ashkon mein piro ke us ki yaadein
paani pe kitaab likh rahaa huun

Hasan Abidi
Hasan Abidi
Hasan Abidi
Popular Shayari
9 totalduniyaa kahaan thi paas-e-viraasat ke zimn mein
ik diin thaa so us pe luTaae hue to hain
ai khudaa insaan ki taqsim-dar-taqsim dekh
paarsaaon devtaaon qaatilon ke darmiyaan
yaad-e-yaaraan dil mein aai huuk ban kar rah gai
jaise ik zakhmi parinda jis ke par TuuTe hue
dil ki dahliz pe jab shaam kaa saaya utraa
ufuq-e-dard se siine mein ujaalaa utraa
shahr-e-naa-pursaan mein kuchh apnaa pata miltaa nahin
baam-o-dar raushan hain lekin raasta miltaa nahin
tishna-kaamon ko yahaan kaun subu detaa hai
gul ko bhi haath lagaao to lahu detaa hai
kuchh na kuchh to hotaa hai ik tire na hone se
varna aisi baaton par kaun haath maltaa hai
sab ummidein mire aashob-e-tamannaa tak thiin
bastiyaan ho gaiin gharqaab to dariyaa utraa
Ghazalغزل
سفر میں ایک جگ تمام ہو گیا اب اپنے گھر کا راستہ بھی کھو گیا پھر اس کے پیرہن کی بو نہ مل سکی وہ میرے خوں میں آستیں ڈبو گیا وہ نیشتر جو اس کے ہاتھ میں نہ تھا گیا تو میری سانس میں پرو گیا اب آنسوؤں کی فصل کاٹتے رہو جدائیوں کے بیج وہ تو بو گیا نہ جانے کس نگر آج شام ہو سحر ہوئی تو جی اداس ہو گیا گزر گئی جو بے گھروں پہ کیا کہیں زمیں کو ابر برشگال دھو گیا مری تو آنکھ نم نہ ہو سکی مگر وہ مجھ پہ میرے آنسوؤں سے رو گیا لکھے گا کون اس صدی کی داستاں ہر ایک پل ہزار سال ہو گیا
safar mein ek jag tamaam ho gayaa
3 views
اب یہی سایۂ دیوار مرا گھر ٹھہرا اسے چھوڑوں بھی تو کیسے مرا پیکر ٹھہرا اب کسی اور جزیرے کا سفر کیوں کیجے میں بھی انسان ہوں آشوب کا خوگر ٹھہرا وقت کا اپنا سفر ابر کی اپنی منزل ایک پل کے لئے سایہ مرے در پر ٹھہرا پھر اسے پیاس کے صحرا سے پکارا میں نے میں کہ مواج سمندر کا شناور ٹھہرا کیوں نہ برگشتہ ہو قسمت کا ستارہ مجھ سے کہ ستارہ بھی وہی ماہ منور ٹھہرا ضبط لازم تھا مگر آنکھ میں آنسو بھر آئے آ کے سیلاب میرے گھر کے برابر ٹھہرا رفعت دار سے انساں کا بھرم ہے ورنہ کون بے منت سلطاں سر منبر ٹھہرا
ab yahi saaya-e-divaar miraa ghar Thahraa
2 views
کون دیکھے میری شاخوں کے ثمر ٹوٹے ہوئے گھر سے باہر راستوں میں ہیں شجر ٹوٹے ہوئے لٹ گیا دن کا اثاثہ اور باقی رہ گئے شام کی دہلیز پر لعل و گہر ٹوٹے ہوئے یاد یاراں دل میں آئی ہوک بن کر رہ گئی جیسے اک زخمی پرندہ جس کے پر ٹوٹے ہوئے رات ہے اور آتی جاتی ساعتیں آنکھوں میں ہیں جیسے آئینے بساط خواب پر ٹوٹے ہوئے آبگینے پتھروں پر سرنگوں ہوتے گئے اور ہم بچ کر نکل آئے مگر ٹوٹے ہوئے مل گئے مٹی میں کیا کیا منتظر آنکھوں کے خواب کس نے دیکھے ہیں ستارے خاک پر ٹوٹے ہوئے وہ جو دل کی مملکت تھی بابری مسجد ہوئی بستیاں سنسان گھر ویران در ٹوٹے ہوئے
kaun dekhe meri shaakhon ke samar TuuTe hue
2 views
پہلے ہی بار دوش ہیں سر بھی گئے تو کیا جاناں ہم اپنی جاں سے گزر بھی گئے تو کیا جینا متاع خویش نہ مرنا عطائے غیر جیتے رہے تو کیا ہے جو مر بھی گئے تو کیا دل خوں ہے ایک ترک محبت کے داغ سے رسوائیوں کے داغ اتر بھی گئے تو کیا مٹی میں اعتبار نمو ڈھونڈھتا ہوں میں بادل ہوا کے ساتھ بکھر بھی گئے تو کیا شبنم سے اپنی پیاس بجھاتی ہیں کھیتیاں دریا سمندروں میں اتر بھی گئے تو کیا طغیانیوں کی زد میں ٹھکانے سبھی کے ہیں کشتی ڈبو کے پار اتر بھی گئے تو کیا گھر میں تھا احتیاج کا دفتر کھلا ہوا دفتر کی خاک چھان کے گھر بھی گئے تو کیا
pahle hi baar-e-dosh hain sar bhi gae to kyaa
1 views
تشنہ کاموں کو یہاں کون سبو دیتا ہے گل کو بھی ہاتھ لگاؤ تو لہو دیتا ہے نیشتر اور سہی کار دگر اور سہی دل صد چاک اگر اذن رفو دیتا ہے تاب فریاد بھی دے لذت بیداد بھی دے دینے والے جو مجھے سوز گلو دیتا ہے ہم تو برباد ہوئے برگ خزاں کی صورت شاخ گل کون تجھے ذوق نمو دیتا ہے منصفو ہاتھ سے اب دشنہ و خنجر رکھ دو کیا برا ہے اگر انصاف عدو دیتا ہے اے خداوند مرے شعر کی قیمت کیا ہے ایک روٹی کا نوالہ جسے تو دیتا ہے
tishna-kaamon ko yahaan kaun subu detaa hai
1 views
ہم تیرگی میں شمع جلائے ہوئے تو ہیں ہاتھوں میں سرخ جام اٹھائے ہوئے تو ہیں اس جان انجمن کے لیے بے قرار دل آنکھوں میں انتظار سجائے ہوئے تو ہیں میلاد ہو کہ مجلس غم مبتلا ترے آنگن میں دل کے فرش بچھائے ہوئے تو ہیں حزب حرم نے شوق جنوں کو بڑھا دیا سینے سے ہم بتوں کو لگائے ہوئے تو ہیں دنیا کہاں تھی پاس وراثت کے ضمن میں اک دین تھا سو اس پہ لٹائے ہوئے تو ہیں کب چوب دار پر ہوں سرافراز دیکھیے اس شوخ کی نگاہ میں آئے ہوئے تو ہیں
ham tirgi mein sham' jalaae hue to hain
1 views





