is tarah to aur bhi divaangi baDh jaaegi
paagalon ko paagalon se duur rahnaa chaahiye

Bharat Bhushan Pant
Bharat Bhushan Pant
Bharat Bhushan Pant
Popular Shayari
38 totalhar taraf thi khaamoshi aur aisi khaamoshi
raat apne saae se ham bhi Dar ke roe the
ham kaafiron ne shauq mein roza to rakh liyaa
ab hausla baDhaane ko iftaar bhi to ho
khaamoshi mein chaahe jitnaa begaana-pan ho
lekin ik aahaT jaani-pahchaani hoti hai
har ghaDi teraa tasavvur har nafas teraa khayaal
is tarah to aur bhi teri kami baDh jaaegi
us ko bhi meri tarah apni vafaa par thaa yaqin
vo bhi shaayad isi dhoke mein milaa thaa mujh ko
tu hamesha maangtaa rahtaa hai kyuun gham se najaat
gham nahin honge to kyaa teri khushi baDh jaaegi
itnaa to samajhte the ham bhi us ki majburi
intizaar thaa lekin dar khulaa nahin rakkhaa
ye suraj kab nikaltaa hai unhin se puchhnaa hogaa
sahar hone se pahle hi jo bistar chhoD dete hain
main apne lafz yuun baaton mein zaae kar nahin saktaa
mujhe jo kuchh bhi kahnaa hai use sheron mein kahtaa huun
itni si baat raat pata bhi nahin lagi
kab bujh gae charaagh havaa bhi nahin lagi
ek jaise lag rahe hain ab sabhi chehre mujhe
hosh ki ye intihaa hai yaa bahut nashshe mein huun
Ghazalغزل
اک گردش مدام بھی تقدیر میں رہی گرد سفر بھی پاؤں کی زنجیر میں رہی خوابوں کے انتخاب میں کیا چوک ہو گئی ہر بار اک شکستگی تعبیر میں رہی رنگوں کا تال میل بہت خوب تھا مگر پھر بھی کوئی کمی تری تصویر میں رہی چارہ گروں سے درد کا درماں نہ ہو سکا اللہ جانے کیا کمی تدبیر میں رہی کچھ دیر تک تو زخم سے الجھی رہی دوا کچھ دیر تک تو درد کی تاثیر میں رہی قاتل نے سارے داغ تو پانی سے دھو دیئے تازہ لہو کی بو جو تھی شمشیر میں رہی شعلہ بیانی گو مرا طرز سخن نہیں اک آنچ سی مگر مری تحریر میں رہی
ik gardish-e-mudaam bhi taqdir mein rahi
ایک نئے سانچے میں ڈھل جاتا ہوں میں قطرہ قطرہ روز پگھل جاتا ہوں میں جب سے وہ اک سورج مجھ میں ڈوبا ہے خود کو بھی چھو لوں تو جل جاتا ہوں میں آئینہ بھی حیرانی میں ڈوبا ہے اتنا کیسے روز بدل جاتا ہوں میں میٹھی میٹھی باتوں میں معلوم نہیں جانے کتنا زہر اگل جاتا ہوں میں اب ٹھوکر کھانے کا مجھ کو خوف نہیں گرتا ہوں تو اور سنبھل جاتا ہوں میں اکثر اب اپنا پیچھا کرتے کرتے خود سے کتنی دور نکل جاتا ہوں میں
ek nae saanche mein Dhal jaataa huun main
مری ہی بات سنتی ہے مجھی سے بات کرتی ہے کہاں تنہائی گھر کی اب کسی سے بات کرتی ہے ہمیشہ اس کی باتوں میں اندھیروں کا وہی رونا یہ شب جب بھی دیئے کی روشنی سے بات کرتی ہے میں جب مایوس ہو کر راستے میں بیٹھ جاتا ہوں تو ہر منزل مری آوارگی سے بات کرتی ہے سکوت شب میں جب سارے مسافر سوئے ہوتے ہیں انہیں لمحات میں کشتی ندی سے بات کرتی ہے کبھی چپ چاپ تاریکی کی چادر اوڑھ لیتی ہے کبھی وہ جھیل شب بھر چاندنی سے بات کرتی ہے دیار ذات میں اس وقت جب میں بھی نہیں ہوتا کوئی آواز میری خامشی سے بات کرتی ہے ہمیشہ اس کے چہرے پر عجب سا خوف رہتا ہے کبھی جب موت میری زندگی سے بات کرتی ہے
miri hi baat sunti hai mujhi se baat karti hai
کب تلک چلنا ہے یوں ہی ہم سفر سے بات کر منزلیں کب تک ملیں گی رہ گزر سے بات کر تجھ کو مل جائے گا تیرے سب سوالوں کا جواب کشتیاں کیوں ڈوب جاتی ہیں بھنور سے بات کر کب تلک چھپتا رہے گا یوں ہی اپنے آپ سے آئنے کے روبرو آ اپنے ڈر سے بات کر بڑھ چکی ہیں اب تری فکر و نظر کی وسعتیں جگنوؤں کو چھوڑ اب شمس و قمر سے بات کر اس طرح تو اور بھی تیری گھٹن بڑھ جائے گی ہم نوا کوئی نہیں تو بام و در سے بات کر درد کیا ہے یہ سمجھنا ہے تو اپنے دل سے پوچھ آنسوؤں کی بات ہے تو چشم تر سے بات کر ہر سفر منظر سے پس منظر تلک تو کر لیا دیکھنا کیا چاہتی ہے اب نظر سے بات کر دھوپ کیسے سائے میں تبدیل ہوتی ہے یہاں اس ہنر کو سیکھنا ہے تو شجر سے بات کر زخم پوشیدہ رہا تو درد بڑھتا جائے گا بے تکلف ہو کے اپنے چارہ گر سے بات کر
kab talak chalnaa hai yuun hi ham-safar se baat kar
کبھی سکوں کبھی صبر و قرار ٹوٹے گا اگر یہ دل ہے تو پھر بار بار ٹوٹے گا وہ اپنے ظرف سے بڑھ کر بھرا ہوا بادل یہ دیکھنا کہیں بے اختیار ٹوٹے گا وہ ایک پل بھی کسی روز آ ہی جائے گا کہ جب یہ زندگی پر اعتبار ٹوٹے گا وگرنہ چلتا رہے گا یہ سلسلہ یوں ہی میں ٹوٹ جاؤں تبھی انتشار ٹوٹے گا پھر ایک بار غلط نکلا یہ قیاس مرا گرا چٹان پہ تو آبشار ٹوٹے گا ترے زوال کی منزل ابھی نہیں آئی نشہ تو ٹوٹ چکا اب خمار ٹوٹے گا اسی خیال سے شاید ڈرا ہوا ہے ساز اگر یہ راگ نہ ٹوٹا تو تار ٹوٹے گا کوئی اداس سا نغمہ ہی گنگنائیں ہم تبھی طلسم شب انتظار ٹوٹے گا
kabhi sukun kabhi sabr-o-qaraar TuTegaa
دیار ذات میں جب خامشی محسوس ہوتی ہے تو ہر آواز جیسے گونجتی محسوس ہوتی ہے میں تھوڑی دیر بھی آنکھوں کو اپنی بند کر لوں تو اندھیروں میں مجھے اک روشنی محسوس ہوتی ہے سنا تھا میں نے یہ تو پتھروں کا شہر ہے لیکن یہاں تو پتھروں میں زندگی محسوس ہوتی ہے تصور میں تری تصویر میں جب بھی بناتا ہوں مجھے ہر بار رنگوں کی کمی محسوس ہوتی ہے جسے سوچوں نے ڈھالا ہو خیالوں نے تراشا ہو وہ چہرہ دیکھ کر کتنی خوشی محسوس ہوتی ہے یہی بیداریاں ہیں جو مجھے سونے نہیں دیتیں انہیں بیداریوں میں نیند بھی محسوس ہوتی ہے یہ اب میں آگہی کی کون سی منزل پہ آ پہنچا مجھے سیرابیوں میں تشنگی محسوس ہوتی ہے
dayaar-e-zaat mein jab khaamushi mahsus hoti hai





