SHAWORDS
Ishrat Qadri

Ishrat Qadri

Ishrat Qadri

Ishrat Qadri

poet
7Sher
7Shayari
17Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 17
غزل · Ghazal

in andheron se pare is shab-e-gham se aage

ان اندھیروں سے پرے اس شب غم سے آگے اک نئی صبح بھی ہے شام الم سے آگے دشت میں کس سے کریں آبلہ پائی کا گلا رہنما کوئی نہیں نقش قدم سے آگے ساز میں کھوئے رہے سوز نہ سمجھا کوئی درد کی ٹیس تھی پازیب کی چھم سے آگے اے خوشا عزم جواں ذوق سفر جوش طلب حادثے بڑھ نہ سکے اپنے قدم سے آگے یاد ہے لذت آزار محبت اب تک دل کو ملتا تھا سکوں مشق ستم سے آگے سرخ رو ہے جہاں تاریخ دو عالم عشرتؔ خون ٹپکا ہے وہیں نوک قلم سے آگے

غزل · Ghazal

nigaah aaina hai aks-e-mustaaar huun main

نگاہ آئینہ ہے عکس مستعار ہوں میں حیات قرض ہے مجھ پر تو زیر بار ہوں میں پگھل نہ جائے انا شدت تمازت سے گراں ہے طبع خریدار کم عیار ہوں میں سواد شب میں اک آواز پر ہوں گرم سفر اسیر زلف نہ آوارۂ بہار ہوں میں حنائی ہاتھوں سے چہرہ چھپا رہا ہے وہ شکست عہد پہ بھی تہنیت گزار ہوں میں جو پو پھٹے تو نوید سحر ملے عشرتؔ ہزار راتوں سے سرتاپا انتظار ہوں میں

غزل · Ghazal

bahut hassaas-o-naazuk aabgine vaalaa main tanhaa

بہت حساس و نازک آبگینے والا میں تنہا شرابیں پھینک کر زہراب پینے والا میں تنہا نئے لشکر نئے نیزے نئی شرطیں ہیں بیعت کی یہ کس کوفے میں ہوں مکے مدینے والا میں تنہا لہو سے کس طرح تاریخ لکھوں عصر حاضر کی ہزاروں سر کٹی لاشوں میں جینے والا میں تنہا سخن نا آشنا صاحب قراں اہل سماعت میں شعور و فن کا گرویدہ قرینے والا میں تنہا بتاؤں اپنا شجرہ کیا سبک ساران ساحل کو تہ گرداب گم گشتہ سفینے والا میں تنہا عذاب جاں ہے عشرتؔ درد مندی اور حسیت قطاروں میں گریباں چاک سینے والا میں تنہا

غزل · Ghazal

sahme se the parind baseraa udaas thaa

سہمے سے تھے پرند بسیرا اداس تھا جنگل کی طرح شہر میں خوف و ہراس تھا دونوں ہی اجنبی تھے مگر ٹوٹ کر ملے میں درد آشنا وہ ستارہ شناس تھا کس تمکنت سے انجمن آراستہ کئے تنہائیوں میں کوئی مرے آس پاس تھا آنکھوں سے میری صبح تک آنسو نہ تھم سکے کل رات وہ ملا تو بہت ہی اداس تھا اپنی تو انتشار میں گزری تمام عمر وہ کوئی اور ہیں جنہیں ماحول راس تھا اس نے کچھ اس ادا سے پذیرائی کی مری تہذیب حسن پر میں سراپا سپاس تھا دے گا بدل وہ سمت سفر اگلے موڑ پر عشرتؔ مجھے گماں تھا نہ کوئی قیاس تھا

غزل · Ghazal

ghuncha jo sar-e-shaakh chaTakte hue dekhaa

غنچہ جو سر شاخ چٹکتے ہوئے دیکھا پہلو میں بہت دل کو دھڑکتے ہوئے دیکھا مہندی رچے ہاتھوں نے اٹھایا ہی تھا گھونگھٹ اک شعلۂ جوالہ لپکتے ہوئے دیکھا وہ تیرے بچھڑنے کا سماں یاد جب آیا بیتے ہوئے لمحوں کو سسکتے ہوئے دیکھا بھولا نہیں احساس ترے لمس کی خوشبو تنہائی میں انفاس مہکتے ہوئے دیکھا کھینچے ہوئے اب تیر کماں میں ہے وہ بالک آغوش میں جس کو نہ ہمکتے ہوئے دیکھا جب جب بھی چراغوں کی لویں ہم نے بڑھائیں کیا کیا نہ ہواؤں کو سنکتے ہوئے دیکھا

غزل · Ghazal

gum-shuda saae DhunDhtaa huun main

گمشدہ سائے ڈھونڈھتا ہوں میں لمحہ بن کر ٹھہر گیا ہوں میں ظاہری شکل میری زندہ ہے اور اندر سے مر گیا ہوں میں ریزہ ریزہ کیا حوادث نے اپنے ذرات چن رہا ہوں میں کون دیکھے گا مجھ میں اب چہرہ آئینہ تھا بکھر گیا ہوں میں وہ رفاقت ہے اب نہ وہ شفقت کتنی آنکھوں میں جھانکتا ہوں میں سسکیاں چیخ آہ نغمہ فغاں کتنے پردوں کی اک صدا ہوں میں کوئی منصف سزا نہ دے لیکن قاتلو تم کو جانتا ہوں میں

Similar Poets