SHAWORDS
Hastimal Hasti

Hastimal Hasti

Hastimal Hasti

Hastimal Hasti

poet
15Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

15 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

چراغ دل کا مقابل ہوا کے رکھتے ہیں ہر ایک حال میں تیور بلا کے رکھتے ہیں ملا دیا ہے پسینہ بھلے ہی مٹی میں ہم اپنی آنکھ کا پانی بچا کے رکھتے ہیں ہمیں پسند نہیں جنگ میں بھی مکاری جسے نشانے پہ رکھیں بتا کے رکھتے ہیں کہیں خلوص کہیں دوستی کہیں پہ وفا بڑے قرینے سے گھر کو سجا کے رکھتے ہیں انا پسند ہیں ہستیؔ جی سچ سہی لیکن نظر کو اپنی ہمیشہ جھکا کے رکھتے ہیں

charaagh dil kaa muqaabil havaa ke rakhte hain

غزل · Ghazal

اس بار ملے ہیں غم کچھ اور طرح سے بھی آنکھیں ہیں ہماری نم کچھ اور طرح سے بھی شعلہ بھی نہیں اٹھتا کاجل بھی نہیں بنتا جلتا ہے کسی کا غم کچھ اور طرح سے بھی ہر شاخ سلگتی ہے ہر پھول دہکتا ہے گرتی ہے کبھی شبنم کچھ اور طرح سے بھی منزل نے دیئے طعنے رستے بھی ہنسے لیکن چلتے رہے اکثر ہم کچھ اور طرح سے بھی دامن کہیں پھیلا تو محسوس ہوا یارو قد ہوتا ہے اپنا کم کچھ اور طرح سے بھی اس نے ہی نہیں دیکھا یہ بات الگ ورنہ اس بار سجے تھے ہم کچھ اور طرح سے بھی

is baar mile hain gham kuchh aur tarah se bhi

غزل · Ghazal

صرف خیالوں میں نہ رہا کر خود سے باہر بھی نکلا کر لب پہ نہیں آتیں سب باتیں خاموشی کو بھی سمجھا کر عمر سنور جائے گی تیری پیار کو اپنا آئینہ کر جب تو کوئی قلم خریدے پہلے ان کا نام لکھا کر سوچ سمجھ سب طاق پہ رکھ کر پیار میں بچوں سا مچلا کر

sirf khayaalon mein na rahaa kar

غزل · Ghazal

شیشے کے مقدر میں بدل کیوں نہیں ہوتا ان پتھروں کی آنکھ میں جل کیوں نہیں ہوتا قدرت کے اصولوں میں بدل کیوں نہیں ہوتا جو آج ہوا ہے وہی کل کیوں نہیں ہوتا ہر جھیل میں پانی ہے ہر اک جھیل میں لہریں پھر سب کے مقدر میں کنول کیوں نہیں ہوتا جب اس نے ہی دنیا کا یہ دیوان رچا ہے ہر آدمی پیاری سی غزل کیوں نہیں ہوتا ہر بار نہ ملنے کی قسم کھا کے ملے ہم اپنے ہی ارادوں پہ عمل کیوں نہیں ہوتا ہر گاؤں میں ممتاز جنم کیوں نہیں لیتی ہر موڑ پہ اک تاج محل کیوں نہیں ہوتا

shishe ke muqaddar mein badal kyuun nahin hotaa

غزل · Ghazal

یہ ممکن ہے کہ مل جائیں تری کھوئی ہوئی چیزیں قرینے سے سجا کر رکھا ذرا بکھری ہوئی چیزیں کبھی یوں بھی ہوا ہے ہنستے ہنستے توڑ دی ہم نے ہمیں معلوم تھا جڑتی نہیں ٹوٹی ہوئی چیزیں زمانے کے لئے جو ہیں بڑی نایاب اور مہنگی ہمارے دل سے سب کی سب ہیں وہ اتری ہوئی چیزیں دکھاتی ہیں ہمیں مجبوریاں ایسے بھی دل اکثر اٹھانی پڑتی ہیں پھر سے ہمیں پھینکی ہوئی چیزیں کسی محفل میں جب انسانیت کا نام آیا ہے ہمیں یاد آ گئی بازار میں بکتی ہوئی چیزیں

ye mumkin hai ki mil jaaein tiri khoi hui chizein

غزل · Ghazal

ڈھونڈا ہے ہر جگہ پہ کہیں پر نہیں ملا غم سے تو گہرا کوئی سمندر نہیں ملا یہ تجربہ ہوا ہے محبت کی راہ میں کھو کر ملا جو ہم کو وہ پا کر نہیں ملا دہلیز اپنی چھوڑ دی جس نے بھی ایک بار دیوار و در ہی اس کو ملے گھر نہیں ملا ساری چمک ہمارے پسینے کی ہے جناب ورثے میں ہم کو کوئی بھی زیور نہیں ملا گھر سے ہماری آنکھ مچولی رہی صدا آنگن نہیں ملا تو کبھی در نہیں ملا

DhunDaa hai har jagah pa kahin par nahin milaa

Similar Poets