SHAWORDS
Kishwar Naheed

Kishwar Naheed

Kishwar Naheed

Kishwar Naheed

poet
31Shayari
57Ghazal

Popular Shayari

31 total

Ghazalغزل

See all 57
غزل · Ghazal

دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی وہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگی پاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھا چنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی خوابوں کو در بدر ہی رکھا تھا نصیب نے آشفتگی میں جاں کا خسارہ تو ہے ابھی معلوم ہے کہ کچھ بھی نہیں دشت زیست میں امید خواب ہی پہ گزارا تو ہے ابھی رخصت شب فراق بہت سہہ لیا تجھے ہم راز گرچہ خواب ستارا تو ہے ابھی بے تابیاں سمیٹ کے پوچھا کرے ہے دل قسمت میں اپنی صبح کا تارا تو ہے ابھی

divaar-o-dar mein gham kaa tamaasha to hai abhi

غزل · Ghazal

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہو تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو زندگی چاہیں تو خوابوں سے سوا کچھ نہ ملے ڈوبنا چاہیں تو حاصل ہمیں دریا ہی نہ ہو دل کو خوش کرنے کو ڈھونڈے ہیں بہانے ہم نے اب پلٹ کر ذرا دیکھیں کہیں آیا ہی نہ ہو اب تو بس ساعت گم کردہ کی یادیں باقی یہ وہ جنگل ہے کہ جس میں کوئی رستا ہی نہ ہو کام کیا دے گا وہ ٹوٹا ہوا آئینہ بھی یاد رکھنے کو وہی عکس وہ چہرا ہی نہ ہو ہجر کو شوق مداوا ہی سمجھ کر جی لیں زندگی تجھ سے الجھنے کا تو یارا ہی نہ ہو

ye bhi mumkin hai ki aankhein ho tamaashaa hi na ho

غزل · Ghazal

یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا لیکن در خواہش کو بھی کھلنے نہیں دیتا یہ رسم ہے دیوار و در گریہ کی لیکن دریوزہ گر خواب تو رونے نہیں دیتا آشوب ہے ایسا کہ سراسیمہ ہے وحشت یہ عجز بیاں زخم بھی دھونے نہیں دیتا ہاں منزل امید بھی نزدیک تھی لیکن غم خانۂ جاناناں بہلنے نہیں دیتا آنکھوں میں وہی رنج اسیری ہے مسلط جو حشر بپا ہونا تھا ہونے نہیں دیتا بے نام رہی خواہش دیدار ہمیشہ شبنم کی طرح وہ مجھے ہنسنے نہیں دیتا آنگن میں لہو دیکھ کے روتی نہیں آنکھیں یہ دل تو سلگتا ہے پہ جلنے نہیں دیتا

ye dasht-e-faraamoshi Thaharne nahin detaa

غزل · Ghazal

تلاش دریا کی تھی بظاہر سراب دیکھا وہ کون آنکھیں تھیں جن کی خاطر یہ خواب دیکھا جو رت بھی آئے ہمیں سے گریہ کا رزق مانگے ہماری صورت کسے زمیں انتخاب دیکھا ندامتیں بہتے آنسوؤں سے شرح نہ پائیں سفینہ اپنی دعا کا مقتل رکاب دیکھا برستی آنکھوں سے سوکھے تالاب بھر نہ پائیں یہ غم کا دریا مثال قرض سحاب دیکھا کبھی تو آنکھوں میں ان کی آبادیاں کھلیں گی وہ بستیاں عمر بھر جنہیں زیر آب دیکھا ابھی تو بخیہ گری کو سوزن ہی کام آئے حنا کی دہلیز پہ طلوع حجاب دیکھا یقیں کہ تشنہ لبی مقدر رقم رہے گی وفور دریا بھی مثل دریائے خواب دیکھا جتا گیا ساری عادتیں بس گلے سے لگ کے اس ایک انجم کو چاندنی کے حساب دیکھا خیال اس کے بدن کی گلیوں کو ڈھونڈتا ہے وہ جس کو دیکھا تو حیرتوں کو نقاب دیکھا

talaash dariyaa ki thi ba-zaahir saraab dekhaa

غزل · Ghazal

میں طشت خواب لیے ہاتھ میں گزر گئی ہوں سمجھ سکا نہ وہ جس کے لیے میں گھر گئی ہوں بہت عجب تھی سمندر سے گفتگو لیکن پہن کے پیاس پلٹنے کا صبر کر گئی ہوں مرا مزاج رہا دشت آشنا شب بھر کہ دن میں بستیاں دیکھیں تو جیسے ڈر گئی ہوں حصول خواہش نایاب گرچہ نا ممکن کسی کے وعدۂ بے آب پہ ٹھہر گئی ہوں بہت نہال ہے دل آنکھ میں ہے سرمستی لگے کہ شہر خوش انجام سے گزر گئی ہوں بلا سے بھول گئے وہ جو آشنا تھے کبھی میں آج اپنے شبستاں میں بے خطر گئی ہوں خوشا ہتھیلی پہ یادوں کا قافلہ ٹھہرا خوشا کہ یاد تھی ایسی خوشی سے مر گئی ہوں بہت عزیز تھا آشفتگی کا پیراہن یہ جان کر دم آزردگی بکھر گئی ہوں سراب آسا رہا وہ تعلق خوباں پلٹ پلٹ کے بلاتا ہے پھر بھی ڈر گئی ہوں

main tasht-e-khvaab liye haath mein guzar gai huun

غزل · Ghazal

دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت زندگی دے کے ہوئی شعلہ فشانی رخصت تم نے جب شمع بجھائی تو سمجھ میں آیا ایک موہوم سا رشتہ تھا سو وہ بھی رخصت میں اداسی سر بازار بھی لاؤں ایسے جیسے پانی کی تمنا میں ہو کشتی رخصت میرے اصرار پہ موجود تھا گھر پہ لیکن اس نے خاموش لباسی میں لکھی تھی رخصت تیری تائید کی تصویر سے جی اٹھے تھے نہیں معلوم تھا یہ ریت ہے پانی رخصت میں حوالہ تری تحریر کا کس نام سے دوں مجھ سے تو مانگ چکا حرف تعلی رخصت

dil ne chaahaa thaa ki ho aabla-paai rukhsat

Similar Poets