SHAWORDS
Khatir Ghaznavi

Khatir Ghaznavi

Khatir Ghaznavi

Khatir Ghaznavi

poet
16Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

کس سمت لے گئیں مجھے اس دل کی دھڑکنیں پیچھے پکارتی رہیں منزل کی دھڑکنیں گو تیرے التفات کے قابل نہیں مگر ملتی ہیں تیرے دل سے مرے دل کی دھڑکنیں مخمور کر گیا مجھے تیرا خرام ناز نغمے جگا گئیں تری پائل کی دھڑکنیں لہروں کی دھڑکنیں بھی نہ ان کو جگا سکیں کس درجہ بے نیاز ہیں ساحل کی دھڑکنیں وحشت میں ڈھونڈتا ہی رہا قیس عمر بھر گم ہو گئیں بگولوں میں محمل کی دھڑکنیں لہرا رہا ہے تیری نگاہوں میں اک پیام کچھ کہہ رہی ہیں صاف ترے دل کی دھڑکنیں یہ کون چپکے چپکے اٹھا اور چل دیا خاطرؔ یہ کس نے لوٹ لیں محفل کی دھڑکنیں

kis samt le gaiin mujhe is dil ki dhaDkanein

غزل · Ghazal

ہر حقیقت کو گماں تک سوچوں میں بہاروں کو خزاں تک سوچوں گفتگو تلخ حقائق سے بھی ہو خواب ہی خواب کہاں تک سوچوں ہر قدم ایک معمہ بن جائے زندگی تجھ کو جہاں تک سوچوں سوچ بن جاتی ہے گرداب بلا ایک ہی بات کہاں تک سوچوں حد پرواز مری اتنی ہے لا مکاں کو بھی مکاں تک سوچوں دسترس کس کی مداوا کیسا درد کو صرف فغاں تک سوچوں ناپوں جذبوں کو بھی پیمانوں سے اشک کو آب رواں تک سوچوں تو نہیں پاس تری یاد تو ہے تو ہی تو سوجھے جہاں تک سوچوں

har haqiqat ko gumaan tak sochun

غزل · Ghazal

جفائیں بخش کے مجھ کو مری وفا مانگیں وہ میرے قتل کا مجھ ہی سے خوں بہا مانگیں یہ دل ہمارے لیے جس نے رت جگے کاٹے اب اس سے بڑھ کے کوئی دوست تجھ سے کیا مانگیں وہی بجھاتے ہیں پھونکوں سے چاند تاروں کو کہ جن کی شب کے اجالوں کی ہم دعا مانگیں فضائیں چپ ہیں کچھ ایسی کہ درد بولتا ہے بدن کے شور میں کس کو پکاریں کیا مانگیں قناعتیں ہمیں لے آئیں ایسی منزل پر کہ اب صلے کی تمنا نہ ہم جزا مانگیں

jafaaein bakhsh ke mujh ko miri vafaa maangein

غزل · Ghazal

تری طلب تھی ترے آستاں سے لوٹ آئے خزاں نصیب رہے گلستاں سے لوٹ آئے بصد یقیں بڑھے حد گماں سے لوٹ آئے دل و نظر کے تقاضے کہاں سے لوٹ آئے سر نیاز کو پایا نہ جب ترے قابل خراب عشق ترے آستاں سے لوٹ آئے قفس کے انس نے اس درجہ کر دیا مجبور کہ اس کی یاد میں ہم آشیاں سے لوٹ آئے بلا رہی ہیں جو تیری ستارہ بار آنکھیں مری نگاہ نہ کیوں کہکشاں سے لوٹ آئے نہ دل میں اب وہ خلش ہے نہ زندگی میں تڑپ یہ کہہ دو پھر مرے درد نہاں سے لوٹ آئے گلوں کی محفل رنگیں میں خار بن نہ سکے بہار آئی تو ہم گلستاں سے لوٹ آئے فریب ہم کو نہ کیا کیا اس آرزو نے دئیے وہی تھی منزل دل ہم جہاں سے لوٹ آئے

tiri talab thi tire aastaan se lauT aae

غزل · Ghazal

تجھ سے مل کر اس قدر اپنوں سے بیگانے ہوئے اب تو پہچانے نہیں جاتے ہیں پہچانے ہوئے بت جنہیں ہم نے تراشا اور خدائی سونپ دی آ گئے ہیں سامنے پتھر وہی تانے ہوئے خلق کی تہمت سے چھوٹے سنگ طفلاں سے بچے خوب تھے وہ لوگ جو خود اپنے دیوانے ہوئے اس کو کیا کہئے کہ ہم ہر حال میں جلتے رہے دوریوں میں چاند تھے قربت میں پروانے ہوئے اپنی صورت میں بھی خاطرؔ ایک گونہ سحر تھا آئنہ خانوں میں فرزانے بھی دیوانے ہوئے

tujh se mil kar is qadar apnon se begaane hue

غزل · Ghazal

فریاد بھی ہے سوئے ادب اپنے شہر میں ہم پھر رہے ہیں مہر بلب اپنے شہر میں اب کیا دیار غیر میں ڈھونڈیں ہم آشنا اپنے تو غیر ہو گئے سب اپنے شہر میں اب امتیاز دشمنی و دوستی کسے حالات ہو گئے ہیں عجب اپنے شہر میں جو پھول آیا سبز قدم ہو کے رہ گیا کب فصل گل ہے فصل طرب اپنے شہر میں جو راندۂ زمانہ تھے اب شہریار ہیں کس کو خیال نام و نسب اپنے شہر میں اک آپ ہیں کہ سارا زمانہ ہے آپ کا اک ہم کہ اجنبی ہوئے اب اپنے شہر میں خاطرؔ اب اہل دل بھی بنے ہیں زمانہ ساز کس سے کریں وفا کی طلب اپنے شہر میں

fariyaad bhi hai su-e-adab apne shahr mein

Similar Poets