"kya shakl hai vasl men kisi ki tasvir hain apni bebasi ki"

Riyaz Khairabadi
रियाज़ ख़ैराबादी
ریاضؔ خیرآبادی
Sherشعر
See all 112 →kya shakl hai vasl men kisi ki
کیا شکل ہے وصل میں کسی کی تصویر ہیں اپنی بے بسی کی
khuda abad rakkhe mai-kade ko
خدا آباد رکھے میکدے کو بہت سستے چھٹے دنیا و دیں سے
pi ke ai vaa.iz nadamat hai mujhe
پی کے اے واعظ ندامت ہے مجھے پانی پانی ہوں تری تقریر سے
ham jam-e-mai ke bhi lab-e-tar chuste nahin
ہم جام مے کے بھی لب تر چوستے نہیں چسکا پڑا ہوا ہے تمہاری زبان کا
vo joban bahut sar uTha.e hue hain
وہ جوبن بہت سر اٹھائے ہوئے ہیں بہت تنگ بند قبا ہے کسی کا
gham mujhe dete ho auron ki khushi ke vaste
غم مجھے دیتے ہو اوروں کی خوشی کے واسطے کیوں برے بنتے ہو تم ناحق کسی کے واسطے
Popular Sher & Shayari
224 total"khuda abad rakkhe mai-kade ko bahut saste chhuTe duniya-o-din se"
"pi ke ai vaa.iz nadamat hai mujhe paani paani huun tiri taqrir se"
"ham jam-e-mai ke bhi lab-e-tar chuste nahin chaska paDa hua hai tumhari zaban ka"
"vo joban bahut sar uTha.e hue hain bahut tang band-e-qaba hai kisi ka"
"gham mujhe dete ho auron ki khushi ke vaste kyuun bure bante ho tum nahaq kisi ke vaste"
muflison ki zindagi kaa zikr kyaa
muflisi ki maut bhi achchhi nahin
zaraa jo ham ne unhein aaj mehrbaan dekhaa
na ham se puchhiye kyaa rang-e-aasmaan dekhaa
aisi hi intizaar mein lazzat agar na ho
to do ghaDi firaaq mein apni basar na ho
kyaa mazaa deti hai bijli ki chamak mujh ko 'riyaaz'
mujh se lipTe hain mire naam se Darne vaale
gham mujhe dete ho auron ki khushi ke vaaste
kyuun bure bante ho tum naahaq kisi ke vaaste
vasl ki raat ke sivaa koi shaam
saath le kar sahar nahin aati
Ghazalغزل
nayaa khilaa hai shagufa koi bahaar mein kyaa
نیا کھلا ہے شگوفہ کوئی بہار میں کیا گندھا ہوا ہے مرا دل کسی کے ہار میں کیا اڑانے پھول حسیں آئے ہیں بہار میں کیا لگی ہے آگ سی یہ آج لالہ زار میں کیا کسی سے کہنے یہ آئے ہیں وہ سحر ہوتے تمام رات کٹی میرے انتظار میں کیا تمہارے خال کا بوسہ نہیں ہے گنتی میں ذرا سی چیز ہے آئے گی یہ شمار میں کیا اتار لی سر بازار جس نے رخ سے نقاب حجاب آئے اسے سو میں کیا ہزار میں کیا یہ سرمہ چشم عدو کے لئے اٹھا رکھیں وہ خاک ڈالتے ہیں چشم اعتبار میں کیا بنائیں گے دل پر داغ جمع کر کے انہیں چمکتے دیکھے ہیں ذرے مرے غبار میں کیا یہ میرے دوش سے ہوتے نہیں جدا دم نزع گڑیں گے میرے فرشتے مرے مزار میں کیا ہے انتظار کہ مے نوش خم لئے پہنچیں گھری ہیں کل سے گھٹائیں یہ سبزہ زار میں کیا جو دیکھے سانپ کے کاٹے کی لہر اسے آئے بھرا ہے زہر اب ایسا بھی زلف یار میں کیا شراب سے بھی سوا خوش گوار ہے ہم کو بتائیں کیا کہ مزا پڑ گیا ادھار میں کیا کنار شوق میں آ کر حسیں نکل نہ سکے اثر خدا نے دیا ہے ہمارے پیار میں کیا ریاضؔ توبہ کرو دن خزاں کے آئے ہیں تم آئے پینے کو جاتی ہوئی بہار میں کیا
ku-e-dushman se use chhup ke nikalte dekhaa
کوئے دشمن سے اسے چھپ کے نکلتے دیکھا ہم نے نقش قدم یار کو چلتے دیکھا ہائے کیا حال دم وصل ہمارا ہوگا بوسہ لینے میں تمہیں رنگ بدلتے دیکھا ابر بن کر جو برس پڑنے کو آیا واعظ بے طرح ہم نے خم مے کو ابلتے دیکھا یہ بھی پینا ہے کوئی چال ہے یہ بھی کوئی ہر قدم پر انہیں سو بار سنبھلتے دیکھا یہی آنکھیں ہیں کہ جن میں نہیں اب نام کو اشک انہیں آنکھوں سے کبھی خون ابلتے دیکھا حشر کے روز نہ تاب ابر کرم کو آئی مجھ گنہ گار کو جب دھوپ میں جلتے دیکھا گیسوئے حور کہو سبزۂ تربت کیسا قبر دشمن سے دھواں ہم نے نکلتے دیکھا کوچۂ عشق میں اللہ رے پا مردیٔ دل ٹھوکریں کھا کے اسے ہم نے سنبھلتے دیکھا غیر کے گھر سے جھجکتے ہوئے تم نکلے تھے رکتے دیکھا تمہیں پھر چھپ کے نکلتے دیکھا دل میں کیا جان تھی کیا قطرۂ خوں کی تھی بساط ملتے دیکھا اسے ہاتھوں سے مسلتے دیکھا پھول لالے کا کھلا تھا کہ شفق شام کی تھی وصل کی رات کو بھی رنگ بدلتے دیکھا کبھی کچھ رات گئے یا کبھی کچھ رات رہے ہم نے ان پردہ نشینوں کو نکلتے دیکھا خون دل پر ہے عبث رشک تری مہندی کو اپنی ہی آگ میں ہم نے اسے جلتے دیکھا دل بیتاب تھا یا آگ کی چنگاری تھی کس قدر جلد انہیں پاپوش سے ملتے دیکھا واہ کیا رنگ ہے کیا خوب طبیعت ہے ریاضؔ ہو زمیں کوئی تمہیں پھولتے پھلتے دیکھا
zarur paanv mein apne hinaa vo mal ke chale
ضرور پاؤں میں اپنے حنا وہ مل کے چلے نہ پہنچے آج بھی گھر تک مرے وہ کل کے چلے یہ دوستی ہے کہ ہے ساتھ آگ پانی کا جو نکلی آہ تو ساتھ اشک بھی نکل کے چلے لحد سے لائی قیامت ہے پاؤں پڑ پڑ کر ٹھہر ٹھہر کے چلے ہم مچل مچل کے چلے ہزاروں ٹھوکریں ہر اک قدم پر اس میں ہیں یہ راہ عشق ہے کیوں کر کوئی سنبھل کے چلے یہ مجھ کو وصل کی شب ہائے موت کیوں آئی حنا لگا کے جو آئے تھے ہاتھ مل کے چلے تمہاری راہ میں چلنے کی ہے خوشی ایسی کہ ساتھ نقش قدم بھی اچھل اچھل کے چلے مزا تو آئے جو لیں رند بڑھ کے ہاتھوں ہاتھ مزا تو آئے کہیں سے جو مے ابل کے چلے ادا سے ناز سے چلنا قیامت ان کا تھا جو مل کے دل کو کلیجے مسل مسل کے چلے چلے وہ شمع جلانے مزار پر کس کے کہ ساتھ ساتھ عدو آگ ہو کے جل کے چلے تمہارے گیسو پرپیچ نے لیا ہم کو کہ منہ میں سانپ کے یا منہ میں ہم اجل کے چلے اٹھا جنازہ تو بولی یہ خانہ بربادی نیا مکان ہے کپڑے نئے بدل کے چلے ہزاروں داغ ہیں دل میں جگر میں لاکھوں زخم ریاضؔ محفل خوباں سے پھول پھل کے چلے
baalaa-e-baam ghair hai mein aastaan par
بالائے بام غیر ہے میں آستان پر چاہیں جسے چڑھائیں حضور آسمان پر کیوں نامراد آہ گئی آسمان پر ٹوٹے نہ آسمان کہیں میری جان پر رسوائیاں ہیں ساتھ وہ چھپ کر ہزار جان سو سو کے سر جھکے ہیں قدم کے نشان پر آنا اسے ضرور گو ہوں لاکھ اہتمام عاشق ہے ان کی نیند مری داستان پر تھا راز دار حسن وہ کافر جو کہہ گیا معشوق دل کی بات نہ لائیں زبان پر ان کی گلی میں رات میں اس وضع سے گیا گھبرا کے پاسبان گرے پاسبان پر نازک سی تیغ یار ہے کیا زہر کی بجھی کھائے ہوئے ہے زہر مرے امتحان پر بنتے ہیں شوخیوں سے وہ سورج بھی چاند بھی نقش قدم بھی آپ کے ہیں آسمان پر خلوت میں بھی چلی ہیں کہیں سینہ زوریاں اس طرح آپ تن کے اٹھے کس گمان پر ذکر مے طہور نے تڑپا دیا ریاضؔ جانا پڑا ہمیں کسی اونچی دکان پر
zamin mai-kada-e-arsh-e-barin maalum hoti hai
زمین مے کدۂ عرش بریں معلوم ہوتی ہے یہ خشت خم فرشتے کی جبیں معلوم ہوتی ہے پری اڑنے میں زلف عنبریں معلوم ہوتی ہے یہ کالی شکل بھی کتنی حسیں معلوم ہوتی ہے مری حسرت تبسم آفریں معلوم ہوتی ہے چھپی تیرے تبسم میں نہیں معلوم ہوتی ہے شفق کہہ لے کوئی چاہے شفق گوں آسماں کہہ لے ہمیں تو کوئے قاتل کی زمیں معلوم ہوتی ہے چلی ہے تیغ تو کس ناز سے تھم تھم کے رک رک کر یہ کچھ ان سے زیادہ نازنیں معلوم ہوتی ہے ارے ساقی ذرا میری شراب تلخ تو لانا مئے کوثر تو بالکل انگبیں معلوم ہوتی ہے چھپی ہے وہ نگاہ شوخ بھی مژگاں کے سائے میں چھری بھی آج زیر آستیں معلوم ہوتی ہے ابھارو تو ذرا شاید مرا ڈوبا ہوا دل ہو کوئی شے بحر غم میں تہہ نشیں معلوم ہوتی ہے نہیں اب درد دل لیکن ابھی تک ہے اثر کچھ کچھ چمک رہ رہ کے پہلو میں کہیں معلوم ہوتی ہے اثر ڈالا ہے حسرت نے نگاہ شوق پر کتنا کہ وہ اب بھی نگاہ واپسیں معلوم ہوتی ہے یہ اے صیاد رہ رہ کر چمکتی ہے کہاں بجلی جہاں میرا نشیمن تھا وہیں معلوم ہوتی ہے لپک اس کی چمک اس کی وہی دم خم وہی عالم یہ بجلی کوئی آہ آتشیں معلوم ہوتی ہے ریاضؔ ایسی مرے دل سے لگی ہے جام کوثر کی مے انگور اب اچھی نہیں معلوم ہوتی ہے
is ishq-e-junun-khez mein kyaa kyaa nahin hotaa
اس عشق جنوں خیز میں کیا کیا نہیں ہوتا دیوانہ ہے جو قیس سے لیلیٰ نہیں ہوتا کچھ حشر لحد پر ابھی برپا نہیں ہوتا آئے ہو تو ٹھہرو کوئی زندہ نہیں ہوتا کیوں کر یہ کہوں حسن کا نشہ نہیں ہوتا ہوتا تو بہت ہے مگر اتنا نہیں ہوتا کچھ کہئے تو شرما کے جھکا لیتے ہیں گردن بھولے سے بھی اب وعدۂ فردا نہیں ہوتا ملتے ہیں وہ دل سرخ ہوئی جاتی ہے چٹکی نازک ہیں بہت خون تمنا نہیں ہوتا دیتی ہے مزا مے کا ہمیں تلخئ توبہ جب ہاتھ میں پیمانۂ صہبا نہیں ہوتا وہ حشر کے دن کشتے کو ٹھکرا چکے سو بار کچھ جان سی پڑ جاتی ہے زندہ نہیں ہوتا بولی یہ تمنا جو رکے وہ در دل پر گھر آپ کا ہے آپ سے پردا نہیں ہوتا تیروں کو جگہ دیتے ہیں جو سینے میں اپنے ان لوگوں کے اے جان کلیجہ نہیں ہوتا صحرا سے قدم گھر کی طرف خاک اٹھاؤں کانٹے سے جدا پاؤں کا چھالا نہیں ہوتا بیٹھے نظر آتے ہیں وہی تیری گلی میں جن کا کہیں دنیا میں ٹھکانا نہیں ہوتا فرقت میں ہے کیوں نزع کی تکلیف گوارا مر جائیں ریاضؔ آپ سے اتنا نہیں ہوتا





