہار کیا ہائے کیا کیا دل نے بھلا بھلا کے تری بے وفائیاں پھر عہد استوار کیا ہائے کیا کیا ان کے ستم بھی سہہ کے نہ ان سے کیا گلہ کیوں جبر اختیار کیا ہائے کیا کیا کافر کی چشم ناز پہ کیا دل جگر کا ذکر ایمان تک نثار کیا ہائے کیا کیا کالی گھٹا کے اٹھتے ہی توبہ نہ رہ سکی توبہ پہ اعتبار کیا ہائے کیا کیا شام فراق قلب کے داغوں کو گن لیا تاروں کو بھی شمار کیا ہائے کیا کیا بہزادؔ کی نہ قدر کوئی تم کو ہو سکی تم نے ذلیل و خوار کیا ہائے کیا کیا

غزل · Ghazal

tumhaare husn ki taskhir aam hoti hai

تمہارے حسن کی تسخیر عام ہوتی ہے کہ اک نگاہ میں دنیا تمام ہوتی ہے جہاں پہ جلوۂ جاناں ہے انجمن آرا وہاں نگاہ کی منزل تمام ہوتی ہے وہی خلش وہی سوزش وہی تپش وہی درد ہمیں سحر بھی بہ انداز شام ہوتی ہے نگاہ حسن مبارک تجھے در اندازی کبھی کبھی مری محفل بھی عام ہوتی ہے زہے نصیب میں قربان اپنی قسمت کے ترے لیے مری دنیا تمام ہوتی ہے نماز عشق کا ہے انحصار اشکوں تک یہ بے نیاز سجود و قیام ہوتی ہے تری نگاہ کے قرباں تری نگاہ کی ٹیس یہ ناتمام ہی رہ کر تمام ہوتی ہے وہاں پہ چل مجھے لے کر مرے سمند خیال جہاں نگاہ کی مستی حرام ہوتی ہے کسی کے ذکر سے بہزادؔ مبتلا اب تک جگر میں اک خلش نا تمام ہوتی ہے

غزل · Ghazal

apni nai zamin nayaa aasmaan rahe

اپنی نئی زمین نیا آسماں رہے ہاں اس جہاں سے دور ہی اپنا جہاں رہے ہم نے تو اس چمن سے لگایا کبھی نہ دل ہم بے نیاز فکر غم آشیاں رہے مجھ سا چمن پرست چمن کو ملا ہے کب اس میں اگر رہے تو مری داستاں رہے ہر برگ و گل کو خار نظر آ رہے ہیں خار مطلب یہ ہے کہ گل سے دم گلستاں رہے ہم تم رہیں جہان تمنا و حسن میں اپنے سوا نہ اور کوئی میہماں رہے ہے نام جس کا عشق خوشی سے ہے دور دور یہ تو جہان غم ہے مسرت کہاں رہے یہ بھی خیال ہے کہ نہ ہو شکوۂ الم اور یہ بھی چاہتے ہو کہ منہ میں زباں رہے کب تک چھٹے نہ ہاتھ سے دامان حسن و عشق کب تک دل حزیں میں غم دو جہاں رہے ٹھکرا کے جا رہے ہو جسے تم بہ صد خوشی تم ہی بتاؤ اب وہ تمنا کہاں رہے اب جستجو میں بھی نہ گئی اپنی بے خودی بہزادؔ ہم چلے تو پس کارواں رہے

غزل · Ghazal

aah asar ho gai to kyaa hogaa

آہ اثر ہو گئی تو کیا ہوگا بے اثر ہو گئی تو کیا ہوگا شام غم آ چلے تصور میں اب سحر ہو گئی تو کیا ہوگا وہ نظر جس کو ہے خبر میری بے خبر ہو گئی تو کیا ہوگا داستاں عشق کی طویل تو ہے مختصر ہو گئی تو کیا ہوگا شب نہ کاٹے کٹی تو ہوگا کیا اور بسر ہو گئی تو کیا ہوگا آہ گو دل سے ہم نہیں کرتے کارگر ہو گئی تو کیا ہوگا روبرو ان کے چپ تو ہوں بہزادؔ آنکھ تر ہو گئی تو کیا ہوگا

Similar Poets