SHAWORDS
Mahmood Ayaz

Mahmood Ayaz

Mahmood Ayaz

Mahmood Ayaz

poet
10Shayari
14Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

چشم مشتاق نے یہ خواب عجب دیکھے ہیں دل کے آئینے میں سو عکس ہیں سب تیرے ہیں زندگی سے بھی نباہیں تجھے اپنا بھی کہیں اس کشاکش میں شب و روز گزر جاتے ہیں خانۂ دل میں تھا کیا کیا نہ امیدوں کا ہجوم خانہ ویراں ہے تو راضی بہ رضا بیٹھے ہیں دولت غم بھی خس و خاک زمانہ میں گئی تم گئے ہو تو مہ و سال کہاں ٹھہرے ہیں ابھی کچھ دیر نہ ڈوب اے مہہ تابان فراق ابھی کچھ خواب بھی جی بھر کے کہاں دیکھے ہیں

chashm-e-mushtaaq ne ye khvaab ajab dekhe hain

غزل · Ghazal

کروڑوں سال کا دیکھا ہوا تماشا ہے یہ رقص زیست کہ بے قصد و بے ارادہ ہے عجیب موج سبک سیر تھی ہوائے جہاں گزر گئی تو کوئی نقش ہے نہ جادہ ہے نشاط لمحہ کی وہ قیمتیں چکائی ہیں کہ اب ذرا سی مسرت پہ دل لرزتا ہے اکیلا میں ہی نہیں اے تماشہ گاہ جہاں جو سب کو دیکھ رہا ہے وہ خود بھی تنہا ہے اسی سے رشتۂ دل دل اسی رو گرداں اسی کو ڈھونڈ رہا ہوں اسی سے جھگڑا ہے

karoDon saal kaa dekhaa huaa tamaashaa hai

غزل · Ghazal

دن کو کار دراز دہر رہا رات خوابوں کی وادیوں میں کٹی چاند خاموش جا رہا تھا کہیں ہم نے بھی اس سے کوئی بات نہ کی ساعت دید تیری عمر ہی کیا ابھی آئی نہ تھی کہ بیت گئی برگ آوارہ سے کوئی پوچھے بوئے گل کس کی جستجو میں گئی کس کا نغمہ ہے دل کی دھڑکن میں کس کی آواز پا سکوت بنی

din ko kaar-e-daraaz-e-dahr rahaa

غزل · Ghazal

اس دل سادہ کی تسلی کو اک فریب وفا نما ہے بہت یاد رکھو تو دل کے پاس ہیں ہم بھول جاؤ تو فاصلہ ہے بہت کوئی وعدہ کوئی امید نہیں اب سکوں دل کو آ چلا ہے بہت ہم بچھڑ کر بھی تجھ سے جی لیں گے تیری یادوں کا آسرا ہے بہت عیش دنیا بھی کم نہیں لیکن دل ترے غم سے آشنا ہے بہت کوئی آواز بازگشت سہی غم کا سناٹا بڑھ چلا ہے بہت

is dil-e-saada ki tasalli ko

غزل · Ghazal

غم دل ہمرہی کرے نہ کرے انجم صبح ہم تو ڈوب چلے خامشی کس کے نقش پا پہ مٹی راستے کس کو ڈھونڈنے نکلے چاند تارے بھی شب گزیدہ ہیں سر مژگاں کوئی چراغ جلے پاس تھی منزل مراد مگر ہم غم رفتگاں کے ساتھ رہے شمع شب تاب ایک رات جلی جلنے والے تمام عمر جلے

gham-e-dil ham-rahi kare na kare

غزل · Ghazal

کرشمہ ساز ازل کیا طلسم باندھا ہے پریدہ رنگ ہے ہر نقش پھر بھی پیارا ہے تو رو بہ رو ہو تو اے روئے یار تجھ سے کہیں وہ حرف غم کہ حریف غم زمانہ ہے کبھی تو ہم پہ اٹھے چشم آشنا کی طرح وہ اک نگاہ کہ صد گردش زمانہ ہے ہماری آنکھوں سے نیرنگئ جہاں دیکھو ہماری آنکھوں میں اک عمر صد تماشا ہے ہوائے شوق وہ دن کس خزاں کے ساتھ گئے تمام عمر ہوئی انتظار فردا ہے

karishmaa-saaz-e-azal kyaa tilism baandhaa hai

Similar Poets