miri zindagi kaa mahvar yahi soz-o-saaz-e-hasti
kabhi jazb-e-vaalhaana kabhi zabt-e-aarifaana

Farooq Banspari
Farooq Banspari
Farooq Banspari
Popular Shayari
8 totalnadim taarikh-e-fath-e-daanish bas itnaa likh kar tamaam kar de
ki shaatiraan-e-jahaan ne aakhir khud apni chaalon se maat khaai
allaah ke bandon ki hai duniyaa hi niraali
kaanTe koi botaa hai to ugte hain gulistaan
kisi ki raah mein 'faaruq' barbaad-e-vafaa ho kar
buraa kyaa hai ki apne haq mein achchhaa kar liyaa main ne
sitaaron se shab-e-gham kaa to daaman jagmagaa uThThaa
magar aansu bahaa kar hijr ke maaron ne kyaa paayaa
gham-e-ishq hi ne kaaTi gham-e-ishq ki musibat
isi mauj ne Duboyaa isi mauj ne ubhaaraa
mire naakhudaa na ghabraa ye nazar hai apni apni
tire saamne hai tufaan mire saamne kinaaraa
yaqin mujhe bhi hai vo aaeinge zarur magar
vafaa karegi kahaan tak ki zindagi hi to hai
Ghazalغزل
دل ایذا طلب لے تیرا کہنا کر لیا میں نے کسی کے ہجر میں جینا گوارا کر لیا میں نے بت پیماں شکن سے انتقاماً ہی سہی لیکن ستم ہے وعدۂ ترک تمنا کر لیا میں نے نیاز عشق کو صورت نہ جب کوئی نظر آئی جنون بندگی میں خود کو سجدا کر لیا میں نے وفا نا آشنا اس سادگی کی داد دے مجھ کو سمجھ کر تیری باتوں پر بھروسا کر لیا میں نے محبت بے بہا شے ہے مگر تقدیر اچھی تھی متاع دو جہاں دے کر یہ سودا کر لیا میں نے ملا تو دید کا موقع مگر غیرت کو کیا کہیے جب آئی وادی ایمن تو پردا کر لیا میں نے بڑی دولت ہے حق کے نام پر دولت لٹا دینا جہاں میں پھونک کر چاندنی کو سونا کر لیا میں نے کسی کے ایک درد بندگی سے کیا ملی فرصت کہ دل میں سو طرح کا درد پیدا کر لیا میں نے تماشا دیکھتے ہی دیکھتے ان کی اداؤں کا سر محفل خود اپنے کو تماشا کر لیا میں نے کسی کی راہ میں فاروقؔ برباد وفا ہو کر برا کیا ہے کہ اپنے حق میں اچھا کر لیا میں نے
dil-e-izaa-talab le teraa kahnaa kar liyaa main ne
خوشی سے پھولیں نہ اہل صحرا ابھی کہاں سے بہار آئی ابھی تو پہنچا ہے آبلوں تک مرا مذاق برہنہ پائی ترے مفکر سمجھ نہ پائے مزاج تہذیب مصطفائی اصول جہد بقا کے بندے بلند ہے ذوق خود فنائی خلیل مست مے جنوں تھا مگر میں تم سے یہ پوچھتا ہوں رضائے حق کی چھری کے نیچے حیات آئی کی موت آئی جو قلت سیم و زر کا غم ہے تو آؤ قیصر کے جانشینو تمہاری خاطر ذرا جھکا دوں میں اپنا یہ کاسۂ گدائی بجا ترا ناز بے نیازی مگر یہ انصاف بھی نہیں ہے کہ تیری دنیا میں تیرے بندے بتوں کی دیتے پھریں دہائی ندیم تاریخ فتح دانش بس اتنا لکھ کر تمام کر دے کہ شاطران جہاں نے آخر خود اپنی چالوں سے مات کھائی چلو کہ فاروقؔ مے کدے میں دماغ تازہ تو پہلے کر لیں پھر آ کے اہل حرم کو دیں گے پیام تجدید پارسائی
khushi se phulein na ahl-e-sahraa abhi kahaan se bahaar aai
تمہارے قصر آزادی کے معماروں نے کیا پایا جہاں بازوں کی بن آئی جہاں کاروں نے کیا پایا ستاروں سے شب غم کا تو دامن جگمگا اٹھا مگر آنسو بہا کر ہجر کے ماروں نے کیا پایا نقیب عہد زریں صرف اتنا مجھ کو بتلا دے طلوع صبح نو برحق مگر تاروں نے کیا پایا جنوں کی بات چھوڑو اس گئے گھر کا ٹھکانا کیا فریب عقل و حکمت کے پرستاروں نے کیا پایا سرافرازی ملی اہل ہوس کی پارسائی کو مگر تیری محبت کے گنہ گاروں نے کیا پایا کھلونے دے دیے کچھ آپ نے دست تمنا میں بجز داغ جگر آئینہ برداروں نے کیا پایا ملی سر پھوڑتے ہی قید ہستی سے بھی آزادی رکاوٹ ڈال کر زنداں کی دیواروں نے کیا پایا ہمارے سامنے ہی بیٹھ کر فاروقؔ مسند پر ہمیں سے پوچھتے ہو پھر کہ غداروں نے کیا پایا
tumhaare qasr-e-aazaadi ke me'maaron ne kyaa paayaa
جو رہا یوں ہی سلامت مرا جذب والہانہ مجھے خود کرے گا سجدہ ترا سنگ آستانہ رہ حق کے حادثوں کا نہ سنا مجھے فسانہ تری رہبری غلط تھی کہ بہک گیا زمانہ میں جہان ہوش و عرفاں بہ لباس کافرانہ بہ حجاب پارسائی تو ہمہ شراب خانہ تجھے یاد ہے ستم گر کوئی اور بھی فسانہ وہی ذکر آب و دانہ وہی فکر طائرانہ مری زندگی کا محور یہی سوز و ساز ہستی کبھی جذب والہانہ کبھی ضبط عارفانہ ترا جذبۂ رفاقت مرا ساتھ کیسے دے گا کہ میں زندۂ کہستاں تو ہلاک آشیانہ مری بزم فکر میں ہے یہی کشمکش ازل سے کبھی چھا گئی حقیقت تو کبھی جم گیا فسانہ وہ بجائے آہ فاروقؔ ابھی واہ کر رہے ہیں ابھی درد سے ہے خالی یہ نوائے عاشقانہ
jo rahaa yuun hi salaamat miraa jazb-e-vaalhaana
کوہسار کا خوگر ہے نہ پابند گلستاں آزاد ہے ہر قید مقامی سے مسلماں گھر کنج قفس کو بھی بنا لیتی ہے بلبل شاہیں کی نگاہوں میں نشیمن بھی ہے زنداں اللہ کے بندوں کی ہے دنیا ہی نرالی کانٹے کوئی بوتا ہے تو اگتے ہیں گلستاں کہہ دو یہ قیامت سے دبے پاؤں گزر جائے کچھ سوچ رہا ہے ابھی بھارت کا مسلماں اے شیخ حرم آج ترا فیصلہ کیا ہے صف بندئ مسجد کہ صف آرائی میداں سینے میں شکم لے کے ابھرتی ہیں جو قومیں بن جاتی ہیں آخر میں خود آزوقۂ دوراں چلتی ہوئی اک بات ہے نا معتبر اک چیز نا اہل کی دولت ہو کہ نادار کا ایماں ملا کا یہ فتویٰ ہے کہ فاروقؔ ہے ملحد اے دین محمد ترا اللہ نگہباں
kohsaar kaa khugar hai na paaband-e-gulistaan
کبھی بے نیاز مخزن کبھی دشمن کنارا کہیں تجھ کو لے نہ ڈوبے تری زندگی کا دھارا مری قوت نظر کا کئی رخ سے امتحاں ہے کبھی عذر لن ترانی کبھی دعوت نظارا غم عشق ہی نے کاٹی غم عشق کی مصیبت اسی موج نے ڈبویا اسی موج نے ابھارا ترے غم کی پردہ پوشی جو اسی کی مقتضی ہے تو قسم ہے تیرے غم کی مجھے ہر خوشی گوارا دم صبح نو بہاراں جو کلی چمن میں چٹکی تو گماں ہوا کہ جیسے مجھے آپ نے پکارا مرے ناخدا نہ گھبرا یہ نظر ہے اپنی اپنی ترے سامنے ہے طوفاں مرے سامنے کنارا مری کشتی تمنا کبھی خشکیوں میں ڈوبی کبھی بحر غم کا تنکا مجھے دے گیا سہارا ترا حق بھی سر بہ زانو مرا کفر بھی پشیماں مجھے آگہی نے لوٹا تجھے غفلتوں نے مارا یہ کرم یہ مہربانی تری فاروقؔ حزیں پر یہ گلہ ہے کیوں نہ بخشا مجھے شکریے کا یارا
kabhi be-niyaaz-e-makhzan kabhi dushman-e-kinaaraa





