sar ko na pheink apne falak par ghurur se
tu khaak se banaa hai tiraa ghar zamin hai

Meer Hasan
Meer Hasan
Meer Hasan
Popular Shayari
108 totaljab talak zar hai to sab koi hai phir koi nahin
sach hai makkhi bhi rahe hai shakar-o-shir talak
ghair kahte hain ki ham baiThne deveinge na yaan
ab to is zid se jo kuchh hove so ho baiThe ham
sadaa aish dauraan dikhaataa nahin
gayaa vaqt phir haath aataa nahin
dosti kis se na thi kis se mujhe pyaar na thaa
jab bure vaqt pe dekhaa to koi yaar na thaa
jo koi aave hai nazdik hi baiThe hai tire
ham kahaan tak tire pahlu se sarakte jaavein
aasaan na samajhiyo tum nakhvat se paak honaa
ik umr kho ke ham ne sikhaa hai khaak honaa
aashnaa bevafaa nahin hotaa
bevafaa aashnaa nahin hotaa
aur kuchh tohfa na thaa jo laate ham tere niyaaz
ek do aansu the aankhon mein so bhar laae hain ham
ghair ko tum na aankh bhar dekho
kyaa ghazab karte ho idhar dekho
hai yahi shauq shahaadat kaa agar dil mein to ishq
le hi pahunchegaa hamein bhi tiri shamshir talak
nazar aane se rah gayaa az-bas
chhaa gayaa intizaar aankhon mein
Ghazalغزل
آپ کو اس نے اب تراشا ہے قہر ہے ظلم ہے تماشا ہے اس کو لیتے بغل میں ڈرتا ہوں نازکی میں وہ شیشہ باشا ہے کیوں کہوں اپنے سیم تن کا حال گاہ تولہ ہے گاہ ماشا ہے ترے کوچہ سے اٹھ نہیں سکتا کس وفا کشتہ کا یہ لاشہ ہے گر فرشتہ بھی ہو حسنؔ تو وہاں گالی اور جھڑکی بے تحاشا ہے
aap ko us ne ab taraashaa hai
بس کہ چوں بدر زمانہ یہ گھٹاتا ہے مجھے دن بدن اور ہی عالم نظر آتا ہے مجھے حسن نیرنگی عالم کا عجب رنگ سے کچھ عین نیرنگی میں سو رنگ دکھاتا ہے مجھے اتنا معلوم تو ہوتا ہے کہ جاتا ہوں کہیں کوئی ہے مجھ میں کہ مجھ سے لئے جاتا ہے مجھے یاد میں کس کی کروں مجھ کو کہاں ہوش و حواس اپنی ہی یاد سے یہ عشق بھلاتا ہے مجھے طرفہ عالم ہے کہ ہر ایک سے وہ مایہ ناز آپ رہتا ہے الگ اور بھڑاتا ہے مجھے چھوڑ کر مجھ کو وہ تنہا کوئی جاتا ہے کہیں یہ بھی اک چھیڑ ہے اس کو کہ کڑھاتا ہے مجھے مجھ کو کیوں کھینچے لئے جائے ہے تقصیر مری عمر ٹک رہ تو سہی کون بلاتا ہے مجھے مجھ میں اور دل میں سدا ہے سبق عشق کا درس میں سناتا ہوں اسے اور وہ سناتا ہے مجھے میرے ناخونوں میں میں تجھ سے کئے چار ابرو اپنی کیا تیغ سے ہر دم تو ڈراتا ہے مجھے طائر رنگ حنا ہوں تو لگوں تیرے ہاتھ چٹکیوں میں تو عبث یار اڑاتا ہے مجھے تجھ کو منظور جفا مجھ کو ہے مطلوب وفا نہ یہ بھاتا ہے تجھے اور نہ وہ بھاتا ہے مجھے جو مری چڑھ ہے اسی بات کا ہے تجھ کو ذوق آہ تو دیدہ و دانستہ کھجاتا ہے مجھے پھر پھر آئینہ میں منہ دیکھنے لگتا ہے حسنؔ ایک دم آپ میں وہ شوخ جو پاتا ہے مجھے
bas ki chuun badr-zamaana ye ghaTaataa hai mujhe
شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہم صبح ہوتے تو پھر کہاں ہیں ہم تم بن اے رفتگان ملک عدم ہستی اپنی سے سرگراں ہیں ہم باغباں ٹک تو بیٹھنے دے کہیں آہ گم کردہ آشیاں ہیں ہم دیکھتے ہیں اسی کو اہل نظر گو نہاں ہے وہ اور عیاں ہیں ہم نہ کسی کی سنیں نہ اپنی کہیں نقش دیوار بوستاں ہیں ہم جنس آسودگی نہیں ہم پاس درد اور غم کے کارواں ہیں ہم دل سے نالہ نکل نہیں سکتا یاں تلک غم سے ناتواں ہیں ہم کیا کہیں ہم حسنؔ بقول ضیاؔ جس طرح سے کہ اب یہاں ہیں ہم داغ ہیں کاروان رفتہ کے نقش پائے گزشتگاں ہیں ہم
shama saan shab ke mehmaan hain ham
کہتا نہ تھا میں اے دل تو اس سے جی لگا نہ اس کا تو کیا گیا اب تیرا ہی جی گیا نہ سو بار میں نے جھانکا چلمن سے اس کو لیکن اتنا کہا نہ اس نے کیا دیکھتا ہے آ نہ میں خوب رو چکا ہوں ظالم بس اور مجھ کو آزردگی کی باتیں کہہ کہہ کے تو رلا نہ جاتے ہی یار کے تو کہتا تھا مر رہوں گا وقت وداع اے دل آخر تو مر گیا نہ کل میں نے ہنستے ہنستے پوچھا کہ کوئی دم یاں فرمائیے تو میں بھی بیٹھا رہوں کہ یا نہ تیوری چڑھا کے بولا چل چل خبر لے اپنی جی لگ رہا ہے تیرا جیدھر تو اپنے جا نہ کہتا نہ تھا کہ ہر دم اس کی گلی میں مت جا اس بات کا اب آخر چرچا حسنؔ ہوا نہ
kahtaa na thaa main ai dil tu us se ji lagaa na
آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کے نظروں سے گر گئے ہیں ہم کس کے دل کا ہمدم علاج مت کر اب زخم مرہم پذیر ہیں اس کے کون آتا ہے ایسا ہوش ربا صبر و طاقت یہاں سے کیوں کھسکے دیکھتی ہے یہ کس کی آنکھوں کو کیوں کھلے ہیں یہ چشم نرگس کے بس کہیں تھک بھی آسیائے فلک ہو چکے سرمہ ہم تو اب پس کے جی سے رہتے ہیں اپنے اس پہ نثار دل سے ہوتے ہیں دوست ہم جس کے گو نہیں اب کبھی تو اے پیارے ہم بھی تھے یار تیری مجلس کے تو تو خوش ہے کہ تیرے کوچہ میں ایک تڑپا کرے اور اک سسکے مر گئے پر بھی یہ حسنؔ نہ مندے منتظر چشم تھے ترے کس کے
aankhon mein hain haqir jis-tis ke
کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریں وگر لگاویں تو مشکل کہ بے حواس پھریں ہمیں بھی ہووے اجازت کہ شمع رو تجھ پر پتنگ کی نمط اک دم تو آس پاس پھریں تری گلی میں بھلا اتنی تو ہمیں ہو راہ کہ جب تک اپنا وہاں جی ہو بے ہراس پھریں اٹھا دے ہم سے جو بیٹھے ہوؤں کو اب کی فلک تو آرزو ہے یہ جی میں کہ بے قیاس پھریں نہ خط کسی کا پڑھے ہے حسنؔ نہ وہ عرضی کہاں تلک لئے ہم اپنا التماس پھریں
kahin jo dil na lagaavein to phir udaas phirein





