SHAWORDS
Iffat Zarrin

Iffat Zarrin

Iffat Zarrin

Iffat Zarrin

poet
7Sher
7Shayari
14Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

aable suukh chuke phir bhi kasak baaqi hai

آبلے سوکھ چکے پھر بھی کسک باقی ہے دل کے ہر زخم میں یادوں کی مہک باقی ہے چھوڑ دوں کیسے بھلا اپنے بزرگوں کا چلن میری رگ رگ میں ابھی ان کا نمک باقی ہے جن کے سائے میں بہل جاتا تھا بچپن اکثر میرے احساس میں اب تک وہ دھنک باقی ہے تم کو آنا ہے تو آ جاؤ بصد شوق یہاں اب بھی حالات میں ہلکی سی لچک باقی ہے بند ہوتی نہیں پلکیں مری صدیاں گزریں خواب تو ٹوٹ چکے صرف چمک باقی ہے دل کی دھڑکن مری آواز انا ہے زریںؔ میرے ہر لفظ میں لہجہ کی کھنک باقی ہے

غزل · Ghazal

kaarvaan sust-musaafir ko sazaa detaa hai

کارواں سست مسافر کو سزا دیتا ہے زرد پتے کو ہر اک پیڑ گرا دیتا ہے اپنی آنکھوں کو وہ بے وجہ سزا دیتا ہے گیلے ایندھن کو اگر کوئی ہوا دیتا ہے اب مرے بس میں کہاں ہے کہ میں واپس آؤں میرا ماضی مجھے بے کار صدا دیتا ہے کس لیے تو نے بجھا ڈالے سلگتے سپنے کس لیے اب انہیں رہ رہ کے ہوا دیتا ہے زندگی ہم نے بنائی ہے عمل سے لیکن ہم بھی کہتے ہیں یہ ہی سب کو خدا دیتا ہے ایک بہتا ہوا تنکا بھی اہم ہے زریںؔ اپنی رفتار سے دریا کا پتا دیتا ہے

غزل · Ghazal

baarish-e-ashk bazaahir to suhaani hogi

بارش اشک بظاہر تو سہانی ہوگی ہاں مگر عمر سمندر میں گنوانی ہوگی مشعلیں ساتھ رکھو رات بھیانک ہے بہت آگ جنگل میں بہر گام جلانی ہوگی میں مصور ہوں مرے فن کا تقاضا ہے یہی مجھ کو دشمن کی بھی تصویر بنانی ہوگی یوں تو پتھر کی بھی قسمت ہے حسیں تاج محل اپنی تقدیر مگر آپ بنانی ہوگی آج تو زخم کے پھولوں کی مہک ہے تازہ کل تم آئے بھی تو ہر بات پرانی ہوگی مجھ کو احساس کے پیکر میں نہ ڈھونڈو لوگو میری آواز تمہیں ڈھونڈ کے لانی ہوگی ہم نے ہر عہد سے سمجھوتا کیا ہے زریںؔ کچھ بھی ہو اب تو ہر اک بات نبھانی ہوگی

غزل · Ghazal

ruuh jismon se baahar bhaTakti rahi

روح جسموں سے باہر بھٹکتی رہی زخمی یادوں کو آنچل سے ڈھکتی رہی میرے ہاتھوں میں تھیں گرد کی چادریں زندگی تھی کے دامن جھٹکتی رہی چاندنی میں حسیں زہر گھلتا رہا سر کو مرمر پہ ناگن پٹکتی رہی میں گھٹاؤں سے خود کو بچاتی رہی تیغ بجلی کی سر پہ لٹکتی رہی میرے ہونٹوں کو کب مل سکی بانسری سانس زریںؔ لبوں پہ اٹکتی رہی

غزل · Ghazal

ajiib karb-e-musalsal dil-o-nazar mein rahaa

عجیب کرب مسلسل دل و نظر میں رہا وہ روشنی کا مسافر اندھیرے گھر میں رہا وہ چاندنی کا مرقع نہیں تھا جگنو تھا چراغ بن کے جلا اور شجر شجر میں رہا کہاوتوں کی طرح وہ بھی شہر معنی تھا بجھا بجھا سا دیا جو کسی کھنڈر میں رہا وہ جس کو کھوج سرابوں میں تھی سمندر کی وہ اپنے دشت دل و جاں کی رہ گزر میں رہا وہی تو نقش قدم تھے جو سارے مٹتے گئے وہ داغ سجدہ تھا باقی جو سنگ در میں رہا یہی طلسم تھا زریںؔ جسے نہ توڑ سکی وجود اس کا تو تقدیر کے بھنور میں رہا

غزل · Ghazal

jism-o-jaan ki basti mein silsile nahin milte

جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتے اب کسی بھی مرکز سے دائرے نہیں ملتے دو قدم بچھڑنے سے قافلے نہیں ملتے منزلیں تو ملتی ہیں راستے نہیں ملتے بارہا تراشا ہے ہم نے آپ کا چہرہ آپ کو نہ جانے کیوں آئنہ نہیں ملتے وقت کی کمی کہہ کر جہل کو چھپاتے ہیں آج کل کتابوں میں حاشیے نہیں ملتے آج بھی زمانے میں آدمی کرشمہ ہیں شعبدے تو ملتے ہیں معجزے نہیں ملتے زندگی کا ہر لمحہ آرزو کا دشمن ہے حادثوں کی خواہش میں حادثے نہیں ملتے آج قتل کرنا بھی بن گیا ہے فن زریںؔ قتل کرنے والوں کے کچھ پتے نہیں ملتے

Similar Poets