kuchh din to malaal us kaa haq thaa
bichhDaa to khayaal us kaa haq thaa

Kishwar Naheed
Kishwar Naheed
Kishwar Naheed
Popular Shayari
31 totalhamein dekho hamaare paas baiTho ham se kuchh sikho
hamin ne pyaar maangaa thaa hamin ne daagh paae hain
dil ko bhi gham kaa saliqa na thaa pahle pahle
us ko bhi bhulnaa achchhaa lagaa pahle pahle
dil mein hai mulaaqaat ki khvaahish ki dabi aag
mehndi lage haathon ko chhupaa kar kahaan rakkhun
ab sirf libaas rah gayaa hai
vo le gayaa kal badan churaa kar
us ko fursat bhi nahin mujh ko tamannaa bhi nahin
phir khalish kyaa hai ki rah rah ke vafaa DhunDhti hai
javaan gehun ke kheton ko dekh kar ro dein
vo laDkiyaan ki jinhein bhuul baiThin maaein bhi
hamein aziiz hain in bastiyon ki divaarein
ki jin ke saae bhi divaar bante jaate the
shaamil huun main tere ratjagon mein
jaagun bhi to tere khvaab sochun
paani kaa bahaav tham gayaa hai
nikli hai nadi se vo nahaa kar
use hi baat sunaane ko dil nahin kartaa
vo shakhs jis ke liye zindagi samaaat thi
apni be-chehragi chhupaane ko
aaine ko idhar udhar rakkhaa
Ghazalغزل
دیوار و در میں غم کا تماشہ تو ہے ابھی وہ خود نہیں پہ اس کا بلاوا تو ہے ابھی مانوس ہو چلی ہے اداسی سے زندگی پاؤں کے آبلوں کا نظارا تو ہے ابھی سچ ہے کہ زہر عشق تلطف گریز تھا چنگاریوں نے ورنہ پکارا تو ہے ابھی خوابوں کو در بدر ہی رکھا تھا نصیب نے آشفتگی میں جاں کا خسارہ تو ہے ابھی معلوم ہے کہ کچھ بھی نہیں دشت زیست میں امید خواب ہی پہ گزارا تو ہے ابھی رخصت شب فراق بہت سہہ لیا تجھے ہم راز گرچہ خواب ستارا تو ہے ابھی بے تابیاں سمیٹ کے پوچھا کرے ہے دل قسمت میں اپنی صبح کا تارا تو ہے ابھی
divaar-o-dar mein gham kaa tamaasha to hai abhi
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہو تماشا ہی نہ ہو راس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو زندگی چاہیں تو خوابوں سے سوا کچھ نہ ملے ڈوبنا چاہیں تو حاصل ہمیں دریا ہی نہ ہو دل کو خوش کرنے کو ڈھونڈے ہیں بہانے ہم نے اب پلٹ کر ذرا دیکھیں کہیں آیا ہی نہ ہو اب تو بس ساعت گم کردہ کی یادیں باقی یہ وہ جنگل ہے کہ جس میں کوئی رستا ہی نہ ہو کام کیا دے گا وہ ٹوٹا ہوا آئینہ بھی یاد رکھنے کو وہی عکس وہ چہرا ہی نہ ہو ہجر کو شوق مداوا ہی سمجھ کر جی لیں زندگی تجھ سے الجھنے کا تو یارا ہی نہ ہو
ye bhi mumkin hai ki aankhein ho tamaashaa hi na ho
یہ دشت فراموشی ٹھہرنے نہیں دیتا لیکن در خواہش کو بھی کھلنے نہیں دیتا یہ رسم ہے دیوار و در گریہ کی لیکن دریوزہ گر خواب تو رونے نہیں دیتا آشوب ہے ایسا کہ سراسیمہ ہے وحشت یہ عجز بیاں زخم بھی دھونے نہیں دیتا ہاں منزل امید بھی نزدیک تھی لیکن غم خانۂ جاناناں بہلنے نہیں دیتا آنکھوں میں وہی رنج اسیری ہے مسلط جو حشر بپا ہونا تھا ہونے نہیں دیتا بے نام رہی خواہش دیدار ہمیشہ شبنم کی طرح وہ مجھے ہنسنے نہیں دیتا آنگن میں لہو دیکھ کے روتی نہیں آنکھیں یہ دل تو سلگتا ہے پہ جلنے نہیں دیتا
ye dasht-e-faraamoshi Thaharne nahin detaa
تلاش دریا کی تھی بظاہر سراب دیکھا وہ کون آنکھیں تھیں جن کی خاطر یہ خواب دیکھا جو رت بھی آئے ہمیں سے گریہ کا رزق مانگے ہماری صورت کسے زمیں انتخاب دیکھا ندامتیں بہتے آنسوؤں سے شرح نہ پائیں سفینہ اپنی دعا کا مقتل رکاب دیکھا برستی آنکھوں سے سوکھے تالاب بھر نہ پائیں یہ غم کا دریا مثال قرض سحاب دیکھا کبھی تو آنکھوں میں ان کی آبادیاں کھلیں گی وہ بستیاں عمر بھر جنہیں زیر آب دیکھا ابھی تو بخیہ گری کو سوزن ہی کام آئے حنا کی دہلیز پہ طلوع حجاب دیکھا یقیں کہ تشنہ لبی مقدر رقم رہے گی وفور دریا بھی مثل دریائے خواب دیکھا جتا گیا ساری عادتیں بس گلے سے لگ کے اس ایک انجم کو چاندنی کے حساب دیکھا خیال اس کے بدن کی گلیوں کو ڈھونڈتا ہے وہ جس کو دیکھا تو حیرتوں کو نقاب دیکھا
talaash dariyaa ki thi ba-zaahir saraab dekhaa
میں طشت خواب لیے ہاتھ میں گزر گئی ہوں سمجھ سکا نہ وہ جس کے لیے میں گھر گئی ہوں بہت عجب تھی سمندر سے گفتگو لیکن پہن کے پیاس پلٹنے کا صبر کر گئی ہوں مرا مزاج رہا دشت آشنا شب بھر کہ دن میں بستیاں دیکھیں تو جیسے ڈر گئی ہوں حصول خواہش نایاب گرچہ نا ممکن کسی کے وعدۂ بے آب پہ ٹھہر گئی ہوں بہت نہال ہے دل آنکھ میں ہے سرمستی لگے کہ شہر خوش انجام سے گزر گئی ہوں بلا سے بھول گئے وہ جو آشنا تھے کبھی میں آج اپنے شبستاں میں بے خطر گئی ہوں خوشا ہتھیلی پہ یادوں کا قافلہ ٹھہرا خوشا کہ یاد تھی ایسی خوشی سے مر گئی ہوں بہت عزیز تھا آشفتگی کا پیراہن یہ جان کر دم آزردگی بکھر گئی ہوں سراب آسا رہا وہ تعلق خوباں پلٹ پلٹ کے بلاتا ہے پھر بھی ڈر گئی ہوں
main tasht-e-khvaab liye haath mein guzar gai huun
دل نے چاہا تھا کہ ہو آبلہ پائی رخصت زندگی دے کے ہوئی شعلہ فشانی رخصت تم نے جب شمع بجھائی تو سمجھ میں آیا ایک موہوم سا رشتہ تھا سو وہ بھی رخصت میں اداسی سر بازار بھی لاؤں ایسے جیسے پانی کی تمنا میں ہو کشتی رخصت میرے اصرار پہ موجود تھا گھر پہ لیکن اس نے خاموش لباسی میں لکھی تھی رخصت تیری تائید کی تصویر سے جی اٹھے تھے نہیں معلوم تھا یہ ریت ہے پانی رخصت میں حوالہ تری تحریر کا کس نام سے دوں مجھ سے تو مانگ چکا حرف تعلی رخصت
dil ne chaahaa thaa ki ho aabla-paai rukhsat





