aabaad mujh mein tere sivaa aur kaun hai?
tujh se bichhaD rahaa huun tujhe kho nahin rahaa

Irfan Sattar
Irfan Sattar
Irfan Sattar
Popular Shayari
37 totalmain tujh se saath bhi to umar bhar kaa chaahtaa thaa
so ab tujh se gilaa bhi umar bhar kaa ho gayaa hai
nahin nahin main bahut khush rahaa huun tere baghair
yaqin kar ki ye haalat abhi abhi hui hai
tumhein fursat ho duniyaa se to ham se aa ke milnaa
hamaare paas fursat ke sivaa kyaa rah gayaa hai
main jaag jaag ke kis kis kaa intizaar karun
jo log ghar nahin pahunche vo mar gae honge
aisi duniyaa mein kab tak guzaaraa karein tum hi kah do ki kaise gavaaraa karein
raat mujh se miri bebasi ne kahaa bebasi ke liye ek taaza ghazal
jo aql se badan ko mili thii, vo thi havas
jo ruuh ko junun se milaa hai, ye ishq hai
koi milaa to kisi aur ki kami hui hai
so dil ne be-talabi ikhtiyaar ki hui hai
ye kaise malbe ke niche dabaa diyaa gayaa huun
mujhe badan se nikaalo main tang aa gayaa huun
vo jis ne mujh ko tire hijr mein bahaal rakhaa
tu aa gayaa hai to kyaa us se bevafaa ho jaaun
raakh ke Dher pe kyaa shoala-bayaani karte
ek qisse ki bhalaa kitni kahaani karte
ik chubhan hai ki jo bechain kiye rahti hai
aisaa lagtaa hai ki kuchh TuuT gayaa hai mujh mein
Ghazalغزل
لہو کے ساتھ رگوں میں بکھر گئے ہوں گے جو سانحے مرے دل پر گزر گئے ہوں گے یہ دیکھ آج بھی آشفتہ سر وہی ہیں جو تھے تو کیا سمجھتا تھا ہم تجھ سے ڈر گئے ہوں گے گزشتہ شام نظر آئے تھے جو غم سے نڈھال وہ آج صبح سبھی کام پر گئے ہوں گے مکان جن کے جلائے گئے بہ نام خدا خدا ہی جانے کہ وہ سب کدھر گئے ہوں گے ثبوت کوئی فراہم نہ ہو سکے گا کبھی گواہ اپنی نظر سے مکر گئے ہوں گے کوئی بچا ہی نہیں گھر میں جو ہو چشم براہ مکیں کو ڈھونڈنے کیا بام و در گئے ہوں گے ہم اہل حرف سے بڑھ کر کہاں ہے کوئی نڈر جو رن پڑا تو ہمی بے سپر گئے ہوں گے میں جاگ جاگ کے کس کس کا انتظار کروں جو لوگ گھر نہیں پہنچے وہ مر گئے ہوں گے یہ سارا جوش تو تازہ غمی کا ہے عرفانؔ یہ سارے ولولے کل تک اتر گئے ہوں گے
lahu ke saath ragon mein bikhar gae honge
جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو سر کنج تمنا پھر خوشی سے گنگناؤں گا اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو نہ جان رشک سے غصے سے غم سے یا رقابت سے یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں در اقلیم ہفت عالم ہے وہ بند قبا مجھ کو گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں کرم اس کا کہ بخشا دل کے بدلے آبلہ مجھ کو صبا میری قدم بوسی سے پہلے گل نہ دیکھے گی اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بجا مجھ کو گزر گاہ نفس میں ہوں مثال برگ آوارہ کوئی دم میں اڑا لے جائے گی باد فنا مجھ کو وہ دل آویز آنکھیں وہ لب و رخسار وہ زلفیں نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو ازل سے تا ابد دنیا سے لے کر آسمانوں تک نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے ارے تو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو
junun ke dam se aakhir martaba kaisaa milaa mujh ko
آج کرنا تھی توجہ چاک داماں کی طرف دھیان جا نکلا مگر اک روئے تاباں کی طرف جب ہوا کے نام پہنچا آمد شب کا پیام ایک جھونکا چل دیا شمع فروزاں کی طرف ایک چہرہ جگمگایا ہے سر دشت خیال ایک شعلہ اٹھ رہا ہے دل سے مژگاں کی طرف یہ بیاباں اور اس میں چیختی گاتی ہوا ان سے دل بھر لے تو جاؤں راہ آساں کی طرف اس طرح حائل نہیں ہوتے کسی کی راہ میں کیوں بھلا اتنی توجہ ایک مہماں کی طرف عین ممکن ہے کہ تو سچ بول کر زندہ رہے میں اشارہ کر رہا ہوں ایک امکاں کی طرف اک تقاضا بے بسی کی راکھ میں دہکا ہوا اک تذبذب کا سفر انکار سے ہاں کی طرف جس کے بدلے موت صدیوں کی بسر کرنا پڑے زندگی کا قرض اتنا تو نہیں جاں کی طرف
aaj karnaa thi tavajjoh chaak-e-daamaan ki taraf
زندہ ہوں اور ہجر کا آزار تک نہیں وہ کام کر رہا ہوں جو دشوار تک نہیں اب میں ہوں اور تجھ کو منانے کی جستجو کچھ بھی نہیں ہے راہ میں پندار تک نہیں یعنی مرا وجود ہی مشکوک ہو گیا اب تو میں اپنے آپ سے بیزار تک نہیں دل بھی تھکن سے چور ہوا اور دماغ بھی اور آسماں پہ صبح کے آثار تک نہیں اقرار کر کے اس کو نبھانا کسے نصیب اس عمر میں تو مہلت انکار تک نہیں تھی جس کی پور پور مری لمس آشنا اب یاد اس کے گیسو و رخسار تک نہیں اس بے کراں خلا میں نگاہوں کو کیا کروں اب تو نظر کے سامنے دیوار تک نہیں
zinda huun aur hijr kaa aazaar tak nahin
سخن کے شوق میں توہین حرف کی نہیں کی کہ ہم نے داد کی خواہش میں شاعری نہیں کی جو خود پسند تھے ان سے سخن کیا کم کم جو کج کلاہ تھے ان سے تو بات بھی نہیں کی کبھی بھی ہم نے نہ کی کوئی بات مصلحتاً منافقت کی حمایت، نہیں، کبھی نہیں کی دکھائی دیتا کہاں پھر الگ سے اپنا وجود سو ہم نے ذات کی تفہیم آخری نہیں کی اسے بتایا نہیں ہے کہ میں بدن میں نہیں جو بات سب سے ضروری ہے وہ ابھی نہیں کی بہ نام خوش نفسی ہم تو آہ بھرتے رہے کہ صرف رنج کیا ہم نے، زندگی نہیں کی ہمیشہ دل کو میسر رہی ہے دولت ہجر جنوں کے رزق میں اس نے کبھی کمی نہیں کی بصد خلوص اٹھاتا رہا سبھی کے یہ ناز ہمارے دل نے ہماری ہی دلبری نہیں کی جسے وطیرہ بنائے رہی وہ چشم غزال وہ بے رخی کی سہولت ہمیں بھی تھی، نہیں کی ہے ایک عمر سے معمول روز کا عرفانؔ دعائے رد انا ہم نے آج ہی نہیں کی
sukhan ke shauq mein tauhin harf ki nahin ki
اب آ بھی جاؤ، بہت دن ہوئے ملے ہوئے بھی بھلا ہی دیں گے اگر دل میں کچھ گلے ہوئے بھی ہماری راہ الگ ہے، ہمارے خواب جدا ہم ان کے ساتھ نہ ہوں گے، جو قافلے ہوئے بھی ہجوم شہر خرد میں بھی ہم سے اہل جنوں الگ دکھیں گے، گریباں جو ہوں سلے ہوئے بھی ہمیں نہ یاد دلاؤ ہمارے خواب سخن کہ ایک عمر ہوئے ہونٹ تک ہلے ہوئے بھی نظر کی، اور مناظر کی بات اپنی جگہ ہمارے دل کے کہاں اب، جو سلسلے ہوئے بھی یہاں ہے چاک قفس سے ادھر اک اور قفس سو ہم کو کیا، جو چمن میں ہوں گل کھلے ہوئے بھی ہمیں تو اپنے اصولوں کی جنگ جیتنی ہے کسے غرض، جو کوئی فتح کے صلے ہوئے بھی
ab aa bhi jaao, bahut din hue mile hue bhi





