SHAWORDS
Nomaan Shauque

Nomaan Shauque

Nomaan Shauque

Nomaan Shauque

poet
87Shayari
73Ghazal

Popular Shayari

87 total

Ghazalغزل

See all 73
غزل · Ghazal

رات لمبی تھی ستارہ مرا تعجیل میں تھا جس کو جلنا نہیں آیا وہی قندیل میں تھا اک جہاں اور پس کار جہاں تھا باقی اک بدن اور مرے عشق کی تکمیل میں تھا پھر سیاہی نے سمیٹا مرا سامان آ کر کل اثاثہ مرا اک شام کی زنبیل میں تھا ایک لرزہ تھا ستاروں کے بدن پر طاری میں تو ڈوبا ہوا اک حسن کی تفصیل میں تھا اب تو ہر چہرہ اسے زرد دکھائی دے گا دیر تک آئینہ بیمار کی تحویل میں تھا جو ملا وہ بڑی عجلت میں ملا تھا مجھ سے اور میں گویا ہمیشہ سے ہی تعطیل میں تھا

raat lambi thi sitaara miraa taajil mein thaa

غزل · Ghazal

برسوں پرانے زخم کو بے کار کر دیا ہم نے ترا جواب بھی تیار کر دیا طوق بدن اتار کے پھینکا زمیں سے دور دنیا کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا خود ہی دکھائے خواب بھی توسیع شہر کے جنگل کو خود ہی چیخ کے ہشیار کر دیا جمہوریت کے بیچ پھنسی اقلیت تھا دل موقعہ جسے جدھر سے ملا وار کر دیا آئے تھے کچھ ستارے تری روشنی کے ساتھ ہم اپنے ہی نشے میں تھے انکار کر دیا وہ نیند تھی کہ موت مجھے کچھ پتہ نہیں گہرے گھنے سکوت نے بیدار کر دیا ہم آئینے کے سامنے آئے تو رو پڑے اس نے سجا سنوار کے بے کار کر دیا

barson puraane zakhm ko be-kaar kar diyaa

غزل · Ghazal

ایک آیت پڑھ کے اپنے آپ پر دم کر دیا ہم نے ہر چہرے کی جانب دیکھنا کم کر دیا احتراماً اس کے قدموں میں جھکا نادان میں اس نے میرا قد ہمیشہ کے لیے کم کر دیا مجھ سے اوروں کی جدائی بھی سہی جاتی نہیں میں نے دو بھیگی ہوئی پلکوں کو باہم کر دیا کھل رہے ہیں مجھ میں دنیا کے سبھی نایاب پھول اتنی سرکش خاک کو کس ابر نے نم کر دیا کر رہے تھے عشق میں سود و زیاں کا وہ حساب ان کے تخمینے نے میرا درد بھی کم کر دیا ساتھ جتنی دیر رہ لوں کون سا کھلتا ہے وہ اس نے دانستہ مرے شعروں کو مبہم کر دیا

ek aayat paDh ke apne-aap par dam kar diyaa

غزل · Ghazal

آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم کس گماں میں ہیں ترے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم توڑ ڈالیں گے کسی دن گھنے جنگل کا غرور لکڑیاں چنتے ہوئے آگ جلاتے ہوئے ہم تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم خود کو یاد آتے ہی بے ساختہ ہنس پڑتے ہیں کبھی خط تو کبھی تصویر جلاتے ہوئے ہم

aasmaanon se zamin ki taraf aate hue ham

غزل · Ghazal

اک آن میں ہوئی اوجھل زمیں نگاہوں سے کوئی پکارنے والا نہیں نگاہوں سے خدا گناہ کی لذت کو برقرار رکھے نہ دیکھ ایسے مجھے خشمگیں نگاہوں سے غزل کے حسن کو درکار ناظرین نہیں زیادہ کام نہ لیں سامعیں نگاہوں سے تمام پھول مجھے رنگ سے لبھاتے تھے تمام روشنیاں یاد تھیں نگاہوں سے شروع عشق میں کم پڑ گئے تھے جب الفاظ کئی زبانیں تراشی گئیں نگاہوں سے میں آسمان پہ تھا تم کو یاد تو ہوگا مجھے اتارا گیا بعد ازیں نگاہوں سے مرے وہ شعر بھی آئے پسند اس کو واہ چھپا رکھا تھا جنہیں نکتہ بیں نگاہوں سے

ik aan mein hui ojhal zamin nigaahon se

غزل · Ghazal

ضرور بھول ہوئی ہے کہیں سنانے میں یہ واقعہ تو کہیں بھی نہ تھا فسانے میں مرے لیے ہی ہوا اہتمام جشن مگر جگہ نہ مل سکی مجھ کو ہی شامیانے میں فریفتہ ہے ہر اک شخص اپنی صورت پر میں آ گیا ہوں یہ کیسے فریب خانے میں اندھیرے اور گھنے حد سے بھی گھنے ہوں گے وہ چوک اب کے ہوئی ہے دیا جلانے میں بڑے گھروں میں رہی ہے بہت زمانہ تک خوشی کا جی نہیں لگتا غریب خانے میں

zarur bhuul hui hai kahin sunaane mein

Similar Poets