SHAWORDS
Khumar Barabankavi

Khumar Barabankavi

Khumar Barabankavi

Khumar Barabankavi

poet
62Shayari
30Ghazal

Popular Shayari

62 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

کبھی جو میں نے مسرت کا اہتمام کیا بڑے تپاک سے غم نے مجھے سلام کیا ہزار ترک تعلق کا اہتمام کیا مگر جہاں وہ ملے دل نے اپنا کام کیا زمانے والوں کے ڈر سے اٹھا نہ ہاتھ مگر نظر سے اس نے بصد معذرت سلام کیا کبھی ہنسے کبھی آہیں بھریں کبھی روئے بقدر مرتبہ ہر غم کا احترام کیا ہمارے حصے کی مے کام آئے پیاسوں کے ز راہ خیر گناہ شکست جام کیا طلوع مہر سے بھی گھر کی تیرگی نہ گھٹی اک اور شب کٹی یا میں نے دن تمام کیا دعا یہ ہے نہ ہوں گمراہ ہم سفر میرے خمارؔ میں نے تو اپنا سفر تمام کیا

kabhi jo main ne masarrat kaa ehtimaam kiyaa

غزل · Ghazal

بات جب دوستوں کی آتی ہے دوستی کانپ کانپ جاتی ہے مجھ سے اے دوست پھر خفا ہو جا عشق کو نیند آئی جاتی ہے اب قیامت سے کیا ڈرے کوئی اب قیامت تو روز آتی ہے بھاگتا ہوں میں زندگی سے خمارؔ اور یہ ناگن ڈسے ہی جاتی ہے

baat jab doston ki aati hai

غزل · Ghazal

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

aisaa nahin ki un se mohabbat nahin rahi

غزل · Ghazal

وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہے اپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہے وہ اکیلے میں بھی جو لجاتے رہے ہو نہ ہو ان کو ہم یاد آتے رہے یاد کرنے پہ بھی دوست آئے نہ یاد دوستوں کے کرم یاد آتے رہے آنکھیں سوکھی ہوئی ندیاں بن گئیں اور طوفاں بدستور آتے رہے پیار سے ان کا انکار برحق مگر لب یہ کیوں دیر تک تھرتھراتے رہے تھیں کمانیں تو ہاتھوں میں اغیار کے تیر اپنوں کی جانب سے آتے رہے کر لیا سب نے ہم سے کنارا مگر ایک ناصح غریب آتے جاتے رہے مے کدے سے نکل کر جناب خمارؔ کعبہ و دیر میں خاک اڑاتے رہے

vo hamein jis qadar aazmaate rahe

غزل · Ghazal

وہ جو آئے حیات یاد آئی بھولی بسری سی بات یاد آئی حال دل ان سے کہہ کے جب لوٹے ان سے کہنے کی بات یاد آئی آپ نے دن بنا دیا تھا جسے زندگی بھر وہ رات یاد آئی تیرے در سے اٹھے ہی تھے کہ ہمیں تنگیٔ کائنات یاد آئی واسطہ جب پڑا مسرت سے غم کی ایک ایک بات یاد آئی کیا جوانی گئی جناب خمارؔ کیسے توبہ کی بات یاد آئی

vo jo aae hayaat yaad aai

غزل · Ghazal

ہجر کی شب ہے اور اجالا ہے کیا تصور بھی لٹنے والا ہے غم تو ہے عین زندگی لیکن غم گساروں نے مار ڈالا ہے عشق مجبور و نا مراد سہی پھر بھی ظالم کا بول بالا ہے دیکھ کر برق کی پریشانی آشیاں خود ہی پھونک ڈالا ہے کتنے اشکوں کو کتنی آہوں کو اک تبسم میں اس نے ڈھالا ہے تیری باتوں کو میں نے اے واعظ احتراماً ہنسی میں ٹالا ہے موت آئے تو دن پھریں شاید زندگی نے تو مار ڈالا ہے شعر نغمہ شگفتگی مستی غم کا جو روپ ہے نرالا ہے لغزشیں مسکرائی ہیں کیا کیا ہوش نے جب مجھے سنبھالا ہے دم اندھیرے میں گھٹ رہا ہے خمارؔ اور چاروں طرف اجالا ہے

hijr ki shab hai aur ujaalaa hai

Similar Poets