"tez hava ne mujh se puchha ret pe kya likhte rahte ho"

Mohsin Naqvi
Mohsin Naqvi
Mohsin Naqvi
Sherشعر
See all 41 →tez hava ne mujh se puchha
تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
jo apni zaat se bahar na aa saka ab tak
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
har vaqt ka hansna tujhe barbad na kar de
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
kaun si baat hai tum men aisi
کون سی بات ہے تم میں ایسی اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
sirf hathon ko na dekho kabhi ankhen bhi paDho
صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں
kaash koi ham se bhi puchhe
کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے رات گئے تک کیوں جاگے ہو
Popular Sher & Shayari
82 total"jo apni zaat se bahar na aa saka ab tak vo pattharon ko mata-e-havas kya dega"
"har vaqt ka hansna tujhe barbad na kar de tanha.i ke lamhon men kabhi ro bhi liya kar"
"kaun si baat hai tum men aisi itne achchhe kyuun lagte ho"
"sirf hathon ko na dekho kabhi ankhen bhi paDho kuchh savali baDe khuddar hua karte hain"
"kaash koi ham se bhi puchhe raat ga.e tak kyuun jaage ho"
Dhalte suraj ki tamaazat ne bikhar kar dekhaa
sar-kashida miraa saayaa saf-e-ashjaar ke biich
kal thake-haare parindon ne nasihat ki mujhe
shaam Dhal jaae to 'mohsin' tum bhi ghar jaayaa karo
sunaa hai shahar mein zakhmi dilon kaa mela hai
chaleinge ham bhi magar pairahan rafu kar ke
kyuun tire dard ko dein tohmat-e-viraani-e-dil
zalzalon mein to bhare shahr ujaD jaate hain
kaash koi ham se bhi puchhe
raat gae tak kyuun jaage ho
vo aksar din mein bachchon ko sulaa deti hai is Dar se
gali mein phir khilaune bechne vaalaa na aa jaae
Ghazalغزل
ujaD ujaD ke sanvarti hai tere hijr ki shaam
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام نہ پوچھ کیسے گزرتی ہے تیرے ہجر کی شام یہ برگ برگ اداسی بکھر رہی ہے مری کہ شاخ شاخ اترتی ہے تیرے ہجر کی شام اجاڑ گھر میں کوئی چاند کب اترتا ہے سوال مجھ سے یہ کرتی ہے تیرے ہجر کی شام مرے سفر میں اک ایسا بھی موڑ آتا ہے جب اپنے آپ سے ڈرتی ہے تیرے ہجر کی شام بہت عزیز ہیں دل کو یہ زخم زخم رتیں انہی رتوں میں نکھرتی ہے تیرے ہجر کی شام یہ میرا دل یہ سراسر نگارخانۂ غم سدا اسی میں اترتی ہے تیرے ہجر کی شام جہاں جہاں بھی ملیں تیری قربتوں کے نشاں وہاں وہاں سے ابھرتی ہے تیرے ہجر کی شام یہ حادثہ تجھے شاید اداس کر دے گا کہ میرے ساتھ ہی مرتی ہے تیرے ہجر کی شام
khumaar-e-mausam-e-khushbu had-e-chaman mein khulaa
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا مری غزل کا خزانہ ترے بدن میں کھلا تم اس کا حسن کبھی اس کی بزم میں دیکھو کہ ماہتاب سدا شب کے پیرہن میں کھلا عجب نشہ تھا مگر اس کی بخشش لب میں کہ یوں تو ہم سے بھی کیا کیا نہ وہ سخن میں کھلا نہ پوچھ پہلی ملاقات میں مزاج اس کا وہ رنگ رنگ میں سمٹا کرن کرن میں کھلا بدن کی چاپ نگہ کی زباں بھی ہوتی ہے یہ بھید ہم پہ مگر اس کی انجمن میں کھلا کہ جیسے ابر ہوا کی گرہ سے کھل جائے سفر کی شام مرا مہرباں تھکن میں کھلا کہوں میں کس سے نشانی تھی کس مسیحا کی وہ ایک زخم کہ محسنؔ مرے کفن میں کھلا
ye kah gae hain musaafir luTe gharon vaale
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے ڈریں ہوا سے پرندے کھلے پروں والے یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے ہوا کے ہاتھ میں کاسے ہیں زرد پتوں کے کہاں گئے وہ سخی سبز چادروں والے کہاں ملیں گے وہ اگلے دنوں کے شہزادے پہن کے تن پہ لبادے گداگروں والے پہاڑیوں میں گھرے یہ بجھے بجھے رستے کبھی ادھر سے گزرتے تھے لشکروں والے انہی پہ ہو کبھی نازل عذاب آگ اجل وہی نگر کبھی ٹھہریں پیمبروں والے ترے سپرد کروں آئنے مقدر کے ادھر تو آ مرے خوش رنگ پتھروں والے کسی کو دیکھ کے چپ چپ سے کیوں ہوئے محسنؔ کہاں گئے وہ ارادے سخن وروں والے
main dil pe jabr karungaa tujhe bhulaa dungaa
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا اسی خیال میں گزری ہے شام درد اکثر کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا تو آسمان کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی زمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیری میں تیرے خط تری تصویر تک جلا دوں گا بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔ اس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا
bhaDkaaein miri pyaas ko aksar tiri aankhein
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
fazaa kaa habs shagufon ko baas kyaa degaa
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا بدن دریدہ کسی کو لباس کیا دے گا یہ دل کہ قحط انا سے غریب ٹھہرا ہے مری زباں کو زر التماس کیا دے گا جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا یہ شہر یوں بھی تو دہشت بھرا نگر ہے یہاں دلوں کا شور ہوا کو ہراس کیا دے گا وہ زخم دے کے مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے اب اس سے بڑھ کے طبیعت شناس کیا دے گا جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا وہ میرے اشک بجھائے گا کس طرح محسنؔ سمندروں کو وہ صحرا کی پیاس کیا دے گا





