SHAWORDS
Masood Tanha

Masood Tanha

Masood Tanha

Masood Tanha

poet
33Sher
33Shayari
27Ghazal

Sherشعر

See all 33

Popular Sher & Shayari

66 total

Ghazalغزل

See all 27
غزل · Ghazal

dayaar-e-be-hunar mein ye hunar bechaa nahin main ne

دیار بے ہنر میں یہ ہنر بیچا نہیں میں نے میں بے گھر تو ہوا ہوں اپنا گھر بیچا نہیں میں نے ضرورت تو رہی ہے مجھ کو بھی اشیائے دنیا کی مگر خود کو کبھی بھی لمحہ بھر بیچا نہیں میں نے مرے سینے میں جو پلتا رہا ہے ایک مدت سے کسی صورت بھی بچپن کا وہ ڈر بیچا نہیں میں نے اسی کو بیچ ڈالا ہے یہ جوبن بھی جوانی بھی یہ اپنی آبرو کو در بہ در بیچا نہیں میں نے جلا ہوں عمر بھر میں اس تمازت میں سر صحرا کسی صورت بھی غربت میں شجر بیچا نہیں میں نے سمندر سے عداوت تو رہی ہے آج تک تنہاؔ سمندر کا کوئی لعل و گہر بیچا نہیں میں نے

غزل · Ghazal

mohabbat mein vafaa ke goshvaare bhuul baiThaa thaa

محبت میں وفا کے گوشوارے بھول بیٹھا تھا میں اپنے سب منافعے سب خسارے بھول بیٹھا تھا سفر میں ساتھ تم بھی تھے مجھے کیا غم تھا رستے کا میں اپنی دھن میں تھا وعدے تمھارے بھول بیٹھا تھا میں ان لہروں کے آنچل میں لپٹ کے دور جا پہنچا سمندر کی محبت میں کنارے بھول بیٹھا تھا بچھڑ جانے کی وہ باتیں تو اکثر کرتا رہتا تھا میں ان لفظوں کے مخفی استعارے بھول بیٹھا تھا مری نظروں میں بے مفہوم تھی یہ رونق دنیا میں اس دنیا کو یادوں کے سہارے بھول بیٹھا تھا مجھے تم یاد آئے تھے دسمبر کے مہینے میں جب اپنی ساری نیندیں خواب سارے بھول بیٹھا تھا

غزل · Ghazal

kuchh tumhaare to kuchh hamaare hue

کچھ تمھارے تو کچھ ہمارے ہوئے اس محبت میں جو خسارے ہوئے ہم نے تنہائیوں کے سارے پل اپنے اشکوں سے ہیں سنوارے ہوئے اب تو شدت سے یاد آتے ہیں تیری قربت میں دن گزارے ہوئے یہ تو ہیں اشک میری آنکھوں کے تیری پلکوں پہ جو ستارے ہوئے جب تلاطم کا سامنا تھا ہمیں دور ہم سے بہت کنارے ہوئے آج ملنا ہے تم نے کس کس سے تم نے گیسو بھی ہیں سنوارے ہوئے اٹھ کے ہم آ گئے تھے محفل سے اس کی جانب سے جب اشارے ہوئے

غزل · Ghazal

rahaa safar mein to aksar udaas kar degaa

رہا سفر میں تو اکثر اداس کر دے گا اسے بھی شام کا منظر اداس کر دے گا مجھے یقیں ہے کہ اک روز لازماً تم کو وہ اپنے عہد سے ہٹ کر اداس کر دے گا جو تیرے نام کے صدقے میں مجھ سے مانگے گا گلی میں ایسا گداگر اداس کر دے گا ابھی تو وقت ہے اس کے نہ تم قریب رہو تمہیں تمہارا سخنور اداس کر دے گا اک اجنبی پہ جو تم اعتماد کرتے ہو تمہیں کہیں نہ کہیں پر اداس کر دے گا مجھے پتہ ہے کہ ملحد ہے شہر حسرت سے چلا گیا تو یہ کافر اداس کر دے گا

غزل · Ghazal

aqlim-e-aql-o-hosh ke sultaan ho gae

اقلیم عقل و ہوش کے سلطان ہو گئے خود کو بھلا کے صاحب عرفان ہو گئے کیا جانے عکس میرا وہاں کیسے آ گیا وہ آئنے کو دیکھ کے حیران ہو گئے ہر گوشۂ حیات مرا جگمگا اٹھا روشن محبتوں کے شمع دان ہو گئے یادوں کے زخم اور زمانے کی تہمتیں ہم بیکسوں کی موت کے سامان ہو گئے ایسی ہوا چلی کہ مرا دل ہی بجھ گیا تاریک میری زیست کے ایوان ہو گئے تنہاؔ سے اب ذرا بھی مراسم نہیں رہے تیری طرف سے آج یہ اعلان ہو گئے

غزل · Ghazal

kam kiyaa ham ne apni zaat pe ghaur

کم کیا ہم نے اپنی ذات پہ غور ہم تو کرتے ہیں کائنات پہ غور تم نے مانے ہیں حکم غیروں کے کب کیا ہے ہماری بات پہ غور مسئلے حل نہ ہو سکے اپنے کر چکے ہیں مذاکرات پہ غور بات ہوتی ہے جب محبت کی کرنا پڑتا ہے دل کی بات پہ غور جب بھی ملنے کی بات کرتا ہوں کرنے لگتے ہیں میری بات پہ غور حادثہ پھر نہ پیش آتا ہمیں یہ محافظ جو کرتے گھات پہ غور

Similar Poets