chaman kaa husn samajh kar sameT laae the
kise khabar thi ki har phuul khaar niklegaa

Kalidas Gupta Raza
Kalidas Gupta Raza
Kalidas Gupta Raza
Popular Shayari
14 totalzamaana husn nazaakat balaa jafaa shokhi
simaT ke aa gae sab aap ki adaaon mein
azal se taa-ba-abad ek hi kahaani hai
isi se ham ko nai daastaan banaani hai
ham na maaneinge khamoshi hai tamannaa kaa mizaaj
haan bhari bazm mein vo bol na paai hogi
saamnaa aaj anaa se hogaa
baat rakhni hai to sar de denaa
ab koi DhunD-DhaanD ke laao nayaa vajud
insaan to bulandi-e-insaan se ghaT gayaa
duniyaa to sidhi hai lekin duniyaa vaale
jhuTi sachchi kah ke use bahkaate honge
hayaat laakh ho faani magar ye sun rakhiye
hayaat se jo hai maqsud ghair-faani hai
bahaar aai gulon ko hansi nahin aai
kahin se bu tiri guftaar ki nahin aai
khirad DhunDhti rah gai vajah-e-gham
mazaa gham kaa dard aashnaa le gayaa
baat agar na karni thi kyuun chaman mein aae the
rang kyuun bikheraa thaa phuul kyuun khilaae the
jab fikron par baadal se manDlaate honge
insaan ghaT kar saae se rah jaate honge
Ghazalغزل
بہار آئی گلوں کو ہنسی نہیں آئی کہیں سے بو تری گفتار کی نہیں آئی کچھ اور وجہ ہے کم ہو گئی ہے لذت جام ہماری پیاس میں کوئی کمی نہیں آئی یہ کائنات سب آغوش نیم شب میں ہے زمانہ ہو گیا آواز ہی نہیں آئی دل اک درخت زمیں بوس باد و باراں سے رتیں گزر گئیں کونپل نئی نہیں آئی نہ جانے کیسی گھڑی سے گزر رہے تھے ہم کہ جاگتے نہ رہے نیند بھی نہیں آئی
bahaar aai gulon ko hansi nahin aai
یہ لمحات نو میرا کیا لے گئے کچھ آنسو گرے تھے اٹھا لے گئے ندی نالے قدریں بہا لے گئے وفا لے گئے مدعا لے گئے کسے ڈھونڈتے ہو کھڑی ناؤ پر سبھی فاصلے نا خدا لے گئے یہ کیسے جھکولے تھے پندار کے مجھے پنکھ دے کر اڑا لے گئے چنا رہنما ان کو یہ کیا کیا کہاں سے کہاں نقش پا لے گئے گھر آنگن میں سونے کا سورج کہاں کرن تک پڑوسی چرا لے گئے لبوں پر کہیں کالی داسؔ اب نہیں بڑے نام گپتا رضاؔ لے گئے
ye lamhaat-e-nau meraa kyaa le gae
بات اگر نہ کرنی تھی کیوں چمن میں آئے تھے رنگ کیوں بکھیرا تھا پھول کیوں کھلائے تھے بیکراں خلاؤں کی حد بھی باندھ دینی تھی جب زمیں بنائی تھی آسماں بنائے تھے بے ادب نہ تھے ہم کچھ اپنی بھول اتنی تھی آپ تک پہنچ کر بھی آپ میں نہ آئے تھے آنسوؤں کی چادر نے ڈھک دیا ہمیں ورنہ مانگ بھی سجائی تھی خواب بھی سجائے تھے آج تیرے چرنوں کا روپ ہی نرالا ہے آج پھول پوجا کے دھول سے اٹھائے تھے اے رضاؔ حقیقت تو اب گلے پڑی ورنہ بوئی تھیں گھٹائیں بھی چاند بھی اگائے تھے
baat agar na karni thi kyuun chaman mein aae the
منزل کی دھوم دھام سے جب جی اچٹ گیا رہگیر جیسے سینکڑوں رستوں میں بٹ گیا افسوس دل تک آنے کی راہیں نہ کھل سکیں کوئی فقط خیال تک آ کر پلٹ گیا ہم تول بیٹھے صبح دم انساں کو سائے سے سورج کے سر پہ آتے ہی سایا سمٹ گیا کیا جانے کس چٹان سے ٹکرا گیا ہے دل چلتا ہوا سفینہ اچانک الٹ گیا اب کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کے لاؤ نیا وجود انسان تو بلندی انساں سے گھٹ گیا منزل پہ گرد وہم و گماں تھی وہ دھل گئی رستے میں عقل و ہوش کا پتھر تھا ہٹ گیا محفل بھی نور بار ہے ساقی بھی خم بدوش میرے ہی ناؤ نوش کا معیار گھٹ گیا منزل کہیں ملی نہ ملی لیکن اے رضاؔ منزل کے اشتیاق میں رستا تو کٹ گیا
manzil ki dhuum dhaam se jab ji uchaT gayaa
قلم اٹھاؤں مسلسل رواں دواں لکھ دوں کوئی پڑھے نہ پڑے میں کہانیاں لکھ دوں جہاں تک آئیں تصور میں وادیاں لکھ دوں پھر ان پہ نام تمہارا یہاں وہاں لکھ دوں جہاں ملے مجھے روٹی اسے لکھوں دھرتی جہاں پہنچ نہ سکوں اس کو آسماں لکھ دوں نکل چلوں کہیں حسن و جنوں کے جنگل میں ہرن کی آنکھ میں کاجل کی ڈوریاں لکھ دوں کہانی ختم ہوئی لیکن اس کا کیا کیجے جو لفظ یاد اب آئے انہیں کہاں لکھ دوں جو ذہن میں ہیں حروف ان کو کام میں لاؤں جو دکھ پڑے ہی نہ ہوں ان کی داستاں لکھ دوں کچھ ایسا پتر لکھوں آپ کو جو بھا جائے مرا ہوں آپ کے گن اپنی خامیاں لکھ دوں غزل تو کہہ دوں رضاؔ یہ بھی تو اجازت ہو جسے تو ہندوی کہتا تھا وہ زباں لکھ دوں
qalam uThaaun musalsal ravaan-davaan likh duun
جس نے اک عہد کے ذہنوں کو جلا دی ہوگی میرے آوارہ خیالات کی بجلی ہوگی لے اڑی ہے ترے ہاتھوں کی حنا پچھلے پہر میرے الجھے ہوئے افکار کی آندھی ہوگی جتنی مل جائے گی کانٹوں کی چبھن لے لوں گا جو بھی حالت دل بے تاب کی ہوگی ہوگی ہم نہ مانیں گے خموشی ہے تمنا کا مزاج ہاں بھری بزم میں وہ بول نہ پائی ہوگی میری ناکامئ حالات کے دھارے کے سوا ایک ندی بھی تو بے آب نہ بہتی ہوگی ہے رضاؔ آج کا عالم تو اسیر ابہام یار زندہ ہیں تو کل اور ترقی ہوگی
jis ne ik ahd ke zehnon ko jilaa di hogi





