aae Thahre aur ravaana ho gae
zindagi kyaa hai, safar ki baat hai
Haidar Ali Jafri
Haidar Ali Jafri
Haidar Ali Jafri
Popular Shayari
7 totalkhuun mazdur kaa miltaa jo na taamiron mein
na haveli na mahal aur na koi ghar hotaa
kis ki sadaa fazaaon mein gunji hai chaar-su
kis ne mujhe pukaaraa hai bachpan ke naam se
bhulaa na paayaa use jis ko bhuul jaanaa thaa
vafaaon se miraa rishta bahut puraanaa thaa
kyaa zaruri hai ju-e-shir ki baat
kyuun na gang-o-jaman ki baat karein
khinch detaa main zamaane pe mohabbat ke nuqush
mere qabze mein agar khaama-e-shahpar hotaa
sabhi to dost hain kyuun shak abas huaa mujh ko
kisi ke haath kaa patthar miri talaash mein hai
Ghazalغزل
ہوتا فن کار جدید اور نہ شاعر ہوتا لغو بے بحر خیالات کا مظہر ہوتا اور بڑھ جاتی جو ابہام کی ندرت مجھ میں عہد نو کے کسی فرقے کا پیمبر ہوتا کچھ تو ملتا مجھے دشنام طرازی ہی سہی خوب ہوتا جو میں دشمن کے برابر ہوتا کاہے کو دشت میں چبھنے کے لیے رہ جاتا پھول ہوتا کسی گلشن کا گل تر ہوتا مجھ پہ بھی تیشۂ الفت کی عنایت ہوتی کاش کے میں بھی کسی کوہ کا پتھر ہوتا یوں تراشے ہیں صنم کفر کے اس دنیا نے بت شکن ہوتا جو اس دور میں آذرؔ ہوتا کھینچ دیتا میں زمانے پہ محبت کے نقوش میرے قبضے میں اگر خامۂ شہ پر ہوتا اپنی خلیق کا مفہوم سمجھ پاتا اگر دائرہ ہوتا جہاں اور میں محور ہوتا لوگ مجھ کو بھی شہید غم دوراں کہتے نیزۂ وقت پہ گویا جو مرا سر ہوتا دشت کی آب و ہوا نے دیا کانٹوں کا لباس میں بہاروں میں جو پلتا گل احمر ہوتا خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں نہ حویلی نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا تشنہ لب کوئی بھی دنیا میں نہیں رہ پاتا میری آنکھوں کے جو قبضے میں سمندر ہوتا
hotaa fankaar-e-jadid aur na shaa'ir hotaa
متاع درد کا خوگر مری تلاش میں ہے کسی کا بھیجا پیمبر مری تلاش میں ہے ہوں میں ہی نقطۂ آغاز اختتام حصار ہر اک حصار کا محور مری تلاش میں ہے ملی ہے اوج خودی کو یقین محکم سے سنا ہے مرضیٔ داور مری تلاش میں ہے وہ ایک سعی جسے کہتے ہیں ہم سبھی ادراک وہ میرے جسم کے اندر مری تلاش میں ہے سبھی تو دوست ہیں کیوں شک عبث ہوا مجھ کو کسی کے ہاتھ کا پتھر مری تلاش میں ہے مرے خدا میں ہوں تجھ سے پناہ کا طالب مرے گناہوں کا لشکر مری تلاش میں ہے مرے ہی لمس سے غنچوں نے پائی شادابی چمن میں کھلتا گل تر مری تلاش میں ہے کہیں سے سن لیا ہے میری پیاس کا چرچا تبھی سے پیاسا سمندر مری تلاش میں ہے لگا ہے سوچنے عہد رواں کا مرحبؔ بھی بچوں گا کس طرح حیدرؔ مری تلاش میں ہے
mataa-e-dard kaa khugar miri talaash mein hai
عصر جدید آیا بڑی دھوم دھام سے لیکن شکست کھا گیا پچھلے نظام سے کرتا ہے کوئی ترک تعلق بھی اس طرح محروم ہو گیا ہوں پیام و سلام سے زردار کے سلام میں سبقت سبھی کی ہے محروم مفلسی ہے جواب سلام سے کس کی صدا فضاؤں میں گونجی ہے چار سو کس نے مجھے پکارا ہے بچپن کے نام سے بے چینیوں میں رات گزرتی ہے اس طرح آسیب کوئی گھیر لے جیسے کہ شام سے اب با شعور لوگ بھی یہ سوچنے لگے رکھنا ہے ہم کو کام فقط اپنے کام سے سفاکیاں بڑھیں تو درندہ صفت بنا انسان گرا ہے آدمیت کے مقام سے بارش نہیں ہوئی تو مجھے فائدہ ہوا محفوظ ہے مکان مرا انہدام سے ہلکی ہنسی نے فکر کو ضو بار کر دیا پھوٹی کرن کہ طرح لب تشنہ کام سے یہ تو ہے فضل رب کہ ترنم ہوا نصیب لیکن بیاض خالی ہے خود کے کلام سے
asr-e-jadēd aayaa baDi dhum-dhaam se
نہ سر چھپانے کو گھر تھا نہ آب و دانہ تھا زمانے بھر کی نگاہوں کا میں نشانہ تھا بھلا نہ پایا اسے جس کو بھول جانا تھا وفاؤں سے مرا رشتہ بہت پرانا تھا جو عکس غیر کی تابش میں ڈھونڈتا تھا جلا اس آئینے کو بکھرنا تھا ٹوٹ جانا تھا دریچے ماضی کے کھلنے لگے تو یاد آیا یہیں کہیں کسی ڈالی پہ آشیانہ تھا صلے میں کیا مجھے ملتا جو اور رک جاتا ترے خطوط کو اک روز تو جلانا تھا جہاں پہ طائر فکر سخن کے پر سلتے وہیں پہ عقل و خرد کا نیا ٹھکانا تھا لہو کا رنگ چٹانوں کے آبشاروں میں انہیں نشیب میں دریائے خوں بہانا تھا قبائے سرخ سیہ بادلوں نے اوڑھی تھی کسی کے جرم سے پردہ انہیں اٹھانا تھا وہ ایک ہلکے تبسم کی کاٹ سہ نہ سکا ستم کا وار بھی کس درجہ بزدلانہ تھا تمام شورشیں سفاکیاں عروج پہ تھیں بالآخر ان کو عدالت سے چھوٹ جانا تھا دکاں لگائے ہوں ٹوٹے ہوئے کھلونے کی کہ بھولتا نہیں بچپن بھی کیا زمانہ تھا
na sar chhupaane ko ghar thaa na aab-o-daana thaa
عشق کی انجمن کی بات کریں پھر کسی گل بدن کی بات کریں بھول بھی جائیں تیرگیٔ حیات مسکراتی کرن کی بات کریں اس جہاں سے خزاں کا دور گیا لہلہاتے چمن کی بات کریں کیا ضروری ہے جوئے شیر کی بات کیوں نہ گنگ و جمن کی بات کریں سرخ آنچل میں کسمسائی ہوئی صبح کی اس دلہن کی بات کریں ساتھیو گاؤ انقلابی گیت آؤ دار و رسن کی بات کریں
ishq ki anjuman ki baat karein
ارتکاب جرم شر کی بات ہے اور بری ہونا ہنر کی بات ہے اک کہانی ہے کہ صدیوں پر محیط سوچنے میں دوپہر کی بات ہے آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئے زندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے ایک شعلہ سا لپک کر رہ گیا یہ حیات مختصر کی بات ہے ناصحا گر ہو سکے منزل پہ مل زندگی تو رہگزر کی بات ہے شادی و غم پر کریں کیا تبصرہ تیرے میرے سب کے گھر کی بات ہے راستے تو ہیں مگر منزل نہیں کیا ہمارے راہ بر کی بات ہے اب تو دوکانوں پہ بکتی ہے وفا دوستو افراط زر کی بات ہے بال و پر ہوتے تو کیوں ہوتے اسیر قید میں کیوں بال و پر کی بات ہے مطمئن کوئی نہیں حالات سے شام کے لب پر سحر کی بات ہے ہر قوی کو ہے وہاں جانے کا حق دشت کی اور بحر و بر کی بات ہے مردنی زائل ہو یا باقی رہے یہ ترے حسن نظر کی بات ہے
irtikaab-e-jurm shar ki baat hai





