ik to vaise hi udaasi ki ghaTaa chhaai hai
aur chheDoge to aansu bhi nikal sakte hain

Mukhtar Tilhari
Mukhtar Tilhari
Mukhtar Tilhari
Popular Shayari
16 totalaap mazlum ke ashkon se na khilvaaD karein
ye vo dariyaa hain jo shahron ko nigal sakte hain
raushni ke liye 'mukhtaar' jalaae the charaagh
kyaa khabar thi ki mire haath bhi jal sakte hain
aaj aisi vaadiyon se ho ke aaya huun jahaan
peD the nazdik lekin duur tak saaya na thaa
thakaa diyaa hai mujhe is qadar masaafat ne
safar ke naam se ab ruuh kaanp jaati hai
shiddat-e-pyaas ke ehsaas ko baDhne diije
eDiyon se kabhi chashme bhi ubal sakte hain
rahaa na kaam us ki justuju mein
idhar main khud se bhi gum ho gayaa huun
hamaare zehn pe us kaa asar to ab bhi hai
bichhaDne vaalaa sharik-e-safar to ab bhi hai
iraade phir bhi mustahkam bahut hain
miri raahon mein pech-o-kham bahut hain
miTaanaa chaahun to mumkin kahaan miTaa bhi sakun
vo ek baal jo aaina-e-khayaal mein hai
miri hansi ko sar-e-bazm sah liyaa us ne
phir us ke baa'd akele mein intiqaam liyaa
jis vaqt huaa karti hai bechain tabiat
us vaqt bayaabaan se lagte hain chaman bhi
Ghazalغزل
محبت کا دیا جل کر بجھا ایسے نہیں ہوتا تو جاری ظلمتوں کا سلسلہ ایسے نہیں ہوتا ہوئے ہو جیسے تم کوئی خفا ایسے نہیں ہوتا کوئی بھی زندگی بھر کو جدا ایسے نہیں ہوتا لہو کا رنگ بھرنا پڑتا ہے لفظوں کے خاکوں میں مکمل قصۂ عہد وفا ایسے نہیں ہوتا بغیر اخلاص کے کیوں بہر سجدہ سر جھکاتا ہے اے زاہد بندگی کا حق ادا ایسے نہیں ہوتا مزاجوں میں نہ جب تک نرم گوشے کار فرما ہوں دلوں کا فاصلہ دیکھو فنا ایسے نہیں ہوتا نہ جب تک خون کے چھینٹے لگائے جائیں گلشن میں کسی بھی شاخ پر پتا ہرا ایسے نہیں ہوتا مرے سینے میں تیرے لمس کی ٹھنڈک نہ آ جاتی میں تنہائی کی آتش میں جلا ایسے نہیں ہوتا بہت دامن بچا کر جھاڑیوں میں چلنا پڑتا ہے گلوں تک جانے کا طے راستہ ایسے نہیں ہوتا مری میت پہ آ کر مسکرانا بھی ضروری ہے مرے قاتل حساب خوں بہا ایسے نہیں ہوتا سر محفل نظر ان کی نہ اے مختارؔ پڑ جاتی تو میری سمت کوئی دیکھتا ایسے نہیں ہوتا
mohabbat kaa diyaa jal kar bujhaa aise nahin hotaa
سوچ لیجے کف افسوس بھی مل سکتے ہیں آپ چلنے کو مرے ساتھ میں چل سکتے ہیں جادۂ عشق پہ چلنا ہے تو پھر دیر نہ کر سوچنے سے ترے جذبات بدل سکتے ہیں شدت پیاس کے احساس کو بڑھنے دیجے ایڑیوں سے کبھی چشمے بھی ابل سکتے ہیں اک تو ویسے ہی اداسی کی گھٹا چھائی ہے اور چھیڑوگے تو آنسو بھی نکل سکتے ہیں آپ مظلوم کے اشکوں سے نہ کھلواڑ کریں یہ وہ دریا ہیں جو شہروں کو نگل سکتے ہیں اپنی یادوں کو مرے پاس نہ آنے دیجے ورنہ سوئے ہوئے ارمان مچل سکتے ہیں آپ ایسے نظر انداز ہمیں مت کیجے کھوٹے سکے کبھی بازار میں چل سکتے ہیں جن کو دیوانہ سمجھتے ہیں یہ دنیا والے ضد پہ آئیں تو یہ تقدیر بدل سکتے ہیں روشنی کے لئے مختارؔ جلائے تھے چراغ کیا خبر تھی کہ مرے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں
soch liije kaf-e-afsos bhi mal sakte hain
اس کی تعریف کرنا مشکل ہے ماہ کامل تو ماہ کامل ہے غم پہ بھی مسکرانے والوں میں شکر ہے میرا نام شامل ہے دل ہمارا جو مضطرب ہے آج یہ تمہارے غموں کا حاصل ہے اس کے رونے پہ اعتبار ہو کیا آنسوؤں میں فریب شامل ہے ہار مانی تھی جس نے کل مجھ سے آج پھر وہ مرے مقابل ہے آشنائی خدا سے کیسے ہو آج ہر شخص خود سے غافل ہے ان کے آنے سے قبل ہی مختارؔ قابل دید رنگ محفل ہے
us ki taarif karnaa mushkil hai
ہم کو تنہائی ہی تنہائی نظر آتی ہے جو تمہیں انجمن آرائی نظر آتی ہے اس لئے دل کے ہرے زخم ہوئے ہیں شاید چشم احساس کو پروائی نظر آتی ہے آپ کے شعر میں الفاظ تو جیسے ہوں مگر آپ کے شعر میں گہرائی نظر آتی ہے اس لئے اور بھی سنتا ہوں انہیں غور سے میں ان کی ہر بات میں گیرائی نظر آتی ہے میری حالت کے فقط آپ تماشائی نہیں ساری دنیا ہی تماشائی نظر آتی ہے وہ کھلی آنکھوں میں بینائی کہاں سے آئے بند آنکھوں میں جو بینائی نظر آتی ہے آپ محفل میں جو خاموش رہا کرتے ہیں اس میں بھی آپ کی دانائی نظر آتی ہے پہلے تنہائی بھی محفل کا مزہ دیتی تھی آج محفل میں بھی تنہائی نظر آتی ہے آپ کو شعر نظر آتے ہیں لیکن مختارؔ ہم کو یہ قافیہ پیمائی نظر آتی ہے
ham ko tanhaai hi tanhaai nazar aati hai
دل سوگوار دیدۂ تر کون دے گیا بے کیف زندگی کا سفر کون دے گیا شیشہ گری میں نام تمہارا بہت سنا پتھر تراشنے کا ہنر کون دے گیا خوابوں پہ اعتماد کئے جا رہا ہوں میں کمبخت یہ فریب نظر کون دے گیا دل جاگنے کی ضد پہ رہا رات بھر مگر آنکھوں کو نیند وقت سحر کون دے گیا دن رات جگمگاتے ہیں پلکوں پہ آج کل کیسے بتاؤں شمس و قمر کون دے گیا ان کے سوا دکھائی نہیں دیتا ہے کوئی میری نظر کو ایسی نظر کون دے گیا ہونٹوں پہ اب ہنسی نہیں آتی ہے مدتوں مختارؔ آنسوؤں کا اثر کون دے گیا
dil sogvaar dida-e-tar kaun de gayaa
بڑھا کر آنکھ کے تنکے کو بھی شہتیر کرتے ہیں چلو اچھا ہے کچھ تو وہ مری تشہیر کرتے ہیں جو الجھے ہیں انہیں وہ اور بھی گمبھیر کرتے ہیں مسائل حل نہیں کرتے ہیں بس تقریر کرتے ہیں سوا مایوسیوں کے کچھ انہیں حاصل نہیں ہوتا مٹانے کی ہمیں جو رات دن تدبیر کرتے ہیں ہمارے کون سے یہ کام آئے گی بتاؤ تو تمہارے نام آؤ دل کی ہم جاگیر کرتے ہیں نظر میں رقص کرتے ہیں بہت سے گمشدہ منظر تمہارا نام جب کاغذ پہ ہم تحریر کرتے ہیں مری آنکھوں میں ہی ذوق طلب کی کچھ کمی ہوگی وگرنہ جلوہ دکھلانے میں کیوں تاخیر کرتے ہیں چلو ساحل پہ چل کر دیکھتے ہیں داستان غم سنا ہے ڈوبنے والے بھی کچھ تحریر کرتے ہیں جنہیں پاس وفا مختار از حد راس آتا ہے وہی ایوان الفت خون سے تعمیر کرتے ہیں
baDhaa kar aankh ke tinke ko bhi shahtir karte hain





