SHAWORDS
Khaleel Tanveer

Khaleel Tanveer

Khaleel Tanveer

Khaleel Tanveer

poet
32Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

32 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

سیاہ خانۂ دل پر نظر بھی کرتا ہے میری خطاؤں کو وہ درگزر بھی کرتا ہے پرند اونچی اڑانوں کی دھن میں رہتا ہے مگر زمیں کی حدوں میں بسر بھی کرتا ہے تمام عمر کے دریا کو موڑ دیتا ہے وہ ایک حرف جو دل پر اثر بھی کرتا ہے وہ لوگ جن کی زمانہ ہنسی اڑاتا ہے اک عمر بعد انہیں معتبر بھی کرتا ہے جلا کے دشت طلب میں امید کی شمعیں اذیتوں سے ہمیں بے خبر بھی کرتا ہے

siyaah-khaana-e-dil par nazar bhi kartaa hai

غزل · Ghazal

بجھ گیا دل تو خبر کچھ بھی نہیں عکس آئینے نظر کچھ بھی نہیں شب کی دیوار گری تو دیکھا نوک نشتر ہے سحر کچھ بھی نہیں جب بھی احساس کا سورج ڈوبے خاک کا ڈھیر بشر کچھ بھی نہیں ایک پل ایسا کہ دنیا بدلے یوں تو صدیوں کا سفر کچھ بھی نہیں حرف کو برگ نوا دیتا ہوں یوں مرے پاس ہنر کچھ بھی نہیں

bujh gayaa dil to khabar kuchh bhi nahin

غزل · Ghazal

مرے وجود میں تھے دور تک اندھیرے بھی کہیں کہیں پہ چھپے تھے مگر سویرے بھی نکل پڑے تھے تو پھر راہ میں ٹھہرتے کیا یوں آس پاس کئی پیڑ تھے گھنیرے بھی یہ شہر سبز ہے لیکن بہت اداس ہوئے غموں کی دھوپ میں جھلسے ہوئے تھے ڈیرے بھی حدود شہر سے باہر بھی بستیاں پھیلیں سمٹ کے رہ گئے یوں جنگلوں کے گھیرے بھی سمندروں کے غضب کو گلے لگائے ہوئے کٹے پھٹے تھے بہت دور تک جزیرے بھی

mire vajud mein the duur tak andhere bhi

غزل · Ghazal

یہ کیسی پیاس ہے میں جسم کے سراب میں ہوں نکل کے جاؤں کدھر کیسے اضطراب میں ہوں چٹان سر پہ لیے پھر رہا ہوں صدیوں سے جنم جنم سے نہ جانے میں کس عذاب میں ہوں تو مجھ کو بھولنا چاہے تو بھول سکتا ہے میں ایک حرف تمنا تری کتاب میں ہوں میں کیا ہوں کون ہوں کیا چیز مجھ میں مضمر ہے کئی حجاب اٹھائے مگر حجاب میں ہوں بکھر ہی جاؤں گا اک ضربت صدا تو ملے میں ایک رقص شرر سینۂ رباب میں ہوں

ye kaisi pyaas hai main jism ke saraab mein huun

غزل · Ghazal

پرائی آگ میں جلنے کی آرزو ہے وہی بدل گیا ہے مگر وحشتوں کی خو ہے وہی وہ شہر چھوڑ کے مدت ہوئی چلا بھی گیا حد افق پہ مگر چاند روبرو ہے وہی زمانہ لاکھ ستاروں کو چھو کے آ جائے ابھی دلوں کو مگر حاجت رفو ہے وہی قریب تھا تو سبھی اس سے بے خبر تھے مگر چلا گیا ہے تو موضوع گفتگو ہے وہی

paraai aag mein jalne ki aarzu hai vahi

غزل · Ghazal

وہاں پہنچ کے ہر اک نقش غم پرایا تھا وہ راستہ کہ جہاں حوصلہ بھی ہارا تھا بہت عزیز تھے اس کو سفر کے ہنگامے وہ سب کے ساتھ چلا تھا مگر اکیلا تھا وہ زخم زخم تھا تیرہ شبی کے دامن میں لبوں پہ پھول نظر میں کرن بھی رکھتا تھا عجیب شخص تھا اس کو سمجھنا مشکل ہے کنارے آب کھڑا تھا مگر وہ پیاسا تھا اسے خبر تھی کہ آشوب آگہی کیا ہے وہ درد و غم جسے اپنی زباں میں کہتا تھا

vahaan pahunch ke har ik naqsh-e-gham paraayaa thaa

Similar Poets