SHAWORDS
Hafeez Hoshiarpuri

Hafeez Hoshiarpuri

Hafeez Hoshiarpuri

Hafeez Hoshiarpuri

poet
24Shayari
19Ghazal

Popular Shayari

24 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائے حدود شام و سحر سے نکل کے دیکھ آئے نہیں پیام رہ نامہ و پیام تو ہے ابھی صبا سے کہو ان کے دل کو بہلائے غرور جادہ شناسی بجا سہی لیکن سراغ منزل مقصود بھی کوئی پائے خدا وہ دن نہ دکھائے کہ راہبر یہ کہے چلے تھے جانے کہاں سے کہاں نکل آئے گزر گیا کوئی درماندہ راہ یہ کہتا اب اس فضا میں کوئی قافلے نہ ٹھہرائے نہ جانے ان کے مقدر میں کیوں ہے تیرہ شبی وہ ہم نوا جو سحر کو قریب تر لائے کوئی فریب نظر ہے کہ تابناک فضا کسے خبر کہ یہاں کتنے چاند گہنائے غم زمانہ تری ظلمتیں ہی کیا کم تھیں کہ بڑھ چلے ہیں اب ان گیسوؤں کے بھی سائے بہت بلند ہے اس سے مرا مقام غزل اگرچہ میں نے محبت کے گیت بھی گائے حفیظؔ اپنا مقدر حفیظؔ اپنا نصیب گرے تھے پھول مگر ہم نے زخم ہی کھائے

kahaan kahaan na tasavvur ne daam phailaae

غزل · Ghazal

من و تو کا حجاب اٹھنے نہ دے اے جان یکتائی کہیں ایسا نہ ہو بن جاؤں خود اپنا تمنائی وہی میں ہوں وہی ہے تیرے غم کی کار فرمائی کبھی تنہائی میں محفل کبھی محفل میں تنہائی خلش انگیز ہے وہ عالم جذب و گریز اب تک تری اچھی بری ہر بات یوں تو مجھ کو یاد آئی قصور ظرف سمجھوں یا شعور لذت اندوزی ترے لطف و کرم میں تشنگی ہی تشنگی پائی نہ چھوڑا دامن ہوش و خرد دل نے محبت میں سزائے دل حصار آگہی کی قید تنہائی

man-o-tu kaa hijaab uThne na de ai jaan-e-yaktaai

غزل · Ghazal

اب کوئی آرزو نہیں ذوق پیام کے سوا اب کوئی جستجو نہیں شوق سلام کے سوا کوئی شریک غم نہیں اب تیری یاد کے سوا کوئی انیس دل نہیں اب تیرے نام کے سوا کاہش آرزو سہی حاصل زندگی مگر حاصل آرزو ہے کیا سوز مدام کے سوا آہ کوئی نہ کر سکا چارۂ تلخئ فراق نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے سوا تیری نگاہ مست سے مجھ پہ یہ راز کھل گیا اور بھی گردشیں ہیں کچھ گردش جام کے سوا رنگ بہار پر نہ پھول بوئے چمن سے درگزر یہ بھی ہیں خوش نما فریب دانہ و دام کے سوا مر کے حیات جاوداں عشق کو مل گئی حفیظؔ جی کے ہوش کو کیا ملا مرگ دوام کے سوا

ab koi aarzu nahin zauq-e-payaam ke sivaa

غزل · Ghazal

اب کوئی آرزو نہیں ذوق پیام کے سوا اب کوئی جستجو نہیں شوق سلام کے سوا کوئی شریک غم نہیں اب تری یاد کے بغیر کوئی انیس دل نہیں اب ترے نام کے سوا تیری نگاہ مست سے مجھ پہ یہ راز کھل گیا اور بھی گردشیں ہیں کچھ گردش جام کے سوا خواہش آرزو سہی حاصل زندگی مگر حاصل آرزو ہے کیا سوز مدام کے سوا آہ کوئی نہ کر سکا چارۂ تلخئ فراق نالۂ صبح کے بغیر گریۂ شام کے سوا رنگ بہار پر نہ بھول بوئے چمن سے در گذر یہ بھی ہیں خوش نما فریب دانہ و دام کے سوا مر کے حیات جاوداں عشق کو مل گئی حفیظؔ جی کے ہوس کو کیا ملا مرگ دوام کے سوا

ab koi aarzu nahin zauq-e-payaam ke sivaa

غزل · Ghazal

غم آفاق ہے رسوا غم دلبر بن کے تہمت عشق لگی ہم پہ سخن ور بن کے وہ نہیں موت سہی موت نہیں نیند سہی کوئی آ جائے شب غم کا مقدر بن کے راہبر تم کو بنایا ہمیں معلوم نہ تھا راہرو راہ بھٹک جاتے ہیں رہبر بن کے اس زیاں خانے میں اک قطرے پہ کیا کیا گزری کبھی آنسو کبھی شبنم کبھی گوہر بن کے موت کی نیند کے ماتوں پہ نہ کیوں رشک آئے جاگنا ہے انہیں ہنگامۂ محشر بن کے یاد پھر آ گئیں بھولی ہوئی باتیں کیا کیا پھر ملاقات ہوئی ایسے مقدر بن کے آہ یہ عقدۂ غم بزم طرب میں بھی حفیظؔ بارہا آنکھ چھلک جاتی ہے ساغر بن کے

gham-e-aafaaq hai rusvaa gham-e-dil-bar ban ke

غزل · Ghazal

نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا ارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کا توفیق رفاقت نہیں ان کو سر منزل رستے میں جنہیں پاس رہا ہم سفری کا اب خانقہ و مدرسہ و مے کدہ ہیں ایک اک سلسلہ ہے قافلۂ بے خبری کا ہر نقش ہے آئینۂ نیرنگ تماشا دنیا ہے کہ حاصل مری حیراں نظری کا اب فرش سے تا عرش زبوں حال ہے فطرت اک معرکہ در پیش ہے عزم بشری کا کب ملتی ہے یہ دولت بیدار کسی کو اور میں ہوں کہ رونا ہے اسی دیدہ وری کا بے واسطۂ عشق بھی رنگ رخ پرویز عنوان ہے فرہاد کی خونیں جگری کا آخر ترے در پہ مجھے لے آئی محبت دیکھا نہ گیا حال مری در بدری کا دل میں ہو فقط تم ہی تم آنکھوں پہ نہ جاؤ آنکھوں کو تو ہے روگ پریشاں نظری کا بے پیرویٔ میرؔ حفیظؔ اپنی روش ہے ہم پر کوئی الزام نہیں کم ہنری کا

nargis pe to ilzaam lagaa be-basari kaa

Similar Poets