duniyaa ki ik riit puraani, milnaa aur bichhaDnaa hai
ek zamaana biit gayaa hai tum kab milne aaoge

Imam Azam
Imam Azam
Imam Azam
Popular Shayari
10 totalteri khushbu se moattar hai zamaana saaraa
kaise mumkin hai vo khushbu bhi gulaabon mein mile
kisi ki baat koi bad-gumaan na samjhegaa
zamin kaa dard kabhi aasmaan na samjhegaa
gesu o rukhsaar ki baatein karein
aao mil kar pyaar ki baatein karein
un ke rukhsat kaa vo lamha mujhe yuun lagtaa hai
vaqt naaraaz huaa din bhi Dhalaa ho jaise
jo maze aaj tire gham ke azaabon mein mile
aisi lazzat kahaan saaqi ki sharaabon mein mile
mausam sukhaa sukhaa saa thaa lekin ye kyaa baat hui
keval us ke kamre mein hi raat gae barsaat hui
aasthaa kaa rang aa jaae agar maahaul mein
ek raakhi zindagi kaa rukh badal sakti hai aaj
sankaT ke din the to saae bhi mujh se katraate the
sukh ke din aae to dekho duniyaa mere saath hui
har taraf ik jang kaa maahaul hai 'aazam' yahaan
aadmi ab ghar ke bhi andar salaamat hai kahaan
Ghazalغزل
شہر میں اولے پڑے ہیں سر سلامت ہے کہاں اس قدر ہے تیز آندھی گھر سلامت ہے کہاں رات نے ایسی سیاہی اب بکھیری چار سو آنکھ والوں کے لئے منظر سلامت ہے کہاں آپ کہتے ہیں چھپا لوں اپنی عریانی مگر جسم سے لپٹی ہوئی چادر سلامت ہے کہاں قلقل مینا سے اپنی پیاس تو بجھتی نہیں چور سب شیشے ہوئے ساغر سلامت ہے کہاں ریزہ ریزہ ہو گئی ہر شخص کی پاکیزگی سنگ ساری کے لئے پتھر سلامت ہے کہاں کوئی چہرہ اصل صورت میں رہے باقی تو کیوں بت شکن کے عہد میں آذر سلامت ہے کہاں ہر طرف اک جنگ کا ماحول ہے اعظمؔ یہاں آدمی اب گھر کے بھی اندر سلامت ہے کہاں
shahr mein ole paDe hain sar salaamat hai kahaan
گرد و غبار دھوپ کے آنچل پہ چھا گئے اور گھن گرج کے شور بھی بادل پہ چھا گئے اب تو کوئی کنول نہیں کھلتا ہے جھیل میں اب کانٹے دار برگ ہی جل تھل پہ چھا گئے وہ سو نہیں سکے گا کسی پل سکون سے جب وسوسے بھی آنکھوں کے کاجل پہ چھا گئے بجلی ستارے چاند شفق اور دھوپ چھاؤں کیسے زمیں کے برہنہ جنگل پہ چھا گئے اعظمؔ اسے وہ کہتے ہیں رنگوں کا ایک فن جب داغ دھبے فرش کے مخمل پہ چھا گئے
gard-o-ghubaar dhuup ke aanchal pe chhaa gae
سورج کی میزان لئے ہم، وہ تھے برف کی باٹ لئے اس حالت میں ہم دونوں نے اپنے جیون کاٹ لئے ایک ہی گھر میں رہتے تھے ہم لیکن دونوں انجانے تھے جب اس کا احساس ہوا تو اپنے رستے پاٹ لئے کوئی گاہک مل جاتا تو اچھی قیمت مل جاتی بیچ خریداروں کے تھے ہم اپنے ہنر کی باٹ لئے راجاؤں کا دور گیا اور ساتھ زمیں داری بھی گئی لیکن گاؤں کا مکھیا جیتا ہے نوابی ٹھاٹ لئے اعظمؔ اس وحشی دنیا میں ہم نے یہ بھی دیکھا ہے خون بہا جو اپنوں کا وہ خون اپنوں نے چاٹ لئے
suraj ki mizaan liye ham, vo the barf ki baaT liye
سچ بولنے والے کو ہی الزام ملے گا جو جھوٹ کہے گا اسے انعام ملے گا دربار میں جو حاشیہ بردار رہے ہیں سنتے ہیں انہیں آج بڑا کام ملے گا اس دھوپ میں سائے کی تمنا نہ کرو تم وہ حسن مجسم تو سر شام ملے گا دیدار کی حسرت ہے تو نظروں کو اٹھاؤ دیکھو وہ حسیں چہرہ لب بام ملے گا جن آنکھوں نے گجرات کے دیکھے ہیں مناظر تا عمر انہیں اب نہیں آرام ملے گا اس شہر میں اعظمؔ جسے تم ڈھونڈ رہے ہو آوارہ صفت شاعر بدنام ملے گا
sach bolne vaale ko hi ilzaam milegaa
ٹمٹماتا ہوا مندر کا دیا ہو جیسے تیری آنکھوں میں کوئی خواب چھپا ہو جیسے پھیر لیں تم نے نگاہیں تو یہ محسوس ہوا مجھ سے روٹھی ہوئی تاثیر دعا ہو جیسے گونجتی ہے مرے کانوں میں یوں آواز تری کوہ و صحرا میں اذانوں کی صدا ہو جیسے اپنی نظریں نہ جھکانا کہ گماں ہوتا ہے سامنے سر پہ کھڑی میری قضا ہو جیسے ان کے رخصت کا وہ لمحہ مجھے یوں لگتا ہے وقت ناراض ہوا دن بھی ڈھلا ہو جیسے پاس ہوتے ہو تو محسوس یہی ہوتا ہے عمر بھر کی یہ ریاضت کا صلہ ہو جیسے بھیڑ ایسی ہے کسے سجدہ کروں اے اعظمؔ آج کے دور میں ہر شخص خدا ہو جیسے
TimTimaataa huaa mandir kaa diyaa ho jaise
قد بڑھانے کے لئے بونوں کی بستی میں چلو یہ نہیں ممکن تو پھر بچوں کی بستی میں چلو صبر کی چادر کو اوڑھے خواب گاہوں میں رہو سچ کی دنیا چھوڑ کر وعدوں کی بستی میں چلو جب بھی تنہائی کے ہنگاموں سے دم گھٹنے لگے بھیڑ میں گم ہو کے انجانوں کی بستی میں چلو ڈال رکھی ہے خرد مندوں نے چہروں پر نقاب اس لئے کہتا ہوں دیوانوں کی بستی میں چلو انگلیوں کی ضرب سے ساز سکوں کو توڑ کر جب جنوں حد سے بڑھے، رشتوں کی بستی میں چلو اک تمہاری یہ قیادت معتبر رہ جائے گی ہاتھ میں پتھر لئے شیشوں کی بستی میں چلو بھیڑ سے اعظمؔ یہاں ملنا ملانا چھوڑ کر مرتبہ کے واسطے پردوں کی بستی میں چلو
qad baDhaane ke liye baunon ki basti mein chalo





