SHAWORDS
Idris Babar

Idris Babar

Idris Babar

Idris Babar

poet
40Shayari
38Ghazal

Popular Shayari

40 total

Ghazalغزل

See all 38
غزل · Ghazal

وہ شہر اتفاق سے نہیں ملا ہمیں تو کچھ بھی خاک سے نہیں ملا نہیں میاں بجھا ہوا نہیں یہ دل نہیں ہمیں یہ طاق سے نہیں ملا کدھر گیا وہ کوزہ گر خبر نہیں کوئی سراغ چاک سے نہیں ملا سمندروں پہ سرسری نگاہ کی یہ دشت انہماک سے نہیں ملا سب آئنے یہ دھول دیکھتے رہے کوئی ترے ہلاک سے نہیں ملا

vo shahr ittifaaq se nahin milaa

غزل · Ghazal

میں کچھ دنوں میں اسے چھوڑ جانے والا تھا جہاز غرق ہوا جو خزانے والا تھا گلوں سے بوئے شکست اٹھ رہی ہے نغمہ گرو یہیں کہیں کوئی کوزے بنانے والا تھا عجیب حال تھا اس دشت کا میں آیا تو نہ خاک تھی نہ کوئی خاک اڑانے والا تھا تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا کہانی جس میں یہ دنیا نئی تھی اچھی تھی اور اس پہ وقت برا وقت آنے والا تھا بس ایک خواب کی دوری پہ تھا وہ شہر جہاں میں اپنے نام کا سکہ چلانے والا تھا شجر کے ساتھ مجھے بھی ہلا گیا بابرؔ وہ سانحہ جو اسے پیش آنے والا تھا

main kuchh dinon mein use chhoD jaane vaalaa thaa

غزل · Ghazal

میں اسے سوچتا رہا یعنی وہ مرا خواب ہے خدا یعنی ہجر سے ہجر تک تھی یہ ہجرت وہ ملا یعنی کھو گیا یعنی گردش مہر و ماہ کا حاصل یعنی میرا وجود لا یعنی دل کہاں شہسوار دنیا تھا سو گرا گر کے مر گیا یعنی تو مجھے اس کا نام بھول گیا ہو گیا میں بھی لاپتا یعنی کام کی بات پوچھتے کیا ہو کچھ ہوا کچھ نہیں ہوا یعنی چلتے رہئے تو سوکھ جائے گا یہ سمندر یہ آبلہ یعنی یعنی تم سے تو میں ملا ہی نہیں وہ کوئی اور شخص تھا یعنی کوئی آواز ٹوٹنے کی نہیں دل میں اک بات ہے خلا یعنی اس کو خوش دیکھ کر وہاں بابرؔ میں بھی خوش تھا اداس تھا یعنی

main use sochtaa rahaa yaani

غزل · Ghazal

اس سے پھولوں والے بھی عاجز آ گئے ہیں تیری خاطر جو گلدستہ ڈھونڈ رہا ہے دل کو دھکے کھاتے نکالے جاتے دیکھ کے ساحل اپنا پکا دریا ڈھونڈ رہا ہے تسمہ کھلا جیسے آزاد تلازمہ ہو واہ ایک پہن کے دوسرا جوتا ڈھونڈ رہا ہے اس کے فلیٹ سے باہر کوئی دور کا دوست پاس کے بس اسٹاپ کا رستہ ڈھونڈ رہا ہے بس کر دے اب، کب سے مطلع ڈھونڈ رہا ہے کیا کوئی تیسرا چوتھا مصرع ڈھونڈ رہا ہے ایم اے کیے بنت موچی کو چوتھا سال ہے تب سے وہ جاب اور کرمو رشتہ ڈھونڈ رہا ہے ہر مصنوعی پنکھا جھوٹا میک اپ کر کے ذات کی شہر پناہ میں رخنہ ڈھونڈ رہا ہے لیمپ جلاتے اور بجھا کے پھر سے جلاتے یا وہ مجھے گم کرتا ہے یا ڈھونڈ رہا ہے پارٹی ٹھپ مہمان خصوصی شاعر اعظم پتلی گلی میں پان کا کھوکھا ڈھونڈ رہا ہے یارو بیٹھے نہریں کھودو باتیں چھوڑو میں اسے ڈھونڈ لوں مجھے جو تنہا ڈھونڈ رہا ہے اک لڑکی اپنے لیے لڑکی ڈھونڈ رہی ہے اک لڑکا اپنے لیے لڑکا ڈھونڈ رہا ہے موبائل پر ایپ لگاؤ کام چلاؤ کون پرانے شہر کا نقشہ ڈھونڈ رہا ہے روزے رکهواؤ کھلواؤ جنت پاؤ بندہ تو دو وقت کا کھانا ڈھونڈ رہا ہے میری اکلوتی ٹی شرٹ پہ قبضہ جمائے اچھا روم میٹ اپنا کچھا ڈھونڈ رہا ہے کھل کھلا کے لوڈ شیڈنگ سے فیض اٹھا کے یوسف جانی تجھے یہ اندھا ڈھونڈ رہا ہے گدلے پانی سے دھلتے اسٹیشن پر کس کو گرما گرم سی چائے کا پیالہ ڈھونڈ رہا ہے سینے پر دو قبروں کے تعویذ بندھے ہیں بچ کر، دھوپ! مجھے اک سایہ ڈھونڈ رہا ہے یو ای ٹی میں چهٹیاں ہونے والی ہیں دوست کون سا ہاسٹل کس کا کمرہ ڈھونڈ رہا ہے

is se phulon vaale bhi aajiz aa gae hain

غزل · Ghazal

مطلع غزل کا غیر ضروری کیا کیوں کب کا حصہ ہے زندگی چاکلیٹ کیک ہے تھوڑا تھوڑا سب کا حصہ ہے اب جو بار میں تنہا پیتا ہوں کافی کے نام پہ زہر اس کی تلخ سی شیرینی میں اس کے لب کا حصہ ہے لوک کہانیوں میں مابعد جدید کی پیش آمد جیسے فکشن کی ری سیل ویلیو میں مذہب کا حصہ ہے کے پی کے افغانستان ہے اور بلوچستان ایران سندھ ہے چین میں اور پیارا پنجاب عرب کا حصہ ہے سوہنی یا سوہنے سے پہلے حق ہے گھڑے پر پانی کا کب سے گھڑی میں جب اور تب سے زیادہ اب کا حصہ ہے مانا ہجر کی رات ہے یہ پر کتنی خوشی کی بات ہے یہ غم کی رم رم جھم کی ہمدم بزم طرب کا حصہ ہے کیب چلانے والے داجی ٹیب چلانے والا ساجی وہ جو ادب کا حصہ تھے تو یہ بھی ادب کا حصہ ہے طے ہوا نظم ہی مستقبل ہے پان سو بل ہے بھئی پیارو آنکھ نہ مارو غزل ہمارے حسب نسب کا حصہ ہے اک دن جب بوڑھے پینٹر کے پاس شراب کے پیسے نہیں تھے چھت پر یہ گھنگھور گھٹا تب سے اس پب کا حصہ ہے سیکس جو پہلے ساختیاتی روز و شب کا حصہ تھی اب مابعد ساختیاتی روز و شب کا حصہ ہے قافیہ بحر ردیف وغیرہ جیسے حریف ظریف وغیرہ ان کو ٹھنڈا سوڈا پلاؤ بھائی یہ کب کا قصہ ہے

matla ghazal kaa ghair zaruri kyaa kyuun kab kaa hissa hai

غزل · Ghazal

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے ایک رخنہ سا ہے دیوار میں در سے کم ہے حرف کی لو میں ادھر اور بڑھا دیتا ہوں آپ بتلائیں تو یہ خواب جدھر سے کم ہے ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے سوچ لو میں بھی ہوا چپ تو گراں گزرے گا یہ اندھیرا جو مرے شور و شرر سے کم ہے وہ بجھا جائے تو یہ دل کو جلا دے پھر سے شام ہی کون سی راحت میں سحر سے کم ہے خاک اتنی نہ اڑائیں تو ہمیں بھی بابرؔ دشت اچھا ہے کہ ویرانی میں گھر سے کم ہے

rabt asiron ko abhi us gul-e-tar se kam hai

Similar Poets