urdu hai jis kaa naam hamaari zabaan hai
duniyaa ki har zabaan se pyaari zabaan hai

Dattatriya Kaifi
Dattatriya Kaifi
Dattatriya Kaifi
Popular Shayari
40 totalishq ne jis dil pe qabza kar liyaa
phir kahaan us mein nashaat o gham rahe
koi dil-lagi dil lagaanaa nahin hai
qayaamat hai ye dil kaa aanaa nahin hai
sab kuchh hai aur kuchh bhi nahin dahr kaa vajud
'kaifi' ye baat vo hai muammaa kahein jise
dair o kaaba mein bhaTakte phir rahe hain raat din
DhunDhne se bhi to bandon ko khudaa miltaa nahin
ik khvaab kaa khayaal hai duniyaa kahein jise
hai is mein ik tilism tamannaa kahein jise
uljhaa hi rahne do zulfon ko sanam
jo na khul jaaein bharam achchhe hain
maalum hai vaade ki haqiqat
bahlaa lete hain apne ji ko
tu dekh rahaa hai jo miraa haal hai qaasid
mujh ko yahi kahnaa hai ki main kuchh nahin kahtaa
vo kahaa karte hain koThon chaDhi honTon nikli
dil mein hi rakhnaa jo kal raat huaa koThe par
nafs ko maar kar mile jannat
ye sazaa qaabil-e-qayaas nahin
vafaa par daghaa sulh mein dushmani hai
bhalaai kaa hargiz zamaana nahin hai
Ghazalغزل
غم دنیا نہیں پھر کون سا غم ہے ہم کو فکر و اندیشۂ عقبیٰ سے بھی رم ہے ہم کو دہن غنچہ سے پیغام وفا سنتے ہیں غازۂ عارض صد ہست عدم ہے ہم کو قول یہ سچ ہے کہ خود کردہ کا درماں کیا ہے داور حشر پہ ناحق کا بھرم ہے ہم کو اگلے لقموں میں نہیں قند مکرر کا مزا سخت بے لطف حیات پیہم ہے ہم کو زیست کی کشمکش اور مرگ کی قربت کا الم آمد و رفت نفس تیغ دو دم ہے ہم کو بیٹھے بیٹھے جو کٹے پھر تگ و دو سے حاصل ہر نفس جادۂ ہستی میں قدم ہے ہم کو ذرہ ذرہ میں نظر آتی ہے تصویر صنم سر بسر رو کش صد دیر و حرم ہے ہم کو بار غم بار سے احساں کے بدل جاتا ہے طوق گردن کشش کاف کرم ہے ہم کو حال دل لکھتے نہ لوگوں کی زباں میں پڑتے وجہ انگشت نمائی یہ قلم ہے ہم کو آنکھ کیا ڈالیے اس گل پہ جو کمھلا جائے کیفیؔ اپنا ہی یہ دل باغ ارم ہے ہم کو
gham-e-duniyaa nahin phir kaun saa gham hai ham ko
ہو کے عاشق جان مرنے سے چرائے کس لئے مرد میداں جو نہ ہو میداں میں آئے کس لئے جو دل و ایماں نہ دیں نذر ان بتوں کو دیکھ کر یا خدا وہ لوگ اس دنیا میں آئے کس لئے ہے یہ انداز حیا اور طرز تمکیں کیوں نہیں جو نہ ہووے چور وہ آنکھیں چرائے کس لئے دیکھیے کس جنتی کے آج کھلتے ہیں نصیب تیغ کیوں تولے ہیں یہ چلے چڑھائے کس لئے انگلیاں اپنے پر اٹھوانی نہ ہوں منظور تو وہ کسی کو عام محفل سے اٹھائے کس لئے اس کے پیچ و خم سے جیتے جی نکلنا ہے محال حضرت کیفیؔ تم اس کوچے میں آئے کس لئے
ho ke aashiq jaan marne se churaae kis liye
بادل امڈے ہیں دھواں دھار گھٹا چھائی ہے دھوئیں توبہ کے اڑانے کو بہار آئی ہے تا کہ انگور ہرے ہوں مرے زخم دل کے دھانی انگیا مرے دل دار نے رنگوائی ہے تیرہ بختی سے ہوئی مجھ کو یہ خفت حاصل دل وحشت میں سویدا کی جگہ پائی ہے یہ چلن ہیں تو تمہیں حشر سے دیں گے تشبیہ لوگ سفاک کہیں گے بڑی رسوائی ہے موت کو زیست سمجھتا ہوں میں بیتابی سے تری فرقت نے یہ حالت مری پہنچائی ہے صبر ہجراں میں کرے کیفیؔٔ محزوں کب تک آخر اے دوست کوئی حد شکیبائی ہے
baadal umDe hain dhuaan-dhaar ghaTaa chhaai hai
پانی پانی ہو گیا جوش ابر دریا بار کا دیکھ کر طوفاں ہمارے دیدہ ہائے زار کا چشم ہمدردی مریض عشق ان آنکھوں سے نہ رکھ کام کیا نکلے بھلا بیمار سے بیمار کا دل سے ہمدم نے رہ الفت میں یہ دھوکا دیا کیا کرے اب کوئی دنیا میں بھروسا یار کا دل دیا جس کو اسی نے داغ مایوسی دیا راس ہی آیا نہ ہم کو ہائے کرنا پیار کا یا مٹایا اس کا لکھوایا میں خود ہی مٹ گیا اے مقدر اب تو یہ سر اور در ہے یار کا ہم نے کیفیؔ خوب ہی آنکھیں لڑائیں اس سے کل کر دیا سارا ہرن نشہ نگاہ یار کا
paani paani ho gayaa josh abr-e-dariyaa-baar kaa
ہے عکس آئینہ دل میں کسی بلقیس ثانی کا تصور ہے مرا استاد بہزاد اور مانی کا غنیمت سمجھو یہ مل بیٹھنا یاران جانی کا بھروسا کیا ہے دنیا میں دو روزہ زندگانی کا نزاکت ہو گئی ضرب المثل ان کی زمانے میں بھلا ہو یا الوہی اس ہماری سخت جانی کا ہے عکس اس چشم پر نم میں کسی آبی دوپٹے کا بنایا ہے مکاں ہم نے عجب پانی میں پانی کا غضب کا کاٹ کر کرتی ہیں ادائیں اس پری وش کی ابھاروں پر ہے جوبن اور عالم ہے جوانی کا امنگوں کی کسک بے چین کرتی ہے انہیں لیکن نزاکت روک دیتی ہے ارادہ نوجوانی کا شب فرقت جو ٹھنڈے ٹھنڈے ہو جائے وصال اپنا گماں ہو موت پر اپنی حیات جاودانی کا یہ دل کیوں بجھ گیا سوز فراق شعلہ رویاں میں تماشا ہے کیا ہے آگ نے یاں کام پانی کا خیال اک چشم میگوں کا سدا مسرور رکھتا ہے یہاں کیا کام ہے ساقی شراب ارغوانی کا یہی ہیں دیکھ لو وہ شاعر معجز بیاں کیفیؔ زمانے میں ہے چرچا آج جن کی خوش بیانی کا
hai aks-e-aaina dil mein kisi bilqis-e-saani kaa
وصل کی ان بتوں سے آس نہیں کہ ٹکے دکشنا کو پاس نہیں امتحان وفا پہ کرب فراق پاس ہیں ہائے اور پاس نہیں نفس کو مار کر ملے جنت یہ سزا قابل قیاس نہیں دم میں یہ آنا اور جانا کیا آپ انساں ہیں کچھ حواس نہیں خوف ویراں ہوا ہے خانۂ دل آس کیسی کہ یاں تو یاس نہیں کعبہ میں جا کے کیا کریں زاہد واں کی آب و ہوا ہی راس نہیں شاعری ہے مری کہ سحر حلال بھلا کہہ دیں تو حق شناس نہیں پاؤں کس سے مذاق شعر کی داد آج فیضیؔ و کالیداسؔ نہیں جام خورشید میں ہے آب حیات رام رنگی کا یہ گلاس نہیں کیفیؔ اور جام بادہ سے انکار تم کو کچھ نام کا بھی پاس نہیں
vasl ki un buton se aas nahin





