SHAWORDS
Hafeez Jalandhari

Hafeez Jalandhari

Hafeez Jalandhari

Hafeez Jalandhari

poet
80Shayari
67Ghazal

Popular Shayari

80 total

Ghazalغزل

See all 67
غزل · Ghazal

نہ کر دل جوئی اے صیاد میری کہ فطرت ہے بہت آزاد میری اسیری سے رہائی پانے والو تمہیں پہنچے مبارک باد میری سہارا کیوں لیا تھا ناخدا کا خدا بھی کیوں کرے امداد میری بھلا دو مجھ کو لیکن یاد رکھنا ستائے گی تمہیں بھی یاد میری فرشتے کیا مرتب کر سکیں گے بہت بے ربط ہے روداد میری پسند آنے لگی تھی سر بلندی یہی تھی اولیں افتاد میری کیا پابند نے نالے کو میں نے یہ طرز خاص ہے ایجاد میری مرے اشعار پر چپ رہنے والے ترے حصے میں آئی داد میری قضا کا ظلم حد سے بڑھ گیا ہے کوئی سنتا نہیں فریاد میری خداوندا قضا نے چھین لی ہے مرے آغوش سے ارشادؔ میری

na kar dil-jui ai sayyaad meri

غزل · Ghazal

او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا ہاں میرے مجروح تبسم خشک لبوں تک آتا جا پھول کی ہست و بود یہی ہے کھلتا جا مرجھاتا جا میری چپ رہنے کی عادت جس کارن بد نام ہوئی اب وہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا یہ دکھ درد کی برکھا بندے دین ہے تیرے داتا کی شکر نعمت بھی کرتا جا دامن بھی پھیلاتا جا جینے کا ارمان کروں یا مرنے کا سامان کروں عشق میں کیا ہوتا ہے ناصح عقل کی بات سجھاتا جا تجھ کو ابرآلود دنوں سے کام نہ چاندنی راتوں سے بہلاتا ہے باتوں سے بہلاتا جا بہلاتا جا دونوں سنگ راہ طلب ہیں راہنما بھی منزل بھی ذوق طلب ہر ایک قدم پر دونوں کو ٹھکراتا جا نغمے سے جب پھول کھلیں گے چننے والے چن لیں گے سننے والے سن لیں گے تو اپنی دھن میں گاتا جا آخر تجھ کو بھی موت آئی خیر حفیظؔ خدا حافظ لیکن مرتے مرتے پیارے وجہ مرگ بتاتا جا

o dil toD ke jaane vaale dil ki baat bataataa jaa

غزل · Ghazal

ان تلخ آنسوؤں کو نہ یوں منہ بنا کے پی یہ مے ہے خودکشید اسے مسکرا کے پی اتریں گے کس کے حلق سے یہ دل خراش گھونٹ کس کو پیام دوں کہ مرے ساتھ آ کے پی مشروب جم ہی تلخئ غم کا علاج ہے شیرینیٔ کلام ذرا سی ملا کے پی واعظ کی اب نہ مان اگر جان ہے عزیز اس دور میں یہ چیز بہ طور اک دوا کے پی بھر لے پیالہ خم کدۂ زیست سے حفیظؔ خون جگر ہے سامنے چل کر خدا کے پی

in talkh aansuon ko na yuun munh banaa ke pi

غزل · Ghazal

یہ کیا مقام ہے وہ نظارے کہاں گئے وہ پھول کیا ہوئے وہ ستارے کہاں گئے یاران بزم جرأت رندانہ کیا ہوئی ان مست انکھڑیوں کے اشارے کہاں گئے ایک اور دور کا وہ تقاضا کدھر گیا امڈے ہوئے وہ ہوش کے دھارے کہاں گئے افتاد کیوں ہے لغزش مستانہ کیوں نہیں وہ عذر مے کشی کے سہارے کہاں گئے دوران زلزلہ جو پناہ نگاہ تھے لیٹے ہوئے تھے پاؤں پسارے کہاں گئے باندھا تھا کیا ہوا پہ وہ امید کا طلسم رنگینی نظر کے غبارے کہاں گئے اٹھ اٹھ کے بیٹھ بیٹھ چکی گرد راہ کی یارو وہ قافلے تھکے ہارے کہاں گئے ہر میر کارواں سے مجھے پوچھنا پڑا ساتھی ترے کدھر کو سدھارے کہاں گئے فرما گئے تھے راہ میں بیٹھ انتظار کر آئے نہیں پلٹ کے وہ پیارے کہاں گئے تم سے بھی جن کا عہد وفا استوار تھا اے دشمنوں وہ دوست ہمارے کہاں گئے کشتی نئی بنی کہ اٹھا لے گیا کوئی تختے جو لگ گئے تھے کنارے کہاں گئے اب ڈوبتوں سے پوچھتا پھرتا ہے ناخدا جن کو لگا چکا ہوں کنارے کہاں گئے بیتاب تیرے درد سے تھے چارہ گر حفیظؔ کیا جانیے وہ درد کے مارے کہاں گئے

ye kyaa maqaam hai vo nazaare kahaan gae

غزل · Ghazal

کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیا چارہ گروں نے اور بھی دل کا درد بڑھا دیا دونوں کو دے کے صورتیں ساتھ ہی آئنہ دیا عشق بسورنے لگا حسن نے مسکرا دیا ذوق نگاہ کے سوا شوق گناہ کے سوا مجھ کو بتوں سے کیا ملا مجھ کو خدا نے کیا دیا تھی نہ خزاں کی روک تھام دامن اختیار میں ہم نے بھری بہار میں اپنا چمن لٹا دیا حسن نظر کی آبرو صنعت برہمن سے ہے جس کو صنم بنا لیا اس کو خدا بنا دیا داغ ہے مجھ پہ عشق کا میرا گناہ بھی تو دیکھ اس کی نگاہ بھی تو دیکھ جس نے یہ گل کھلا دیا عشق کی مملکت میں ہے شورش عقل نامراد ابھرا کہیں جو یہ فساد دل نے وہیں دبا دیا نقش وفا تو میں ہی تھا اب مجھے ڈھونڈتے ہو کیا حرف غلط نظر پڑا تم نے مجھے مٹا دیا خبث دروں دکھا دیا ہر دہن غلیظ نے کچھ نہ کہا حفیظؔ نے ہنس دیا مسکرا دیا

koi davaa na de sake mashvara-e-duaa diyaa

غزل · Ghazal

عشق کے ہاتھوں یہ ساری عالم آرائی ہوئی عشق کے ہاتھوں قیامت بھی ہے اب آئی ہوئی اللہ اللہ کیا ہوا انجام کار آرزو توبہ توبہ کس قدر ہنگامہ آرائی ہوئی کیا ہے میرا حاصل گل چینیٔ باغ جمال آرزو کی چند کلیاں وہ بھی مرجھائی ہوئی چھوڑ بھی یہ سلسلہ او نامراد انتظار موت بیٹھی ہے تیرے بالیں یہ اکتائی ہوئی شہر مایوسی میں اک چھوٹی سی امید وصال اجنبی کی شکل میں پھرتی ہے گھبرائی ہوئی کر لیا ہے عقد اردوئے معلیٰ سے حفیظؔ قلعۂ دہلی سے آئی تھی یہ ٹھکرائی ہوئی

ishq ke haathon ye saari aalam-aaraai hui

Similar Poets