"khud ko kabhi main pa na saka jaane kitna gahra huun"

Khan Hasnain Aqib
Khan Hasnain Aqib
Khan Hasnain Aqib
Sherشعر
See all 8 →khud ko kabhi main pa na saka
خود کو کبھی میں پا نہ سکا جانے کتنا گہرا ہوں
lafzon ke her-pher se banti nahin ghazal
لفظوں کے ہیر پھیر سے بنتی نہیں غزل شعروں میں تھوڑی گرمئ جذبات بھی تو ہو
aur thoDa sa bikhar ja.un yahi Thani hai
اور تھوڑا سا بکھر جاؤں یہی ٹھانی ہے زندگی میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے
bahut udaas hain divaren unche mahlon ki
بہت اداس ہیں دیواریں اونچے محلوں کی یہ وہ کھنڈر ہیں کہ جن میں امیر رہتے ہیں
ji chahta hai tark-e-mohabbat ko baar baar
جی چاہتا ہے ترک محبت کو بار بار آتا ہے ایک ایسا بھی لمحہ وصال میں
gham uThata huun ghazal kahta huun jiita rahta huun
غم اٹھاتا ہوں غزل کہتا ہوں جیتا رہتا ہوں لوگ کہتے ہیں کہ اک دن میرؔ ہو جاؤں گا میں
Popular Sher & Shayari
16 total"lafzon ke her-pher se banti nahin ghazal sheron men thoDi garmi-e-jazbat bhi to ho"
"aur thoDa sa bikhar ja.un yahi Thani hai zindagi main ne abhi haar kahan maani hai"
"bahut udaas hain divaren unche mahlon ki ye vo khanDar hain ki jin men amiir rahte hain"
"ji chahta hai tark-e-mohabbat ko baar baar aata hai ek aisa bhi lamha visal men"
"gham uThata huun ghazal kahta huun jiita rahta huun log kahte hain ki ik din 'mir' ho ja.unga main"
lafzon ke her-pher se banti nahin ghazal
sheron mein thoDi garmi-e-jazbaat bhi to ho
aur thoDaa saa bikhar jaaun yahi Thaani hai
zindagi main ne abhi haar kahaan maani hai
bahut udaas hain divaarein unche mahlon ki
ye vo khanDar hain ki jin mein amiir rahte hain
ji chaahtaa hai tark-e-mohabbat ko baar baar
aataa hai ek aisaa bhi lamha visaal mein
gham uThaataa huun ghazal kahtaa huun jiitaa rahtaa huun
log kahte hain ki ik din 'mir' ho jaaungaa main
kaTti hai shab visaal ki palkein jhapakte hi
jis ki subh na ho kabhi vo raat bhi to ho
Ghazalغزل
puraane ghar kaa jo sidhaa saa ek naqsha the
پرانے گھر کا جو سیدھا سا ایک نقشہ تھے یہ لوگ وہ ہیں جو پہلے کبھی فرشتہ تھے تمہارے حسن نظر نے بنا دیا منزل کبھی نہ جس پہ چلا کوئی ہم وہ رستہ تھے دیار دشمن جاں سے بہت سہارا ملا تمہارے شہر سے نکلے تو دل شکستہ تھے بڑے مزے میں رہے مصلحت کے شہزادے جو سچ کی راہ میں تھے ان کے حال خستہ تھے تمہیں بلندیٔ قامت پہ تھا غرور مگر تھے وہ تو ظرف میں اعلیٰ جو قد میں پستہ تھے جو اشتہار بنے پھر رہے تھے غیرت کا امیر شہر کے آگے وہ دست بستہ تھے یہی ہیں حضرت عاقبؔ جو پارسا ہیں بہت یہی تو باعث افسانۂ گذشتہ تھے
darmiyaan apne ab vo baat nahin
درمیاں اپنے اب وہ بات نہیں پہلے جیسے معاملات نہیں ساری محفل پہ ہے نظر تیری میری جانب ہی التفات نہیں عشق لاحق ہوا تو ہو ہی گیا اس مصیبت سے اب نجات نہیں اہل مجلس سلامتی تم پر گفتگو میری مجھ سے بات نہیں اے خدا میں تو بس یہی سمجھا میں نہیں تو یہ کائنات نہیں آدمی کی عجیب فطرت ہے رشتے ہیں اور تعلقات نہیں جانے کس کی دعا میں ہوں شامل آج راہوں میں مشکلات نہیں ہے تو ہے تنگ راہ عمر حیات لاکھ کہیے کہ پل صراط نہیں دستکیں دے کے تھک گیا عاقبؔ اب یہ دل شہر ممکنات نہیں
tum ko dekhaa vo khvaab thaa jaani
تم کو دیکھا وہ خواب تھا جانی نیند کا اک نقاب تھا جانی عشق کو تم گناہ سمجھتے رہے یہ تو کار ثواب تھا جانی ہر شکن میں عبارتیں مضمر اس کا چہرہ کتاب تھا جانی چھوڑ کر تم چلے گئے مجھ کو فیصلہ وہ خراب تھا جانی زندگی کی گھٹن ارے توبہ سانس لینا عذاب تھا جانی فطرتاً تم بھی تھے انا کے غلام میں بھی طبعاً نواب تھا جانی تم مجھے چاہو میں تمہیں چاہوں سیدھا سادہ حساب تھا جانی
beTaa jo honhaar thaa zan ke asar mein hai
بیٹا جو ہونہار تھا زن کے اثر میں ہے کس کی نظر کا نور تھا کس کی نظر میں ہے نظریں تو تھک کے آ گئیں اپنے مدار پر اور اک خیال یار کہ اب تک سفر میں ہے پرواز کا خیال اسے کر دے گا منتشر برسوں ہوئے جو گرد جمی بال و پر میں ہے چلتا نہیں ہے مجھ کو پتہ کب میں بک گیا خوبی کمال کی یہ مرے راہبر میں ہے صدہا فریب جس کی عبادت میں ضم ہوئے اس شخص کا شمار تو اہل ہنر میں ہے
dukh dard gham hain teri inaayaat zindagi
دکھ درد غم ہیں تیری عنایات زندگی تو نے نبھائیں خوب روایات زندگی اک تو نیاز مند سراپا میں بے نیاز ملتے نہیں ہیں اپنے خیالات زندگی فطرت میں آدمی کے تغیر نہیں مگر انسان کو بدلتے ہیں حالات زندگی ملتے رہے ہیں سارے زمانے سے عمر بھر تجھ سے نہ جانے کب ہو ملاقات زندگی دونوں کے بیچ کوئی تعلق نہیں ہے خاص جینا ہے اور چیز الگ بات زندگی آرام سے گزارتی کچھ دن حیات کے سنتی کبھی جو تو بھی مری بات زندگی ہے مستعار تار نفس سے ترا وجود اس سے زیادہ کیا تری اوقات زندگی سانسوں کے واسطے کرے دست طلب دراز ہر روز مجھ سے مانگے ہے خیرات زندگی اوروں کے واسطے ہے مجسم تکلفات عاقبؔ ترے لیے ہے خرافات زندگی
na tahriri shavaahid na zabaani
نہ تحریری شواہد نہ زبانی بھلا کس کام کی ایسی جوانی یہ جتنی نعمتیں دی ہیں خدا نے یہ پرچہ ہے ہمارا امتحانی کبھی وہ بھی تھے اس دنیا کی رونق وہ سب جو ہو گئے ہیں آنجہانی ہمیں تھا اشتیاق وصل لیکن ہمارے شوق سے ان کو گرانی یہ کیا ذہنوں پہ کرتے ہو حکومت کرو دل پر کسی کے حکمرانی ادھر کردار پر طاری کہولت مگر باتوں میں شدت کی روانی محبت پیش قدمی چاہتی ہے کبھی تم بھی مرے گھر آؤ جانی مقابل فوج طوفانوں کی عاقبؔ ادھر کشتی ہماری بادبانی





