SHAWORDS
Maikash Akbarabadi

Maikash Akbarabadi

Maikash Akbarabadi

Maikash Akbarabadi

poet
14Sher
14Shayari
24Ghazal

Sherشعر

See all 14

Popular Sher & Shayari

28 total

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

shauq ke daftar dilon mein rah gae

شوق کے دفتر دلوں میں رہ گئے گرچہ عاشق داستانیں کہہ گئے دل میں خود ان کے بھی چبھ کر رہ گئے وہ نظر کے تیر جو ہم سہہ گئے مہربانی آپ کی یادش بخیر وقت کی موجوں میں عالم بہہ گئے تھا تری نظروں میں وہ جادو کہ ہم جو نہ کہنا چاہتے تھے کہہ گئے تھی جنوں آمیز اپنی گفتگو بات مطلب کی بھی لیکن کہہ گئے نزع تک دل اس کو دہرایا کیا اک تبسم میں وہ کیا کچھ کہہ گئے آج وہ محفل میں میکشؔ کی طرح کچھ نہ بولے اور سب کچھ کہہ گئے

غزل · Ghazal

jabin pe un ki ye bindi kaa daagh kyaa kahiye

جبیں پہ ان کی یہ بندی کا داغ کیا کہئے ہے آفتاب کی زینت چراغ کیا کہئے ہر اک ادا تری قاتل ہے سارے عالم کی کہاں لگائیے اپنا سراغ کیا کہئے محال جان رہا ہوں ترا حصول مگر ہے تیرے عشق سے دل باغ باغ کیا کہئے پڑے گی کس پہ کہ تجھ پر ہی خود نہیں پڑتی تری نگاہ کا کافر دماغ کیا کہئے تری نگاہ کے مدہوش تیرے میکشؔ سے حدیث جام و لب جوئے باغ کیا کہئے

غزل · Ghazal

ab bhi duzdida nigaah-e-naaz hai

اب بھی دزدیدہ نگاہ ناز ہے کیا مرے رونے میں بھی کچھ راز ہے بن گئے افسانے میری آہ کے خامشی تیری کہ اب بھی راز ہے دیکھنے والے کی آنکھیں دیکھیے آپ کو صورت پہ اپنی ناز ہے ہو چکی ناکامیوں کی انتہا اور الفت کا ابھی آغاز ہے میکشؔ و انکار بادہ حف نظر لاؤ ساغر یہ بھی اک انداز ہے

غزل · Ghazal

kabhi ahl-e-junun bhi maslahat se kaam lete hain

کبھی اہل جنوں بھی مصلحت سے کام لیتے ہیں تمہیں جب یاد کرتے ہیں خدا کا نام لیتے ہیں وہ مست ناز جب دزدیدہ نظروں سے پلاتا ہے خودی والے بھی دست بے خودی سے جام لیتے ہیں قیامت دم بخود ہے غمزۂ ترکانہ ششدر ہے خدا کے سامنے وہ آج میرا نام لیتے ہیں رہ الفت میں ہر ہر گام پر لغزش ہے میکشؔ کو سنا یہ ہے کہ وہ گرتے ہوؤں کو تھام لیتے ہیں

غزل · Ghazal

main ne is shoabda-gar dil ko kahaan chhoD diyaa

میں نے اس شعبدہ گر دل کو کہاں چھوڑ دیا آپ کے مد مقابل کو کہاں چھوڑ دیا جستجو ہے تو مگر یاد نہیں کس کی ہے ذوق رہ گیر نے منزل کو کہاں چھوڑ دیا کہہ گئیں کیا تری نظریں کہ ہے ویران سا دل لا کے طوفان نے ساحل کو کہاں چھوڑ دیا وہ نظر تیری جو مجھ پر نہ تھی اور مجھ پر تھی تو نے اس خلوت محفل کو کہاں چھوڑ دیا جل گئی شمع جو باقی نہ رہے پروانے دل جلوں نے تری محفل کو کہاں چھوڑ دیا یاں نہ امید کا گلشن ہے نہ ویرانۂ یاس بے خودی تو نے مرے دل کو کہاں چھوڑ دیا

غزل · Ghazal

paate hain muddaaa ko gham-e-muddaaa se ham

پاتے ہیں مدعا کو غم مدعا سے ہم سرشار ہیں تمنی بے التجا سے ہم اب جس پہ چاہیں رکھ دیں وہ الزام مے کشی ہے مست ہم سے ان کی ادا اور ادا سے ہم بے گانگی نے تیری دیا ہوش غیرتی ثابت ہوئے ہیں کس ستم ناروا سے ہم بیٹھے رہے وہ خون تمنا کئے ہوئے دیکھا کئے انہیں نگہ التجا سے ہم تیرا شباب ہے غم الفت کی ابتدا یعنی ہوئے شروع تری انتہا سے ہم اب کس سے جا کے ان کی شکایت بیاں کریں ان سے بھی پہلے روٹھ چکے ہیں خدا سے ہم آزاد ہے علائق رسم و رواج سے میکشؔ کو جانتے ہیں بہت ابتدا سے ہم

Similar Poets