izhaar ki ye bhi surat thi
khaamoshi ko fariyaad kiyaa

Iqbal Khawar
Iqbal Khawar
Iqbal Khawar
Popular Shayari
18 totalaaine par koi tohmat na dharo
khaal-o-khad apne sanvaaro saahab
bahut hairat-zada hai aaina bhi
ki chehre par koi chehra nahin hai
niind mat DhunD meri aankhon mein
silvaTein dekh mere bistar par
us ko matlab kaa jab milaa mausam
rang us ke the dekhne vaale
tu bhi dekhegaa zaraa rang utar lein tere
ham hi rakhte hain tujhe yaad ki sab rakhte hain
ye us ke lams kaa jaadu nahin to phir kyaa hai
havaa ne chumaa hai mujh ko gale mili hai shaam
kyon miri daastaan kaa hissa hain
jo miri daastaan ke the hi nahin
aisaa huun bad-gumaan ki dastak to us ne di
lekin miraa khayaal havaa ki taraf gayaa
suluk aisaa nahin us kaa phir bhi jaane kyon
vo yaad aae to dil se duaa nikalti hai
ye gavaahi tire safar ki hai
ye thakan kyon utaartaa hai miyaan
mohabbat aisaa darvaaza hai 'khaavar'
har ik dastak pe jo khultaa nahin hai
Ghazalغزل
یوں ہی کبھی مچل گئے یوں ہی کبھی بہل گئے ہم کو کہاں قرار تھا تم سے ملے سنبھل گئے دل کی کبھی سنی نہیں اور کبھی تو بے سبب آنکھ ذرا سی نم ہوئی اس کی طرف نکل گئے یوں ہی رہیں گے رات دن یوں ہی زمین و آسماں تم جو کبھی بدل گئے ہم جو کبھی بدل گئے کوئی دریچہ وا ہوا کوئی نہ آیا بام پر آج یہ کس گلی سے ہم گاتے ہوئے غزل گئے
yunhi kabhi machal gae yunhi kabhi bahal gae
ذرا بدلا نہیں منظر وہی ہے وہی ہے دشت یہ لشکر وہی ہے نئی ہے کچھ بدن میں بے قراری مگر کمرہ وہی بستر وہی ہے وہی وحشت جگاتی آنکھ اس کی یہاں بھی دل وہی ہے سر وہی ہے دھڑکتا کیوں نہیں ہے اس طرح دل اگر یہ وہ گلی ہے گھر وہی ہے وہی تلخی ہے دن آغاز ہوتے وہی دفتر مرا افسر وہی ہے نہیں بنتے وہ خد و خال خاورؔ وہی ہے چاک کوزہ گر وہی ہے
zaraa badlaa nahin manzar vahi hai
آسماں سرخ ہوا نالۂ شب گیر کے بعد حال دل اس پہ کھلا ہے بڑی تاخیر کے بعد طلب خواب میں کتنی تھیں پریشاں آنکھیں کتنی حیران ہیں اب خواب کی تعبیر کے بعد کھل تو سکتے تھے مری آنکھ پہ منظر کئی اور میں نے دیکھا ہی نہیں کچھ تری تصویر کے بعد زندگی کٹتی رہی اور مرے پیروں میں ایک زنجیر پڑی دوسری زنجیر کے بعد معرکہ اب کے محبت میں عجب گزرا ہے ہاتھ خالی ہی رہے لمحۂ تسخیر کے بعد کوچۂ حرف میں یہ جان کے آئے خاورؔ میرؔ سا میرؔ سے پہلے نہ ہوا میر کے بعد
aasmaan surkh huaa naala-e-shab-gir ke baad
بڑھے ذرا جو یہ موج وحشت تو ہم بھی کوئی کمال کر لیں کسی کو کوئی جواب دے دیں کسی سے کوئی سوال کر لیں اس ایک سونے سے گھر کے اے دل رکھا ہی کیا ہے اب اس گلی میں کہ جائیں کرنے کو زخم تازہ اور اپنی آنکھوں کو لال کر لیں ملا جو بن کر وہ اجنبی سا کہا ہے دل نے یہ آہ بھر کر بھلا دیں ساری گزشتہ باتیں گئے دنوں کا ملال کر لیں یہی ہے آنکھوں کا بس تقاضا سجیں دریچے پھر اس گلی کے تماشا ہونے کو جائیں پھر ہم پھر اپنا ویسا ہی حال کر لیں ہوائے ہجراں رکے تو کر لیں مداوا اپنی اداسیوں کا گلے لگا لیں پھر اس کو خاورؔ پھر ایک رشتہ بحال کر لیں
baDhe zaraa jo ye mauj-e-vahshat to ham bhi koi kamaal kar lein
تم جہاں تھے وہاں کے تھے ہی نہیں یعنی تم اس جہاں کے تھے ہی نہیں کیسے الجھے ہیں کار دنیا میں ہم جو سود و زیاں کے تھے ہی نہیں میں تو اک وحشت دگر میں تھا مسئلے جسم و جاں کے تھے ہی نہیں دشت جاں سے نگاہ یار تلک راستے درمیاں کے تھے ہی نہیں کیوں مری داستاں کا حصہ ہیں جو مری داستاں کے تھے ہی نہیں خواب بے برگ و بار کیسے ہوئے جب کہ یہ دن خزاں کے تھے ہی نہیں
tum jahaan the vahaan ke the hi nahin
رنگ اس کا نیا نظر آیا شام تھا دھوپ سا نظر آیا وہی کمرہ وہی تھا سب سامان وہ مگر دوسرا نظر آیا راستے میں وہ آ گیا تھا نظر پھر کہاں راستہ نظر آیا وہ گلی دوسری نظر آئی در و دیوار سا نظر آیا وہ جو تعبیر تھا مجھے اک دن خواب ہوتا ہوا نظر آیا جو میسر ہے اس میں بس خاورؔ دل ہی کچھ کام کا نظر آیا
rang us kaa nayaa nazar aayaa





