SHAWORDS
Nadim Nadeem

Nadim Nadeem

Nadim Nadeem

Nadim Nadeem

poet
25Sher
25Shayari
19Ghazal

Sherشعر

See all 25

Popular Sher & Shayari

50 total

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

tumhaare jaane kaa ham ko malaal thoDi hai

تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے اداسیوں میں تمہارا خیال تھوڑی ہے مناؤں کس طرح ہولی میں دوستوں کے ساتھ ہیں سب کے ہاتھ میں خنجر گلال تھوڑی ہے مجھے یہ غم ہے وہ اب ساتھ ہے رقیبوں کے یہ آنکھ اس کے بچھڑنے سے لال تھوڑی ہے سوال یہ ہے ہوا آئی کس اشارے پر چراغ کس کے بجھے یہ سوال تھوڑی ہے کرم ہے اس کا اگر وہ نوازتا ہے ہمیں ہمارے سجدوں کا اس میں کمال تھوڑی ہے

غزل · Ghazal

mere kaandhon pe rahe karte rahe sunvaai

میرے کاندھوں پے رہے کرتے رہے سنوائی پر فرشتوں نے مری بات نہیں پہنچائی دوڑتی ہانپتی آئی تھی اداسی مجھ تک میرے سینے سے لگی اور ذرا سستائی زندگی تھک نہیں سکتی ہے کہ چلنا ہے اسے در بہ در گھومتی رہتی ہے مری ٹھکرائی آئنہ بس وہ دکھاتا ہے جو ہم چاہتے ہیں اور ہم کب ہی دکھاتے ہیں اسے سچائی دو خلا ایک برابر ہیں مرے سینہ میں جبکہ ممکن ہی نہیں ایک کی بھی بھرپائی رونے والو ذرا آواز کو نیچا رکھو کیا مزا آئے گا آواز اگر بھرائی ایک ہم خود کے ہیں اک گھر کے ہیں اک دنیا کے تم اگر پا بھی سکو گے تو ہمیں چوتھائی

غزل · Ghazal

baiThe hain sar-e-baam-e-falak zulf bikhere

بیٹھے ہیں سر بام فلک زلف بکھیرے جیسے کہ کہیں ڈالے ہوں بنجاروں نے ڈیرے اس درجہ نہ بد ظن ہو مری جان تو ہم سے ہم جو بھی ہیں جیسے بھی ہیں مہمان ہیں تیرے کیوں ہم سے ملے کوئی کہ ہوتے ہیں ہمیشہ سر سبز درختوں پے پرندوں کے بسیرے کچھ دن تو پھنسا کر رکھا میں نے اسے خود میں پھر ساتھ نہیں رہ سکی تنہائی بھی میرے ہم شہر تمنا سے اگر کوچ کریں تو آ آ کے تماشائی لگا لیتے ہیں گھیرے

غزل · Ghazal

dilon ke khel mein bhi kaam le liyaa dimaagh se

دلوں کے کھیل میں بھی کام لے لیا دماغ سے چرا لیا ہے پھول میں نے زندگی کے باغ سے وہ جانتا ہے خامشی سے راستے نکالنا سوال کیا کریں بھلا ہم ایسے خوش دماغ سے تمہاری چھاؤں پا کے دل کچھ اتنا مطمئن ہے اب نہ منزلوں سے کام ہے نہ راہ کے سراغ سے بکھیرتا ہے روشنی ردائے آسماں سے وہ ستارے جیسے اوڑھنی میں پڑ گئے ہوں داغ سے میں رنگ رنگ تھا اداسیوں کا کوئی قافلہ میں نور نور ہوں تمہارے عشق کے چراغ سے

غزل · Ghazal

misl-e-mahtaab khule jab vo ikahraa chehra

مثل مہتاب کھلے جب وہ اکہرا چہرہ دیکھنے والوں کا ہو جائے سنہرا چہرہ جسم کی کھینچوں لکیریں تو دھواں اٹھتا ہے اس کا کاغذ پے بنا پاتا ہوں چہرہ چہرہ نیلی آنکھوں سے دبے حلقے گلابی رخسار اس کا کیا ذکر کریں یار وہ ٹھہرا چہرہ اہل دانش کی صفوں میں کوئی ہم سا بھی نہ تھا کون پڑھ پاتا بھلا اس کا وہ گہرا چہرہ اے مرے دوست مرے ساتھ تری یادوں کی ریت اتنی ہے ہوا جاتا ہے صحرا چہرہ

غزل · Ghazal

bhar bhar ke kulaanchein ye chale chaal hiran ki

بھر بھر کے کلانچیں یہ چلے چال ہرن کی اس من کو بھی لگ جائے ہوا گر ترے بن کی اک رات کی دیوی کے پرستار ہیں ہم لوگ دیتی ہے مثالیں جو ترے سانولے پن کی کیا رنگ تھا کیا روپ تھا کیا اس کے خد و خال خوشبو بھی نہیں یاد ہمیں اب تو سمن کی اک آنکھ جسے دیکھنا اچھا نہیں لگتا اک دل کی ضرورت ہی نہیں جس کو بدن کی اب اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں آگے ترے ہر بات اگل دیتے تھے من کی مجرم ہے کوئی پاؤں پٹکتا ہے جگر میں سینہ میں جو ہر سانس پے زنجیر سی کھنکی

Similar Poets