"vo mil gaya to bichhaDna paDega phir 'zarrin' isi khayal se ham raste badalte rahe"

Iffat Zarrin
Iffat Zarrin
Iffat Zarrin
Sherشعر
See all 7 →vo mil gaya to bichhaDna paDega phir 'zarrin'
وہ مل گیا تو بچھڑنا پڑے گا پھر زریںؔ اسی خیال سے ہم راستے بدلتے رہے
dekh kar insan ki bechargi
دیکھ کر انسان کی بیچارگی شام سے پہلے پرندے سو گئے
vo mujh ko bhuul chuka ab yaqin hai varna
وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہ وفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا
kaun pahchanega 'zarrin' mujh ko itni bhiiD men
کون پہچانے گا زریںؔ مجھ کو اتنی بھیڑ میں میرے چہرے سے وہ اپنی ہر نشانی لے گیا
zehn o dil ke fasle the ham jinhen sahte rahe
ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے ایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہے
patthar ke jism mom ke chehre dhuan dhuan
پتھر کے جسم موم کے چہرے دھواں دھواں کس شہر میں اڑا کے ہوا لے گئی مجھے
Popular Sher & Shayari
14 total"dekh kar insan ki bechargi shaam se pahle parinde so ga.e"
"vo mujh ko bhuul chuka ab yaqin hai varna vafa nahin to jafaon ka silsila rakhta"
"kaun pahchanega 'zarrin' mujh ko itni bhiiD men mere chehre se vo apni har nishani le gaya"
"zehn o dil ke fasle the ham jinhen sahte rahe ek hi ghar men bahut se ajnabi rahte rahe"
"patthar ke jism mom ke chehre dhuan dhuan kis shahr men uDa ke hava le ga.i mujhe"
zehn o dil ke faasle the ham jinhein sahte rahe
ek hi ghar mein bahut se ajnabi rahte rahe
patthar ke jism mom ke chehre dhuaan dhuaan
kis shahr mein uDaa ke havaa le gai mujhe
vo mil gayaa to bichhaDnaa paDegaa phir 'zarrin'
isi khayaal se ham raaste badalte rahe
dekh kar insaan ki bechaargi
shaam se pahle parinde so gae
vo mujh ko bhuul chukaa ab yaqin hai varna
vafaa nahin to jafaaon kaa silsila rakhtaa
agar vo chaand ki basti kaa rahne vaalaa thaa
to apne saath sitaaron kaa qaafila rakhtaa
Ghazalغزل
aable suukh chuke phir bhi kasak baaqi hai
آبلے سوکھ چکے پھر بھی کسک باقی ہے دل کے ہر زخم میں یادوں کی مہک باقی ہے چھوڑ دوں کیسے بھلا اپنے بزرگوں کا چلن میری رگ رگ میں ابھی ان کا نمک باقی ہے جن کے سائے میں بہل جاتا تھا بچپن اکثر میرے احساس میں اب تک وہ دھنک باقی ہے تم کو آنا ہے تو آ جاؤ بصد شوق یہاں اب بھی حالات میں ہلکی سی لچک باقی ہے بند ہوتی نہیں پلکیں مری صدیاں گزریں خواب تو ٹوٹ چکے صرف چمک باقی ہے دل کی دھڑکن مری آواز انا ہے زریںؔ میرے ہر لفظ میں لہجہ کی کھنک باقی ہے
kaarvaan sust-musaafir ko sazaa detaa hai
کارواں سست مسافر کو سزا دیتا ہے زرد پتے کو ہر اک پیڑ گرا دیتا ہے اپنی آنکھوں کو وہ بے وجہ سزا دیتا ہے گیلے ایندھن کو اگر کوئی ہوا دیتا ہے اب مرے بس میں کہاں ہے کہ میں واپس آؤں میرا ماضی مجھے بے کار صدا دیتا ہے کس لیے تو نے بجھا ڈالے سلگتے سپنے کس لیے اب انہیں رہ رہ کے ہوا دیتا ہے زندگی ہم نے بنائی ہے عمل سے لیکن ہم بھی کہتے ہیں یہ ہی سب کو خدا دیتا ہے ایک بہتا ہوا تنکا بھی اہم ہے زریںؔ اپنی رفتار سے دریا کا پتا دیتا ہے
baarish-e-ashk bazaahir to suhaani hogi
بارش اشک بظاہر تو سہانی ہوگی ہاں مگر عمر سمندر میں گنوانی ہوگی مشعلیں ساتھ رکھو رات بھیانک ہے بہت آگ جنگل میں بہر گام جلانی ہوگی میں مصور ہوں مرے فن کا تقاضا ہے یہی مجھ کو دشمن کی بھی تصویر بنانی ہوگی یوں تو پتھر کی بھی قسمت ہے حسیں تاج محل اپنی تقدیر مگر آپ بنانی ہوگی آج تو زخم کے پھولوں کی مہک ہے تازہ کل تم آئے بھی تو ہر بات پرانی ہوگی مجھ کو احساس کے پیکر میں نہ ڈھونڈو لوگو میری آواز تمہیں ڈھونڈ کے لانی ہوگی ہم نے ہر عہد سے سمجھوتا کیا ہے زریںؔ کچھ بھی ہو اب تو ہر اک بات نبھانی ہوگی
ruuh jismon se baahar bhaTakti rahi
روح جسموں سے باہر بھٹکتی رہی زخمی یادوں کو آنچل سے ڈھکتی رہی میرے ہاتھوں میں تھیں گرد کی چادریں زندگی تھی کے دامن جھٹکتی رہی چاندنی میں حسیں زہر گھلتا رہا سر کو مرمر پہ ناگن پٹکتی رہی میں گھٹاؤں سے خود کو بچاتی رہی تیغ بجلی کی سر پہ لٹکتی رہی میرے ہونٹوں کو کب مل سکی بانسری سانس زریںؔ لبوں پہ اٹکتی رہی
ajiib karb-e-musalsal dil-o-nazar mein rahaa
عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہا وہ روشنی کا مسافر اندھیرے گھر میں رہا وہ چاندنی کا مرقع نہیں تھا جگنو تھا چراغ بن کے جلا اور شجر شجر میں رہا کہاوتوں کی طرح وہ بھی شہر معنی تھا بجھا بجھا سا دیا جو کسی کھنڈر میں رہا وہ جس کو کھوج سرابوں میں تھی سمندر کی وہ اپنے دشت دل و جاں کی رہ گزر میں رہا وہی تو نقش قدم تھے جو سارے مٹتے گئے وہ داغ سجدہ تھا باقی جو سنگ در میں رہا یہی طلسم تھا زریںؔ جسے نہ توڑ سکی وجود اس کا تو تقدیر کے بھنور میں رہا
jism-o-jaan ki basti mein silsile nahin milte
جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتے اب کسی بھی مرکز سے دائرے نہیں ملتے دو قدم بچھڑنے سے قافلے نہیں ملتے منزلیں تو ملتی ہیں راستے نہیں ملتے بارہا تراشا ہے ہم نے آپ کا چہرہ آپ کو نہ جانے کیوں آئنہ نہیں ملتے وقت کی کمی کہہ کر جہل کو چھپاتے ہیں آج کل کتابوں میں حاشیے نہیں ملتے آج بھی زمانے میں آدمی کرشمہ ہیں شعبدے تو ملتے ہیں معجزے نہیں ملتے زندگی کا ہر لمحہ آرزو کا دشمن ہے حادثوں کی خواہش میں حادثے نہیں ملتے آج قتل کرنا بھی بن گیا ہے فن زریںؔ قتل کرنے والوں کے کچھ پتے نہیں ملتے





