SHAWORDS
Riyaz Khairabadi

Riyaz Khairabadi

रियाज़ ख़ैराबादी

ریاضؔ خیرآبادی

poet
112Sher
112Shayari
100Ghazal
2.1KViews

Sherشعر

See all 112

Popular Sher & Shayari

224 total

Ghazalغزل

See all 100
غزل · Ghazal

nayaa khilaa hai shagufa koi bahaar mein kyaa

نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیا گندھا ہوا ہے مرا دل کسی کے ہار میں کیا اڑانے پھول حسیں آئے ہیں بہار میں کیا لگی ہے آگ سی یہ آج لالہ زار میں کیا کسی سے کہنے یہ آئے ہیں وہ سحر ہوتے تمام رات کٹی میرے انتظار میں کیا تمہارے خال کا بوسہ نہیں ہے گنتی میں ذرا سی چیز ہے آئے گی یہ شمار میں کیا اتار لی سر بازار جس نے رخ سے نقاب حجاب آئے اسے سو میں کیا ہزار میں کیا یہ سرمہ چشم عدو کے لئے اٹھا رکھیں وہ خاک ڈالتے ہیں چشم اعتبار میں کیا بنائیں گے دل پر داغ جمع کر کے انہیں چمکتے دیکھے ہیں ذرے مرے غبار میں کیا یہ میرے دوش سے ہوتے نہیں جدا دم نزع گڑیں گے میرے فرشتے مرے مزار میں کیا ہے انتظار کہ مے نوش خم لئے پہنچیں گھری ہیں کل سے گھٹائیں یہ سبزہ زار میں کیا جو دیکھے سانپ کے کاٹے کی لہر اسے آئے بھرا ہے زہر اب ایسا بھی زلف یار میں کیا شراب سے بھی سوا خوش گوار ہے ہم کو بتائیں کیا کہ مزا پڑ گیا ادھار میں کیا کنار‌ شوق میں آ کر حسیں نکل نہ سکے اثر خدا نے دیا ہے ہمارے پیار میں کیا ریاضؔ توبہ کرو دن خزاں کے آئے ہیں تم آئے پینے کو جاتی ہوئی بہار میں کیا

غزل · Ghazal

ku-e-dushman se use chhup ke nikalte dekhaa

کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھا ہم نے نقش قدم یار کو چلتے دیکھا ہائے کیا حال دم وصل ہمارا ہوگا بوسہ لینے میں تمہیں رنگ بدلتے دیکھا ابر بن کر جو برس پڑنے کو آیا واعظ بے طرح ہم نے خم مے کو ابلتے دیکھا یہ بھی پینا ہے کوئی چال ہے یہ بھی کوئی ہر قدم پر انہیں سو بار سنبھلتے دیکھا یہی آنکھیں ہیں کہ جن میں نہیں اب نام کو اشک انہیں آنکھوں سے کبھی خون ابلتے دیکھا حشر کے روز نہ تاب ابر کرم کو آئی مجھ گنہ گار کو جب دھوپ میں جلتے دیکھا گیسوئے حور کہو سبزۂ تربت کیسا قبر دشمن سے دھواں ہم نے نکلتے دیکھا کوچۂ عشق میں اللہ رے پا مردیٔ دل ٹھوکریں کھا کے اسے ہم نے سنبھلتے دیکھا غیر کے گھر سے جھجکتے ہوئے تم نکلے تھے رکتے دیکھا تمہیں پھر چھپ کے نکلتے دیکھا دل میں کیا جان تھی کیا قطرۂ خوں کی تھی بساط ملتے دیکھا اسے ہاتھوں سے مسلتے دیکھا پھول لالے کا کھلا تھا کہ شفق شام کی تھی وصل کی رات کو بھی رنگ بدلتے دیکھا کبھی کچھ رات گئے یا کبھی کچھ رات رہے ہم نے ان پردہ نشینوں کو نکلتے دیکھا خون دل پر ہے عبث رشک تری مہندی کو اپنی ہی آگ میں ہم نے اسے جلتے دیکھا دل بیتاب تھا یا آگ کی چنگاری تھی کس قدر جلد انہیں پاپوش سے ملتے دیکھا واہ کیا رنگ ہے کیا خوب طبیعت ہے ریاضؔ ہو زمیں کوئی تمہیں پھولتے پھلتے دیکھا

غزل · Ghazal

zarur paanv mein apne hinaa vo mal ke chale

ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے نہ پہنچے آج بھی گھر تک مرے وہ کل کے چلے یہ دوستی ہے کہ ہے ساتھ آگ پانی کا جو نکلی آہ تو ساتھ اشک بھی نکل کے چلے لحد سے لائی قیامت ہے پاؤں پڑ پڑ کر ٹھہر ٹھہر کے چلے ہم مچل مچل کے چلے ہزاروں ٹھوکریں ہر اک قدم پر اس میں ہیں یہ راہ عشق ہے کیوں کر کوئی سنبھل کے چلے یہ مجھ کو وصل کی شب ہائے موت کیوں آئی حنا لگا کے جو آئے تھے ہاتھ مل کے چلے تمہاری راہ میں چلنے کی ہے خوشی ایسی کہ ساتھ نقش قدم بھی اچھل اچھل کے چلے مزا تو آئے جو لیں رند بڑھ کے ہاتھوں ہاتھ مزا تو آئے کہیں سے جو مے ابل کے چلے ادا سے ناز سے چلنا قیامت ان کا تھا جو مل کے دل کو کلیجے مسل مسل کے چلے چلے وہ شمع جلانے مزار پر کس کے کہ ساتھ ساتھ عدو آگ ہو کے جل کے چلے تمہارے گیسو پرپیچ نے لیا ہم کو کہ منہ میں سانپ کے یا منہ میں ہم اجل کے چلے اٹھا جنازہ تو بولی یہ خانہ‌ بربادی نیا مکان ہے کپڑے نئے بدل کے چلے ہزاروں داغ ہیں دل میں جگر میں لاکھوں زخم ریاضؔ محفل خوباں سے پھول پھل کے چلے

غزل · Ghazal

baalaa-e-baam ghair hai mein aastaan par

بالائے بام غیر ہے میں آستان پر چاہیں جسے چڑھائیں حضور آسمان پر کیوں نامراد آہ گئی آسمان پر ٹوٹے نہ آسمان کہیں میری جان پر رسوائیاں ہیں ساتھ وہ چھپ کر ہزار جان سو سو کے سر جھکے ہیں قدم کے نشان پر آنا اسے ضرور گو ہوں لاکھ اہتمام عاشق ہے ان کی نیند مری داستان پر تھا راز دار حسن وہ کافر جو کہہ گیا معشوق دل کی بات نہ لائیں زبان پر ان کی گلی میں رات میں اس وضع سے گیا گھبرا کے پاسبان گرے پاسبان پر نازک سی تیغ یار ہے کیا زہر کی بجھی کھائے ہوئے ہے زہر مرے امتحان پر بنتے ہیں شوخیوں سے وہ سورج بھی چاند بھی نقش قدم بھی آپ کے ہیں آسمان پر خلوت میں بھی چلی ہیں کہیں سینہ زوریاں اس طرح آپ تن کے اٹھے کس گمان پر ذکر مے طہور نے تڑپا دیا ریاضؔ جانا پڑا ہمیں کسی اونچی دکان پر

غزل · Ghazal

zamin mai-kada-e-arsh-e-barin maalum hoti hai

زمین مے کدۂ عرش بریں معلوم ہوتی ہے یہ خشت خم فرشتے کی جبیں معلوم ہوتی ہے پری اڑنے میں زلف عنبریں معلوم ہوتی ہے یہ کالی شکل بھی کتنی حسیں معلوم ہوتی ہے مری حسرت تبسم آفریں معلوم ہوتی ہے چھپی تیرے تبسم میں نہیں معلوم ہوتی ہے شفق کہہ لے کوئی چاہے شفق گوں آسماں کہہ لے ہمیں تو کوئے قاتل کی زمیں معلوم ہوتی ہے چلی ہے تیغ تو کس ناز سے تھم تھم کے رک رک کر یہ کچھ ان سے زیادہ نازنیں معلوم ہوتی ہے ارے ساقی ذرا میری شراب‌ تلخ تو لانا مئے کوثر تو بالکل انگبیں معلوم ہوتی ہے چھپی ہے وہ نگاہ شوخ بھی مژگاں کے سائے میں چھری بھی آج زیر آستیں معلوم ہوتی ہے ابھارو تو ذرا شاید مرا ڈوبا ہوا دل ہو کوئی شے بحر غم میں تہہ نشیں معلوم ہوتی ہے نہیں اب درد دل لیکن ابھی تک ہے اثر کچھ کچھ چمک رہ رہ کے پہلو میں کہیں معلوم ہوتی ہے اثر ڈالا ہے حسرت نے نگاہ شوق پر کتنا کہ وہ اب بھی نگاہ واپسیں معلوم ہوتی ہے یہ اے صیاد رہ رہ کر چمکتی ہے کہاں بجلی جہاں میرا نشیمن تھا وہیں معلوم ہوتی ہے لپک اس کی چمک اس کی وہی دم خم وہی عالم یہ بجلی کوئی آہ آتشیں معلوم ہوتی ہے ریاضؔ ایسی مرے دل سے لگی ہے جام کوثر کی مے انگور اب اچھی نہیں معلوم ہوتی ہے

غزل · Ghazal

is ishq-e-junun-khez mein kyaa kyaa nahin hotaa

اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا دیوانہ ہے جو قیس سے لیلیٰ نہیں ہوتا کچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتا آئے ہو تو ٹھہرو کوئی زندہ نہیں ہوتا کیوں کر یہ کہوں حسن کا نشہ نہیں ہوتا ہوتا تو بہت ہے مگر اتنا نہیں ہوتا کچھ کہئے تو شرما کے جھکا لیتے ہیں گردن بھولے سے بھی اب وعدۂ فردا نہیں ہوتا ملتے ہیں وہ دل سرخ ہوئی جاتی ہے چٹکی نازک ہیں بہت خون تمنا نہیں ہوتا دیتی ہے مزا مے کا ہمیں تلخئ‌ توبہ جب ہاتھ میں پیمانۂ صہبا نہیں ہوتا وہ حشر کے دن کشتے کو ٹھکرا چکے سو بار کچھ جان سی پڑ جاتی ہے زندہ نہیں ہوتا بولی یہ تمنا جو رکے وہ در دل پر گھر آپ کا ہے آپ سے پردا نہیں ہوتا تیروں کو جگہ دیتے ہیں جو سینے میں اپنے ان لوگوں کے اے جان کلیجہ نہیں ہوتا صحرا سے قدم گھر کی طرف خاک اٹھاؤں کانٹے سے جدا پاؤں کا چھالا نہیں ہوتا بیٹھے نظر آتے ہیں وہی تیری گلی میں جن کا کہیں دنیا میں ٹھکانا نہیں ہوتا فرقت میں ہے کیوں نزع کی تکلیف گوارا مر جائیں ریاضؔ آپ سے اتنا نہیں ہوتا

Similar Poets