SHAWORDS
Khan Hasnain Aqib

Khan Hasnain Aqib

Khan Hasnain Aqib

Khan Hasnain Aqib

poet
8Sher
8Shayari
27Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 27
غزل · Ghazal

puraane ghar kaa jo sidhaa saa ek naqsha the

پرانے گھر کا جو سیدھا سا ایک نقشہ تھے یہ لوگ وہ ہیں جو پہلے کبھی فرشتہ تھے تمہارے حسن نظر نے بنا دیا منزل کبھی نہ جس پہ چلا کوئی ہم وہ رستہ تھے دیار دشمن جاں سے بہت سہارا ملا تمہارے شہر سے نکلے تو دل شکستہ تھے بڑے مزے میں رہے مصلحت کے شہزادے جو سچ کی راہ میں تھے ان کے حال خستہ تھے تمہیں بلندیٔ قامت پہ تھا غرور مگر تھے وہ تو ظرف میں اعلیٰ جو قد میں پستہ تھے جو اشتہار بنے پھر رہے تھے غیرت کا امیر شہر کے آگے وہ دست بستہ تھے یہی ہیں حضرت عاقبؔ جو پارسا ہیں بہت یہی تو باعث افسانۂ گذشتہ تھے

غزل · Ghazal

darmiyaan apne ab vo baat nahin

درمیاں اپنے اب وہ بات نہیں پہلے جیسے معاملات نہیں ساری محفل پہ ہے نظر تیری میری جانب ہی التفات نہیں عشق لاحق ہوا تو ہو ہی گیا اس مصیبت سے اب نجات نہیں اہل مجلس سلامتی تم پر گفتگو میری مجھ سے بات نہیں اے خدا میں تو بس یہی سمجھا میں نہیں تو یہ کائنات نہیں آدمی کی عجیب فطرت ہے رشتے ہیں اور تعلقات نہیں جانے کس کی دعا میں ہوں شامل آج راہوں میں مشکلات نہیں ہے تو ہے تنگ راہ عمر حیات لاکھ کہیے کہ پل صراط نہیں دستکیں دے کے تھک گیا عاقبؔ اب یہ دل شہر ممکنات نہیں

غزل · Ghazal

tum ko dekhaa vo khvaab thaa jaani

تم کو دیکھا وہ خواب تھا جانی نیند کا اک نقاب تھا جانی عشق کو تم گناہ سمجھتے رہے یہ تو کار ثواب تھا جانی ہر شکن میں عبارتیں مضمر اس کا چہرہ کتاب تھا جانی چھوڑ کر تم چلے گئے مجھ کو فیصلہ وہ خراب تھا جانی زندگی کی گھٹن ارے توبہ سانس لینا عذاب تھا جانی فطرتاً تم بھی تھے انا کے غلام میں بھی طبعاً نواب تھا جانی تم مجھے چاہو میں تمہیں چاہوں سیدھا سادہ حساب تھا جانی

غزل · Ghazal

beTaa jo honhaar thaa zan ke asar mein hai

بیٹا جو ہونہار تھا زن کے اثر میں ہے کس کی نظر کا نور تھا کس کی نظر میں ہے نظریں تو تھک کے آ گئیں اپنے مدار پر اور اک خیال یار کہ اب تک سفر میں ہے پرواز کا خیال اسے کر دے گا منتشر برسوں ہوئے جو گرد جمی بال و پر میں ہے چلتا نہیں ہے مجھ کو پتہ کب میں بک گیا خوبی کمال کی یہ مرے راہبر میں ہے صدہا فریب جس کی عبادت میں ضم ہوئے اس شخص کا شمار تو اہل ہنر میں ہے

غزل · Ghazal

dukh dard gham hain teri inaayaat zindagi

دکھ درد غم ہیں تیری عنایات زندگی تو نے نبھائیں خوب روایات زندگی اک تو نیاز مند سراپا میں بے نیاز ملتے نہیں ہیں اپنے خیالات زندگی فطرت میں آدمی کے تغیر نہیں مگر انسان کو بدلتے ہیں حالات زندگی ملتے رہے ہیں سارے زمانے سے عمر بھر تجھ سے نہ جانے کب ہو ملاقات زندگی دونوں کے بیچ کوئی تعلق نہیں ہے خاص جینا ہے اور چیز الگ بات زندگی آرام سے گزارتی کچھ دن حیات کے سنتی کبھی جو تو بھی مری بات زندگی ہے مستعار تار نفس سے ترا وجود اس سے زیادہ کیا تری اوقات زندگی سانسوں کے واسطے کرے دست طلب دراز ہر روز مجھ سے مانگے ہے خیرات زندگی اوروں کے واسطے ہے مجسم تکلفات عاقبؔ ترے لیے ہے خرافات زندگی

غزل · Ghazal

na tahriri shavaahid na zabaani

نہ تحریری شواہد نہ زبانی بھلا کس کام کی ایسی جوانی یہ جتنی نعمتیں دی ہیں خدا نے یہ پرچہ ہے ہمارا امتحانی کبھی وہ بھی تھے اس دنیا کی رونق وہ سب جو ہو گئے ہیں آنجہانی ہمیں تھا اشتیاق وصل لیکن ہمارے شوق سے ان کو گرانی یہ کیا ذہنوں پہ کرتے ہو حکومت کرو دل پر کسی کے حکمرانی ادھر کردار پر طاری کہولت مگر باتوں میں شدت کی روانی محبت پیش قدمی چاہتی ہے کبھی تم بھی مرے گھر آؤ جانی مقابل فوج طوفانوں کی عاقبؔ ادھر کشتی ہماری بادبانی

Similar Poets