SHAWORDS
Chandrabhan Khayal

Chandrabhan Khayal

Chandrabhan Khayal

Chandrabhan Khayal

poet
20Sher
20Shayari
25Ghazal

Sherشعر

See all 20

Popular Sher & Shayari

40 total

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

kaun kahtaa hai mahv-e-khvaab huun main

کون کہتا ہے محو خواب ہوں میں سچ تو وہ ہے کہ انقلاب ہوں میں زندگی کیا ہے اور موت ہے کیا ان سوالات کا جواب ہوں میں خوف کھاتی ہے مجھ سے خاموشی دشت میں گونجتا رباب ہوں میں شہر کے بھیڑیوں سے کیا ڈرنا جنگلی شیر سا شباب ہوں میں ہر ورق جس کا آگ اور دھواں داستانوں کی وہ کتاب ہوں میں تم اندھیرے میں کیوں چلے آئے روشنی میں بھی بے حساب ہوں میں مجھ کو جگنو کا نام دے کے نہ ہنس اپنی دنیا کا آفتاب ہوں میں

غزل · Ghazal

nafrat ki siyaasat 'aam hui ikhlaas-o-mohabbat bhuul gae

نفرت کی سیاست عام ہوئی اخلاص و محبت بھول گئے ہم اپنے بزرگوں کی حکمت پیغام و نصیحت بھول گئے مذہب کے مقاصد اک جیسے افکار و عقائد یک رنگی اک راہ پہ چلنے والے سب صدیوں کی رفاقت بھول گئے یہ مندر و مسجد کے جھگڑے یہ شیخ و برہمن کے قصے سب فرق و ذلالت یاد مگر ایماں کی حرارت بھول گئے عاشق ہیں رسول رب کے سبھی ہیں رام کے دیوانے بھی سبھی دونوں کی قیادت کے حامی کیوں نقش قیادت بھول گئے ساون کے وہ جھولوں کی شہرت رمضان کے روزوں کی برکت ہولی کی بہاروں کی ہلچل عیدوں کی سعادت بھول گئے ہیں رام کے غازی سیف بکف بے کیف نمازی سنگ بکف دونوں حق کے حامی لیکن حق ہی کی حقیقت بھول گئے سب جنگل کاٹ دئے لیکن ذہنوں سے وہ وحشی پن نہ گیا آباد ہیں شہروں میں لیکن تہذیب و ثقافت بھول گئے

غزل · Ghazal

ho gai nangi ye duniyaa mere aage

ہو گئی ننگی یہ دنیا میرے آگے اک تماشہ ہے انوکھا میرے آگے رقص طوفان حوادث ہے کہ جیسے ناچتا ہو کوئی بچہ میرے آگے اب نہیں کچھ فرق پڑتا تشنگی کو اک سمندر ہو کہ صحرا میرے آگے ہر زمانے کو دئے ملبوس جس نے وہ برہنہ ہے سراپا میرے آگے بن رہے ہیں کچھ بہانے بے بسی کے مٹ نہ جائے میری دنیا میرے آگے میرے پیچھے علم کا سورج ہے پھر بھی چھا رہا ہے کیوں اندھیرا میرے آگے

غزل · Ghazal

paani se duur rah ke bhi tairaak ho gae

پانی سے دور رہ کے بھی تیراک ہو گئے اب سادہ لوح لوگ بھی چالاک ہو گئے مانند برق یا کہ تھا وہ صورت شرر ایسے نظر اٹھائی کہ ہم خاک ہو گئے مشکل نہ تھی تو ڈرتے نہیں تھے کسی سے ہم مشکل میں آ کے اور بھی بے باک ہو گئے تنہا رہے تو خود کا پتہ تھا نہ غیب کا ان سے ملے تو صاحب ادراک ہو گئے ہم کو اچھوت جان کے دیکھو نہ دور سے چھو کر ہمیں بھی لوگ کئی پاک ہو گئے کی بندگی رسول خدا کی تو دیکھیے ہم بھی خیالؔ شاعر لولاک ہو گئے

غزل · Ghazal

ek dil be-qaraar aur duniyaa

ایک دل بے قرار اور دنیا ہر نفس شعلہ بار اور دنیا زندگی کی یہی حقیقت ہے آرزو انتظار اور دنیا کر رہے ہیں زمیں کو بیچارہ آگ گرد و غبار اور دنیا کیسے پائیں سکون قلب و نظر رنج و غم بے شمار اور دنیا کس طرح وصل یار ہو ممکن خواہشوں کا حصار اور دنیا کون سلجھائے زیست کی الجھن ایک میں بادہ خوار اور دنیا چھوڑ خود پر خیالؔ اترانا چند لمحے ادھار اور دنیا

غزل · Ghazal

parda chehre se haTaae to ghazal ho jaae

پردہ چہرے سے ہٹائے تو غزل ہو جائے زندگی سامنے آئے تو غزل ہو جائے سرد سڑکوں پہ سسکتے ہوئے سناٹوں کا درد جب دل میں سمائے تو غزل ہو جائے سوز ہر لفظ کے سینے میں نہاں ہے اب بھی خامشی ساز اٹھائے تو غزل ہو جائے شہر احساس اگر نرم لب و لہجے میں داستاں اپنی سنائے تو غزل ہو جائے دن کے ہنگاموں میں گم کردہ ہر اک فکر مری شب کی آغوش میں آئے تو غزل ہو جائے کب سے بیٹھا ہوں خیالات کا خیمہ تانے کرب تخلیق ستائے تو غزل ہو جائے شام غم جام بکف ہے تو اس عالم میں خیالؔ ہوش بھی ہاتھ ملائے تو غزل ہو جائے

Similar Poets