SHAWORDS
Nasir Kazmi

Nasir Kazmi

Nasir Kazmi

Nasir Kazmi

poet
89Shayari
55Ghazal
1Quotes

Popular Shayari & Quotes

90 total

Ghazalغزل

See all 55
غزل · Ghazal

تجھ بن گھر کتنا سونا تھا دیواروں سے ڈر لگتا تھا بھولی نہیں وہ شام جدائی میں اس روز بہت رویا تھا تجھ کو جانے کی جلدی تھی اور میں تجھ کو روک رہا تھا میری آنکھیں بھی روتی تھیں شام کا تارا بھی روتا تھا گلیاں شام سے بجھی بجھی تھیں چاند بھی جلدی ڈوب گیا تھا سناٹے میں جیسے کوئی دور سے آوازیں دیتا تھا یادوں کی سیڑھی سے ناصرؔ رات اک سایا سا اترا تھا

tujh bin ghar kitnaa suunaa thaa

غزل · Ghazal

مسلسل بیکلی دل کو رہی ہے مگر جینے کی صورت تو رہی ہے میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا یہ بستی چین سے کیوں سو رہی ہے چلے دل سے امیدوں کے مسافر یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے نہ سمجھو تم اسے شور بہاراں خزاں پتوں میں چھپ کر رو رہی ہے ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ اداسی بال کھولے سو رہی ہے

musalsal bekali dil ko rahi hai

غزل · Ghazal

یہ ستم اور کہ ہم پھول کہیں خاروں کو اس سے تو آگ ہی لگ جائے سمن زاروں کو ہے عبث فکر تلافی تجھے اے جان وفا دھن ہے اب اور ہی کچھ تیرے طلب گاروں کو تن تنہا ہی گزاری ہیں اندھیری راتیں ہم نے گھبرا کے پکارا نہ کبھی تاروں کو ناگہاں پھوٹ پڑے روشنیوں کے جھرنے ایک جھونکا ہی اڑا لے گیا اندھیاروں کو سارے اس دور کی منہ بولتی تصویریں ہیں کوئی دیکھے مرے دیوان کے کرداروں کو نالۂ آخر شب کس کو سناؤں ناصرؔ نیند پیاری ہے مرے دور کے فنکاروں کو

ye sitam aur ki ham phuul kahein khaaron ko

غزل · Ghazal

غم ہے یا خوشی ہے تو میری زندگی ہے تو آفتوں کے دور میں چین کی گھڑی ہے تو میری رات کا چراغ میری نیند بھی ہے تو میں خزاں کی شام ہوں رت بہار کی ہے تو دوستوں کے درمیاں وجہ دوستی ہے تو میری ساری عمر میں ایک ہی کمی ہے تو میں تو وہ نہیں رہا ہاں مگر وہی ہے تو ناصرؔ اس دیار میں کتنا اجنبی ہے تو

gham hai yaa khushi hai tu

غزل · Ghazal

شبنم آلود پلک یاد آئی گل عارض کی جھلک یاد آئی پھر سلگنے لگے یادوں کے کھنڈر پھر کوئی تاک خنک یاد آئی کبھی زلفوں کی گھٹا نے گھیرا کبھی آنکھوں کی چمک یاد آئی پھر کسی دھیان نے ڈیرے ڈالے کوئی آوارہ مہک یاد آئی پھر کوئی نغمہ گلو گیر ہوا کوئی بے نام کسک یاد آئی ذرے پھر مائل رم ہیں ناصرؔ پھر انہیں سیر فلک یاد آئی

shabnam-aalud palak yaad aai

غزل · Ghazal

روتے روتے کون ہنسا تھا بارش میں سورج نکلا تھا چلتے ہوئے آندھی آئی تھی رستے میں بادل برسا تھا ہم جب قصبے میں اترے تھے سورج کب کا ڈوب چکا تھا کبھی کبھی بجلی ہنستی تھی کہیں کہیں چھینٹا پڑتا تھا تیرے ساتھ ترے ہم راہی میرے ساتھ مرا رستہ تھا رنج تو ہے لیکن یہ خوشی ہے اب کے سفر ترے ساتھ کیا تھا

rote rote kaun hansaa thaa

Similar Poets