"dasht-e-ghurbat men ham-safar na bana ham ka.i mehrban chhoD aa.e"

Masood Tanha
Masood Tanha
Masood Tanha
Sherشعر
See all 33 →dasht-e-ghurbat men ham-safar na bana
دشت غربت میں ہم سفر نہ بنا ہم کئی مہربان چھوڑ آئے
is baar ukhaD ja.enge aivan-e-siyasat
اس بار اکھڑ جائیں گے ایوان سیاست دربان رہیں گے نہ یہ دربار رہے گا
suluk rakhta hai mujh se munafiqon jaisa
سلوک رکھتا ہے مجھ سے منافقوں جیسا تمام شہر میں جو معتبر زیادہ ہے
zakhm deta hai har koi 'tanha'
زخم دیتا ہے ہر کوئی تنہاؔ حوصلہ بھی دیا کرے کوئی
bach ke nikla tha jo kabhi mujh se
بچ کے نکلا تھا جو کبھی مجھ سے آ گیا ہے مرے نشانے پر
ye tamasha sar-e-bazar nahin ho sakta
یہ تماشا سر بازار نہیں ہو سکتا ہر کوئی میرا خریدار نہیں ہو سکتا
Popular Sher & Shayari
66 total"is baar ukhaD ja.enge aivan-e-siyasat darban rahenge na ye darbar rahega"
"suluk rakhta hai mujh se munafiqon jaisa tamam shahr men jo mo'atabar ziyada hai"
"zakhm deta hai har koi 'tanha' hausla bhi diya kare koi"
"bach ke nikla tha jo kabhi mujh se aa gaya hai mire nishane par"
"ye tamasha sar-e-bazar nahin ho sakta har koi mera kharidar nahin ho sakta"
shahr mein raunaqein sahi 'tanhaa'
apne gaanv se mat kinaaraa kar
dost hi khubiyaan bataate hain
dost hi khaamiyaan nikaalte hain
ye tamaashaa sar-e-baazaar nahin ho saktaa
har koi meraa kharidaar nahin ho saktaa
dasht-e-ghurbat mein ham-safar na banaa
ham kai mehrbaan chhoD aae
chup jo rahte hain to ye baat ghanimat jaano
varna ham log bhi ik hashr uThaa sakte hain
yaadon ke qaafile mein udaasi thi ham-rikaab
hijrat mein tere shahr se 'tanhaa' nahin gae
Ghazalغزل
dayaar-e-be-hunar mein ye hunar bechaa nahin main ne
دیار بے ہنر میں یہ ہنر بیچا نہیں میں نے میں بے گھر تو ہوا ہوں اپنا گھر بیچا نہیں میں نے ضرورت تو رہی ہے مجھ کو بھی اشیائے دنیا کی مگر خود کو کبھی بھی لمحہ بھر بیچا نہیں میں نے مرے سینے میں جو پلتا رہا ہے ایک مدت سے کسی صورت بھی بچپن کا وہ ڈر بیچا نہیں میں نے اسی کو بیچ ڈالا ہے یہ جوبن بھی جوانی بھی یہ اپنی آبرو کو در بہ در بیچا نہیں میں نے جلا ہوں عمر بھر میں اس تمازت میں سر صحرا کسی صورت بھی غربت میں شجر بیچا نہیں میں نے سمندر سے عداوت تو رہی ہے آج تک تنہاؔ سمندر کا کوئی لعل و گہر بیچا نہیں میں نے
mohabbat mein vafaa ke goshvaare bhuul baiThaa thaa
محبت میں وفا کے گوشوارے بھول بیٹھا تھا میں اپنے سب منافعے سب خسارے بھول بیٹھا تھا سفر میں ساتھ تم بھی تھے مجھے کیا غم تھا رستے کا میں اپنی دھن میں تھا وعدے تمھارے بھول بیٹھا تھا میں ان لہروں کے آنچل میں لپٹ کے دور جا پہنچا سمندر کی محبت میں کنارے بھول بیٹھا تھا بچھڑ جانے کی وہ باتیں تو اکثر کرتا رہتا تھا میں ان لفظوں کے مخفی استعارے بھول بیٹھا تھا مری نظروں میں بے مفہوم تھی یہ رونق دنیا میں اس دنیا کو یادوں کے سہارے بھول بیٹھا تھا مجھے تم یاد آئے تھے دسمبر کے مہینے میں جب اپنی ساری نیندیں خواب سارے بھول بیٹھا تھا
kuchh tumhaare to kuchh hamaare hue
کچھ تمھارے تو کچھ ہمارے ہوئے اس محبت میں جو خسارے ہوئے ہم نے تنہائیوں کے سارے پل اپنے اشکوں سے ہیں سنوارے ہوئے اب تو شدت سے یاد آتے ہیں تیری قربت میں دن گزارے ہوئے یہ تو ہیں اشک میری آنکھوں کے تیری پلکوں پہ جو ستارے ہوئے جب تلاطم کا سامنا تھا ہمیں دور ہم سے بہت کنارے ہوئے آج ملنا ہے تم نے کس کس سے تم نے گیسو بھی ہیں سنوارے ہوئے اٹھ کے ہم آ گئے تھے محفل سے اس کی جانب سے جب اشارے ہوئے
rahaa safar mein to aksar udaas kar degaa
رہا سفر میں تو اکثر اداس کر دے گا اسے بھی شام کا منظر اداس کر دے گا مجھے یقیں ہے کہ اک روز لازماً تم کو وہ اپنے عہد سے ہٹ کر اداس کر دے گا جو تیرے نام کے صدقے میں مجھ سے مانگے گا گلی میں ایسا گداگر اداس کر دے گا ابھی تو وقت ہے اس کے نہ تم قریب رہو تمہیں تمہارا سخنور اداس کر دے گا اک اجنبی پہ جو تم اعتماد کرتے ہو تمہیں کہیں نہ کہیں پر اداس کر دے گا مجھے پتہ ہے کہ ملحد ہے شہر حسرت سے چلا گیا تو یہ کافر اداس کر دے گا
aqlim-e-aql-o-hosh ke sultaan ho gae
اقلیم عقل و ہوش کے سلطان ہو گئے خود کو بھلا کے صاحب عرفان ہو گئے کیا جانے عکس میرا وہاں کیسے آ گیا وہ آئنے کو دیکھ کے حیران ہو گئے ہر گوشۂ حیات مرا جگمگا اٹھا روشن محبتوں کے شمع دان ہو گئے یادوں کے زخم اور زمانے کی تہمتیں ہم بیکسوں کی موت کے سامان ہو گئے ایسی ہوا چلی کہ مرا دل ہی بجھ گیا تاریک میری زیست کے ایوان ہو گئے تنہاؔ سے اب ذرا بھی مراسم نہیں رہے تیری طرف سے آج یہ اعلان ہو گئے
kam kiyaa ham ne apni zaat pe ghaur
کم کیا ہم نے اپنی ذات پہ غور ہم تو کرتے ہیں کائنات پہ غور تم نے مانے ہیں حکم غیروں کے کب کیا ہے ہماری بات پہ غور مسئلے حل نہ ہو سکے اپنے کر چکے ہیں مذاکرات پہ غور بات ہوتی ہے جب محبت کی کرنا پڑتا ہے دل کی بات پہ غور جب بھی ملنے کی بات کرتا ہوں کرنے لگتے ہیں میری بات پہ غور حادثہ پھر نہ پیش آتا ہمیں یہ محافظ جو کرتے گھات پہ غور





