SHAWORDS
Fariha Naqvi

Fariha Naqvi

Fariha Naqvi

Fariha Naqvi

poet
32Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

شناسائی کا سلسلہ دیکھتی ہوں یہ تم ہو کہ میں آئنا دیکھتی ہوں ہتھیلی سے ٹھنڈا دھواں اٹھ رہا ہے یہی خواب ہر مرتبہ دیکھتی ہوں بڑھے جا رہی ہے یہ روشن نگاہی خرافات ظلمت کدہ دیکھتی ہوں مرے ہجر کے فیصلے سے ڈرو تم! میں خود میں عجب حوصلہ دیکھتی ہوں

shanaasaai kaa silsila dekhti huun

غزل · Ghazal

بیتے خواب کی عادی آنکھیں کون انہیں سمجھائے ہر آہٹ پر دل یوں دھڑکے جیسے تم ہو آئے ضد میں آ کر چھوڑ رہی ہے ان بانہوں کے سائے جل جائے گی موم کی گڑیا دنیا دھوپ سرائے شام ہوئی تو گھر کی ہر اک شے پر آ کر جھپٹے آنگن کی دہلیز پہ بیٹھے ویرانی کے سائے ہر اک دھڑکن درد کی گہری ٹیس میں ڈھل جاتی ہے رات گئے جب یاد کا پنچھی اپنے پر پھیلائے اندر ایسا حبس تھا میں نے کھول دیا دروازہ جس نے دل سے جانا ہے وہ خاموشی سے جائے کس کس پھول کی شادابی کو مسخ کرو گے بولو!!! یہ تو اس کی دین ہے جس کو چاہے وہ مہکائے

biite khvaab ki aadi aankhein kaun unhein samjhaae

غزل · Ghazal

اسے بھولنے کا ستم کر رہے ہیں ہم اپنی اذیت کو کم کر رہے ہیں ہماری نگاہوں سے سپنے چرا کر وہ کس کی نگاہوں میں ضم کر رہے ہیں حیات رواں کی ہر اک نا روائی ہم اپنے لہو سے رقم کر رہے ہیں بھلی کیوں لگے ہم کو خوشیوں کی دستک ابھی ہم محبت کا غم کر رہے ہیں کسے دکھ سنائیں سبھی تو یہاں پر شمار اپنے اپنے الم کر رہے ہیں سخن کو سیاست کا زینہ دکھا کر تماشہ یہ اہل قلم کر رہے ہیں

use bhulne kaa sitam kar rahe hain

غزل · Ghazal

روند پائے نہ دلائل میرے میرے دشمن بھی تھے قائل میرے صاف دکھتی تھی جلن آنکھوں میں پھر بھی ہونٹوں پہ فضائل میرے یہ تہی فکر کنوئیں کے مینڈک یہ نہ سمجھیں گے مسائل میرے چھاؤں دیتے تھے مگر راہ نہیں پیڑ تھے رستے میں حائل میرے آنکھ اب خواب نہیں دے سکتی روشنی مانگ لے سائل میرے جب تلک ہاتھ ترے ہاتھ میں ہے حوصلے ہوں گے نہ زائل میرے اس نے پاس آ کے فریحےؔ بولا گر گئی ہاتھ سے فائل میرے

raund paae na dalaael mere

غزل · Ghazal

ذات کی تیرگی کا نوحہ ہیں شعر کیا ہیں دروں کا گریہ ہیں میں سمندر کبھی نہیں تھی مگر میرے پیروں میں سارے دریا ہیں اب ترے بعد یہ مری آنکھیں رنج کا مستقل ٹھکانہ ہیں اے مرے خواب چھیننے والے یہ مرا آخری اثاثہ ہیں جو ترے سامنے بھی خالی رہا ہم تری دید کا وہ کاسہ ہیں کھیل یا توڑ اب تری مرضی ہم ترے ہاتھ میں کھلونا ہیں عید کے دن یہ سوگوار آنکھیں بدشگونی کا استعارہ ہیں ہم اداسی کے اس دبستاں کا آخری مستند حوالہ ہیں

zaat ki tirgi kaa nauha hain

غزل · Ghazal

اب تو کیچڑ اٹھا اور فصیلوں پہ مل اس سے بڑھ کے تری استطاعت نہیں جا کے پہلے ذرا شاعری کو سمجھ یہ عطا ہے مری جاں سیاست نہیں تم یہ رتبے یہ شہرت سبھی بانٹ لو جاؤ جاؤ مجھے ان کی حسرت نہیں آدمی میں کوئی گن ہوں پھر بات ہے نام رکھنے میں کوئی سعادت نہیں کیا اٹھائیں گے بار جہاں وہ بھلا جن میں مصرعہ اٹھانے کی طاقت نہیں

ab tu kichaD uThaa aur fasilon pe mal

Similar Poets