SHAWORDS
Jigar Moradabadi

Jigar Moradabadi

Jigar Moradabadi

Jigar Moradabadi

poet
175Sher
175Shayari
81Ghazal

Sherشعر

See all 175

Popular Sher & Shayari

350 total

Ghazalغزل

See all 81
غزل · Ghazal

vo adaa-e-dilbari ho ki navaa-e-aashiqaana

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ وہی ناز بے نیازی وہی شان خسروانہ یہ ترا جمال کامل یہ شباب کا زمانہ دل دشمناں سلامت دل دوستاں نشانہ یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہ ترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہ یہ ہے عشق کی کرامت یہ کمال شاعرانہ ابھی منہ سے بات نکلی ابھی ہو گئی فسانہ یہ مرا پیام کہنا تو صبا مودبانہ کہ گزر گیا ہے پیارے تجھے دیکھے اک زمانہ مجھے چاک جیب و دامن سے نہیں مناسبت کچھ یہ جنوں ہی کو مبارک رہ و رسم عامیانہ تجھے حادثات پیہم سے بھی کیا ملے گا ناداں ترا دل اگر ہو زندہ تو نفس بھی تازیانہ میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے مرا عشق بھی کہانی ترا حسن بھی فسانہ مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ ترے عشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہے کبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ تری دوری و حضوری کا یہ ہے عجیب عالم ابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا میں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں ترا درد درد تنہا مرا غم غم زمانہ ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا تجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ

غزل · Ghazal

raaz jo sina-e-fitrat mein nihaan hotaa hai

راز جو سینۂ فطرت میں نہاں ہوتا ہے سب سے پہلے دل شاعر پہ عیاں ہوتا ہے سخت خوں ریز جب آشوب جہاں ہوتا ہے نہیں معلوم یہ انسان کہاں ہوتا ہے جب کوئی حادثۂ کون و مکاں ہوتا ہے ذرہ ذرہ میری جانب نگراں ہوتا ہے جو نظر کردۂ صاحب نظراں ہوتا ہے اسی دیوانے کے قدموں پہ جہاں ہوتا ہے جب کوئی عشق میں برباد جہاں ہوتا ہے مجھ کو محسوس خود اپنا ہی زیاں ہوتا ہے متزلزل ہے ادب گاہ محبت کی زمیں کوئی دیکھے تو یہ ہنگامہ کہاں ہوتا ہے کہیں ایسا تو نہیں وہ بھی ہو کوئی آزار تجھ کو جس چیز پہ راحت کا گماں ہوتا ہے دل غنی ہو تو ہر اک رنج بھی دل کی راحت ذہن مفلس ہو تو ہر سود زیاں ہوتا ہے امتحاں گاہ محبت میں نہ رکھے وہ قدم موت کے نام سے جس کو خفقاں ہوتا ہے یہی وہ منزل دشوار ہے جس منزل میں ختم ہر مرحلۂ سود و زیاں ہوتا ہے ہر قدم معرکۂ کرب و بلا ہے درپیش ہر نفس سانحۂ مرگ جواں ہوتا ہے ناز جس خاک وطن پر تھا مجھے آہ جگرؔ اسی جنت پہ جہنم کا گماں ہوتا ہے

غزل · Ghazal

husn-e-kaafir-shabaab kaa aalam

حسن کافر شباب کا عالم سر سے پا تک شراب کا عالم عرق آلود چہرۂ تاباں شبنم و آفتاب کا عالم وہ مری عرض شوق بے حد پر کچھ حیا کچھ عتاب کا عالم اللہ اللہ وہ امتزاج لطیف شوخیوں میں حجاب کا عالم ہمہ نور و سرور کی دنیا ہمہ حسن و شباب کا عالم وہ لب جوئبار و موسم گل وہ شب ماہتاب کا عالم زانوئے شوق پر وہ پچھلے پہر نرگس نیم خواب کا عالم دیر تک اختلاط راز و نیاز یک بیک اجتناب کا عالم لاکھ رنگیں بیانیوں پہ مری ایک سادہ جواب کا عالم غم کی ہر موج موج طوفاں خیز دل کا عالم حباب کا عالم دل مطرب سمجھ سکے شاید اک شکستہ رباب کا عالم وہ سماں آج بھی ہے یاد جگرؔ ہاں مگر جیسے خواب کا عالم

غزل · Ghazal

shab-e-vasl kyaa mukhtasar ho gai

شب وصل کیا مختصر ہو گئی ذرا آنکھ جھپکی سحر ہو گئی نگاہوں نے سب راز دل کہہ دیا انہیں آج اپنی خبر ہو گئی بڑی چیز ہے طرز بیگانگی یہ ترکیب اگر کارگر ہو گئی الٰہی برا ہو غم عشق کا سنا ہے کہ ان کو خبر ہو گئی کئے مجھ پہ احساں غم یار نے ہمیشہ کو نیچی نظر ہو گئی نمایاں ہوئی صبح پیری جگرؔ بس اب داستاں مختصر ہو گئی

غزل · Ghazal

'aashiqi imtiyaaz kyaa jaane

عاشقی امتیاز کیا جانے فرق ناز و نیاز کیا جانے ناخن عشق کتنے ٹوٹ گئے گرہ نیم باز کیا جانے سینۂ نے پہ جو گزرتی ہے وہ لب نے نواز کیا جانے

غزل · Ghazal

ye hai mai-kada yahaan rind hain yahaan sab kaa saaqi imaam hai

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یے تو میکدے کا نظام ہے یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے تجھے اپنے حسن کا واسطہ میرے شوق دید پہ رحم کھا ذرا مسکرا کے نقاب اٹھا کہ نظر کو شوق سلام ہے نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا کوئی بات کر در یار کی در یار ہی سے تو کام ہے نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ تری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے یہ درست کہ عیب ہے مے کشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے مگر اب سوال یہ آ پڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے جو اٹھی تو صبح دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی تری چشم مست میں ساقیا مری زندگی کا نظام ہے مرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تری بارگاہ میں ساقیا کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا ترا کام ہے اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے

Similar Poets