SHAWORDS
M

Mirza Mohammad Taqi Hawas

Mirza Mohammad Taqi Hawas

Mirza Mohammad Taqi Hawas

poet
21Shayari
22Ghazal

Popular Shayari

21 total

Ghazalغزل

See all 22
غزل · Ghazal

جنگلوں میں جستجوئے قیس صحرائی کروں کب تلک ڈھونڈوں کہاں تک جادہ پیمائی کروں گر کوئی مانع نہ ہو واں سجدہ کرنے کا مجھے آستان یار پر برسوں جبیں سائی کروں بزم ہستی میں نہیں جز بیکسی اپنا رفیق کس کی خاطر دوستو میں محفل آرائی کروں غارت دل کا جو کرتا ہے ارادہ ترک چشم غمزہ کہتا ہے میں تاراج شکیبائی کروں لے گئے جب تیرے دیوانے کو عیسیٰ نے کہا ہر گھڑی میں کیا علاج مرد سودائی کروں آشنا کوئی نظر آتا نہیں یاں اے ہوسؔ کس کو میں اپنا انیس کنج تنہائی کروں

jangalon mein justuju-e-qais-e-sahraai karun

غزل · Ghazal

بے وجہ نہیں گرد پریشاں پس محفل آتا ہے کوئی بے سر و ساماں پس محفل از بس کشش عشق سے آگاہ تھی لیلیٰ تھی دیکھتی وہ فتنۂ دوراں پس محفل کس سوختہ کی خاک سے اٹھا ہے بگولا اک شعلۂ جوالہ ہے پیچاں پس محفل فکر قدم ناقہ ہوا قیس کو پیدا دیکھا جو ہیں صحرائے مغیلاں پس محفل اے ناقہ کش اتنی بھی نہ تو تیز روی کر مجنوں ز خود و رفتہ ہے نالاں پس محفل شاید میں اسے دیکھوں ہوسؔ با لب خنداں جاتا ہوں اس امید پہ گریاں پس محفل

be-vajh nahin gard pareshaan pas-e-mahmil

غزل · Ghazal

میں کہا بولنا شب غیر سے تھا تم کو کیا مسکرا کہنے لگا شوق مرا تم کو کیا جو کہا میں کہ برے طور نکالے تم نے پھیر کر منہ کو لگا کہنے بھلا تم کو کیا شکوہ اس بت کے جفا کا جو کیا میں تو کہا تم تو دنیا میں ہو اک اہل وفا تم کو کیا درد سر دشمنوں کے ان کے ہوا رات سو میں جوں ہی گھبرا کے یہ پوچھا تو کہا تم کو کیا تان کر منہ پہ دوپٹہ بہ دم سرد کہا تم لگے پوچھنے کیوں حال مرا تم کو کیا ہر گھڑی تم جو ملامت مجھے کرتے ہو ہوسؔ آپ میں دام محبت میں پھنسا تم کو کیا

main kahaa bolnaa shab ghair se thaa tum ko kyaa

غزل · Ghazal

شوق خراش خار مرے دل میں رہ گیا پائے‌ تلاش پہلی ہی منزل میں رہ گیا میں زمزمہ سرا تو چمن سے گیا ولے افسانہ اک گروہ عنادل میں رہ گیا زنجیر موج پاؤں میں آ کر لپٹ گئی طوفانیوں کا دھیان ہی ساحل میں رہ گیا تصویر اس کی کیسے کھنچی مانیٔ خیال حیران جس کی شکل و شمائل میں رہ گیا کام اپنا تو تمام کیا یاس نے ہوسؔ جی اشتیاق خنجر قاتل میں رہ گیا

shauq-e-kharaash-e-khaar mire dil mein rah gayaa

غزل · Ghazal

میں نہ سمجھا بلبل بے بال و پر نے کیا کہا گوش گل میں قاصد باد سحر نے کیا کہا نزع کے دم بھی زبس لیلیٰ کو مانع تھا حجاب چپکے چپکے روئی اور اس نوحہ گر نے کیا کہا تیرے وحشی سے عبث تجھ کو خفا کرتے ہیں لوگ سب یہ باتیں جھوٹھ تھیں اس بے خبر نے کیا کہا سینکڑوں رنگینیاں پیدا کیں اس نے وقت قصد خوں‌ مجنوں سے زباں شیر نے کیا کہا نامہ بر کو گالیاں دیں اس نے سن کر میرا نام منہ کو تکتا رہ گیا اور نامہ بر نے کیا کہا ہو گیا اس کو پہن کر اور بھی مغرور وہ کان میں اس شوخ کے سلک گہر نے کیا کہا جوڑنا ان کا نہایت اے ہوسؔ دشوار تھا دل کے ٹکڑے دیکھ میرے شیشہ گر نے کیا کہا

main na samjhaa bulbul be-baal-o-par ne kyaa kahaa

غزل · Ghazal

ہوئے عازم ملک عدم جو ہوسؔ تو خوشی یہ ہوئی تھی کہ غم سے چھٹے پہ فراغ الم سے نہ واں بھی ملا واں غم یہ ہوا کہ وہ ہم سے چھٹے کبھی دیر میں تھے کسی بت پہ فدا کبھی کعبے میں کرتے جا کے دعا ترے کوچے میں بیٹھے تو خوب ہوا کہ کشاکش دیر و حرم سے چھٹے یہی کہتی تھی لیلیٔ پردہ نشیں کہ فراق کی اب اسے تاب نہیں ملوں اس سے میں تا مرا قیس خزیں غم ہجر کے درد و الم سے چھٹے میں ہوا بھی جو بسمل تیغ جفا ولے باقی ہے دل میں ابھی یہ وفا کہ یقیں ہے لہو مرا جائے‌ حنا جو لگے تو نہ پائے صنم سے چھٹے نہ ہو بستۂ چین کمند و رسن رہے بھاگتا ہے وہ بہ دشت ختن تری چشم ہو اس پہ جو سایہ فگن کبھی پاے غزال نہ رم سے چھٹے نہ کیوں شاکی ہوں بخت سیاہ سے ہم کہ وہ معدن شفقت و لطف و کرم کرے نالۂ شوق جو ہم کو رقم تو سیاہی نہ نوک قلم سے چھٹے مجھے رہ میں ملے تھے وہ باندھے کمر چلے جاتے تھے باغ کو وقت سحر انہیں لاتا پکڑ مجھے کس کا تھا ڈر پہ فریب کے قول و قسم سے چھٹے ہوئے خوف سے گوشہ گزین عسس گیا سینہ پلنگ فلک کا جھلس شب ہجر میں یارو بغیر ہوسؔ مرے نالے جو شیر اجم سے چھٹے

hue aazim-e-mulk-e-adam jo 'havas' to khushi ye hui thi ki gham se chhuTe

Similar Poets