sair-e-duniyaa ko jaate ho jaao
hai koi shahr mere dil jaisaa

Nomaan Shauque
Nomaan Shauque
Nomaan Shauque
Popular Shayari
87 totalham jaison ne jaan ganvaai paagal the
duniyaa jaisi kal thi bilkul vaisi hai
ek din donon ne apni haar maani ek saath
ek din jis se jhagaDte the usi ke ho gae
din ko rukhsat kiyaa bahaane se
raat thi vo mire sitaare ki
puchho ki us ke zehn mein naqsha bhi hai koi
jis ne bhare jahaan ko zer-o-zabar kiyaa
rok do ye raushni ki tez dhaar
meri miTTi mein gundhi hai raat bhi
aap ki saada-dili se tang aa jaataa huun main
mere dil mein rah chuke hain is qadar hushyaar log
tum to sardi ki hasin dhuup kaa chehra ho jise
dekhte rahte hain divaar se jaate hue ham
vo mere lams se mahtaab ban chukaa hotaa
magar milaa bhi to jugnu pakaDne vaalon ko
main apne saae mein baiThaa thaa kitni sadiyon se
tumhaari dhuup ne divaar toD di meri
rail dekhi hai kabhi siine pe chalne vaali
yaad to honge tujhe haath hilaate hue ham
chaahtaa huun main tashaddud chhoDnaa
khat hi likhte hain javaabi log sab
Ghazalغزل
رات لمبی تھی ستارہ مرا تعجیل میں تھا جس کو جلنا نہیں آیا وہی قندیل میں تھا اک جہاں اور پس کار جہاں تھا باقی اک بدن اور مرے عشق کی تکمیل میں تھا پھر سیاہی نے سمیٹا مرا سامان آ کر کل اثاثہ مرا اک شام کی زنبیل میں تھا ایک لرزہ تھا ستاروں کے بدن پر طاری میں تو ڈوبا ہوا اک حسن کی تفصیل میں تھا اب تو ہر چہرہ اسے زرد دکھائی دے گا دیر تک آئینہ بیمار کی تحویل میں تھا جو ملا وہ بڑی عجلت میں ملا تھا مجھ سے اور میں گویا ہمیشہ سے ہی تعطیل میں تھا
raat lambi thi sitaara miraa taajil mein thaa
برسوں پرانے زخم کو بے کار کر دیا ہم نے ترا جواب بھی تیار کر دیا طوق بدن اتار کے پھینکا زمیں سے دور دنیا کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا خود ہی دکھائے خواب بھی توسیع شہر کے جنگل کو خود ہی چیخ کے ہشیار کر دیا جمہوریت کے بیچ پھنسی اقلیت تھا دل موقعہ جسے جدھر سے ملا وار کر دیا آئے تھے کچھ ستارے تری روشنی کے ساتھ ہم اپنے ہی نشے میں تھے انکار کر دیا وہ نیند تھی کہ موت مجھے کچھ پتہ نہیں گہرے گھنے سکوت نے بیدار کر دیا ہم آئینے کے سامنے آئے تو رو پڑے اس نے سجا سنوار کے بے کار کر دیا
barson puraane zakhm ko be-kaar kar diyaa
ایک آیت پڑھ کے اپنے آپ پر دم کر دیا ہم نے ہر چہرے کی جانب دیکھنا کم کر دیا احتراماً اس کے قدموں میں جھکا نادان میں اس نے میرا قد ہمیشہ کے لیے کم کر دیا مجھ سے اوروں کی جدائی بھی سہی جاتی نہیں میں نے دو بھیگی ہوئی پلکوں کو باہم کر دیا کھل رہے ہیں مجھ میں دنیا کے سبھی نایاب پھول اتنی سرکش خاک کو کس ابر نے نم کر دیا کر رہے تھے عشق میں سود و زیاں کا وہ حساب ان کے تخمینے نے میرا درد بھی کم کر دیا ساتھ جتنی دیر رہ لوں کون سا کھلتا ہے وہ اس نے دانستہ مرے شعروں کو مبہم کر دیا
ek aayat paDh ke apne-aap par dam kar diyaa
آسمانوں سے زمیں کی طرف آتے ہوئے ہم ایک مجمع کے لیے شعر سناتے ہوئے ہم کس گماں میں ہیں ترے شہر کے بھٹکے ہوئے لوگ دیکھنے والے پلٹ کر نہیں جاتے ہوئے ہم کیسی جنت کے طلب گار ہیں تو جانتا ہے تیری لکھی ہوئی دنیا کو مٹاتے ہوئے ہم ریل دیکھی ہے کبھی سینے پہ چلنے والی یاد تو ہوں گے تجھے ہاتھ ہلاتے ہوئے ہم توڑ ڈالیں گے کسی دن گھنے جنگل کا غرور لکڑیاں چنتے ہوئے آگ جلاتے ہوئے ہم تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسے دیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم خود کو یاد آتے ہی بے ساختہ ہنس پڑتے ہیں کبھی خط تو کبھی تصویر جلاتے ہوئے ہم
aasmaanon se zamin ki taraf aate hue ham
اک آن میں ہوئی اوجھل زمیں نگاہوں سے کوئی پکارنے والا نہیں نگاہوں سے خدا گناہ کی لذت کو برقرار رکھے نہ دیکھ ایسے مجھے خشمگیں نگاہوں سے غزل کے حسن کو درکار ناظرین نہیں زیادہ کام نہ لیں سامعیں نگاہوں سے تمام پھول مجھے رنگ سے لبھاتے تھے تمام روشنیاں یاد تھیں نگاہوں سے شروع عشق میں کم پڑ گئے تھے جب الفاظ کئی زبانیں تراشی گئیں نگاہوں سے میں آسمان پہ تھا تم کو یاد تو ہوگا مجھے اتارا گیا بعد ازیں نگاہوں سے مرے وہ شعر بھی آئے پسند اس کو واہ چھپا رکھا تھا جنہیں نکتہ بیں نگاہوں سے
ik aan mein hui ojhal zamin nigaahon se
ضرور بھول ہوئی ہے کہیں سنانے میں یہ واقعہ تو کہیں بھی نہ تھا فسانے میں مرے لیے ہی ہوا اہتمام جشن مگر جگہ نہ مل سکی مجھ کو ہی شامیانے میں فریفتہ ہے ہر اک شخص اپنی صورت پر میں آ گیا ہوں یہ کیسے فریب خانے میں اندھیرے اور گھنے حد سے بھی گھنے ہوں گے وہ چوک اب کے ہوئی ہے دیا جلانے میں بڑے گھروں میں رہی ہے بہت زمانہ تک خوشی کا جی نہیں لگتا غریب خانے میں
zarur bhuul hui hai kahin sunaane mein





