"baghban ne aag di jab ashiyane ko mire jin pe takiya tha vahi patte hava dene lage"

Saqib Lakhnavi
Saqib Lakhnavi
Saqib Lakhnavi
Sherشعر
See all 19 →baghban ne aag di jab ashiyane ko mire
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
jis shakhs ke jiite ji puchha na gaya 'saqib'
جس شخص کے جیتے جی پوچھا نہ گیا ثاقبؔ اس شخص کے مرنے پر اٹھے ہیں قلم کتنے
aadhi se ziyada shab-e-gham kaaT chuka huun
آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے
muTThiyon men khaak le kar dost aa.e vaqt-e-dafn
مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے
mushkil-e-ishq men lazim hai tahammul 'saqib'
مشکل عشق میں لازم ہے تحمل ثاقبؔ بات بگڑی ہوئی بنتی نہیں گھبرانے سے
zamana baDe shauq se sun raha tha
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
Popular Sher & Shayari
38 total"jis shakhs ke jiite ji puchha na gaya 'saqib' us shakhs ke marne par uTThe hain qalam kitne"
"aadhi se ziyada shab-e-gham kaaT chuka huun ab bhi agar aa jaao to ye raat baDi hai"
"muTThiyon men khaak le kar dost aa.e vaqt-e-dafn zindagi bhar ki mohabbat ka sila dene lage"
"mushkil-e-ishq men lazim hai tahammul 'saqib' baat bigDi hui banti nahin ghabrane se"
"zamana baDe shauq se sun raha tha hamin so ga.e dastan kahte kahte"
balaa se ho paamaal saaraa zamaana
na aae tumhein paanv rakhnaa sambhal kar
aadhi se ziyaada shab-e-gham kaaT chukaa huun
ab bhi agar aa jaao to ye raat baDi hai
muTThiyon mein khaak le kar dost aae vaqt-e-dafn
zindagi bhar ki mohabbat kaa silaa dene lage
mushkil-e-ishq mein laazim hai tahammul 'saaqib'
baat bigDi hui banti nahin ghabraane se
ai chaman vaalo chaman mein yuun guzaaraa chaahiye
baaghbaan bhi khush rahe raazi rahe sayyaad bhi
sone vaalon ko kyaa khabar ai hijr
kyaa huaa ek shab mein kyaa na huaa
Ghazalغزل
main ro rahaa huun jo dil ko to bekasi ke liye
میں رو رہا ہوں جو دل کو تو بیکسی کے لئے وگر نہ موت تو دنیا میں ہے سبھی کے لئے شب فراق کی روزانہ آفتیں توبہ یہ امتحان تو ہوتا کبھی کبھی کے لئے بہت سی عمر مٹا کر جسے بنایا تھا مکاں وہ جل گیا تھوڑی سی روشنی کے لئے وسیع بزم جہاں ہے تو ہو مجھے کیا کام جگہ ملی نہ مری حسرت دلی کے لئے یہ اور دامن قاتل ہے چھوٹ جائے گا لہو میں جوش تو برسوں سے تھا اسی کے لئے نہ آنکھ بند کروں میں تو کیا کروں یا رب وہ آ رہے ہیں تماشائے جانکنی کے لئے بلا کے مجھ کو نکالا ہے اپنی محفل سے وہ نیکیاں نہیں اچھی ہیں جو ہو بدی کے لئے قفس میں آج تماشائے غم ہے قابل دید تڑپ رہا ہوں میں صیاد کی خوشی کے لئے تمام ہو گئے ہم اک نگاہ قاتل سے رگیں گلے کی تڑپتی رہیں چھری کے لئے فروغ حسن بڑھا دل کی بے نوائی سے فقیر ہو گیا شان تونگری کے لئے قفس میں چپ نہ ہوں تو کیا کروں کہ یہ قیدی نہ دوستی کے لئے ہے نہ دشمنی کے لئے تمام بزم میں چھایا ہوا ہے سناٹا چھڑا تھا قصۂ دل ان کی دل لگی کے لئے شکایت چمن دہر کیا کروں ثاقبؔ ہوا خلاف ہے لیکن کسی کسی کے لئے
ek ek ghaDi us ki qayaamat ki ghaDi hai
ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے جو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہے یہ ضعف کا عالم ہے کہ تقدیر کا لکھا بستر پہ ہوں میں یا کوئی تصویر پڑی ہے بیتابیٔ دل کا ہے وہ دلچسپ تماشا جب دیکھو شب ہجر مرے در پہ کھڑی ہے دیکھا تو زمانہ گلۂ ہجر سے کم تھا سمجھا تھا کہ فرقت سے شب وصل بڑی ہے رونے سے حیا شمع کی ظاہر ہو تو کیوں کر عریاں ہے مگر بیچ میں محفل کے کھڑی ہے اب تک مجھے کچھ اور دکھائی نہیں دیتا کیا جانئے کس آنکھ سے یہ آنکھ لڑی ہے مر جاؤں جو میں وادئ الفت میں عجب کیا مقصد ہے مرا سخت تو منزل بھی کڑی ہے کب آؤ گے وقت آ گیا دنیا سے سفر کا وقفہ ہے کوئی دم کا نہ ساعت نہ گھڑی ہے کد ہے وہ مجھے کوچ میں آنے نہیں دیتے اپنا ہے خیال ان کو مجھے دل کی پڑی ہے ہمت کو نظر پا نہیں سکتی کسی صورت دل کوئی بڑا ہے جو کوئی آنکھ بڑی ہے اے حشر نمائندۂ رفتار ٹھہر جا اس زلف کے صدقے جو تری پاؤں پڑی ہے تڑپا دیا دل گوندھ کے گیسو شب وصلت میں جانتا تھا پیٹھ پہ پھولوں کی چھڑی ہے بالائے جبیں خون جب آیا تو عرق کیا اے جلوہ گہہ حسن تری دھوپ کڑی ہے آدھی سے زیادہ شب غم کاٹ چکا ہوں اب بھی اگر آ جاؤ تو یہ رات بڑی ہے آرائش گیسو کو حسیں مانگ رہے ہیں ثاقبؔ کی غزل کیا کوئی موتی کی لڑی ہے
dil ke hote bhi kahin dard judaa hotaa hai
دل کے ہوتے بھی کہیں درد جدا ہوتا ہے اک فقط موت کے آ جانے سے کیا ہوتا ہے ظلم سے ذکر وفا اور سوا ہوتا ہے ان کی ہر ایک برائی میں بھلا ہوتا ہے شہدا نعمت دنیا کی طلب بھول گئے خون کے گھونٹ میں ایسا ہی مزا ہوتا ہے خود فراموشی الفت ہے علاج غم دہر بے خبر ہوش میں آنا ہی برا ہوتا ہے امتحاں گاہ تری محفل دل کش ہے مگر میں بھی دیکھوں کہ کوئی دل کے سوا ہوتا ہے تم سے کہتا ہوں مرا خون مرے دل پہ سہی رسم دنیا ہے کہ اپنوں سے گلا ہوتا ہے بزم سے اٹھ تو چلا میں کہ محل تھا لیکن رونے والوں سے بھلا کوئی خفا ہوتا ہے دیکھ ہی لیتے ہیں سب ناز و ادا کی صورت آئنہ آپ کا نقش کف پا ہوتا ہے نالۂ دل کے اثر کا نہ کرو مجھ سے گلہ مجھ کو کیا علم کہ کس طرح رسا ہوتا ہے توبہ توبہ ہے یہی عشق کی باطل نظری سنگ بت خانے میں آتے ہی خدا ہوتا ہے کیا سبب کچھ تجھے معلوم ہے اے ابر بہار دل کے مرجھانے سے کیوں زخم ہرا ہوتا ہے وہ کہیں یا نہ کہیں میں ہوں اثر سے واقف بول اٹھتا ہے وہ نالہ جو رسا ہوتا ہے روشنی دن کی ابھی ہے کہ ہیں کھوئے ہوئے ہوش دیکھنا ہے شب تاریک میں کیا ہوتا ہے ہجر کے درد کو بڑھنے دے کہ ہے مژدۂ وصل وہی گھٹتا ہے جہاں میں جو سوا ہوتا ہے بد نصیبی ہو تو ہر خوب کی خوبی ہے فضول صبح کا وقت ستاروں کو برا ہوتا ہے دل تو دل سر بھی کبھی ہوتا ہے ممنون فراق جس میں ہے عشق یہ سودا وہ جدا ہوتا ہے مرے راضی بہ رضا ہونے سے سب راضی ہیں ورنہ جو ہے وہ شکایت سے خفا ہوتا ہے اولیں مرحلۂ عشق ہے جب حسرت و موت کوئی بتلائے کہ پھر بعد میں کیا ہوتا ہے بیم و امید سے کس طرح نکل جاؤں کہ دل نہ ٹھہرتا ہے جہاں میں نہ فنا ہوتا ہے منتظر نزع میں چپ ہے تو اسے چپ نہ سمجھ دم کا رک رک کے نکلنا بھی گلا ہوتا ہے شب تاریک میں نکلا تو ہے دیکھوں ثاقبؔ نارسا رہتا ہے نالہ کہ رسا ہوتا ہے
kahaan tak jafaa husn vaalon ki sahte
کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے جوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتے لہو تھا تمنا کا آنسو نہیں تھے بہائے نہ جاتے تو ہرگز نہ بہتے وفا بھی نہ ہوتا تو اچھا تھا وعدہ گھڑی دو گھڑی تو کبھی شاد رہتے ہجوم تمنا سے گھٹتے تھے دل میں جو میں روکتا بھی تو نالے نہ رہتے میں جاگوں گا کب تک وہ سوئیں گے تا کے کبھی چیخ اٹھوں گا غم سہتے سہتے بتاتے ہیں آنسو کہ اب دل نہیں ہے جو پانی نہ ہوتا تو دریا نہ بہتے زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے مری ناؤ اس غم کے دریا میں ثاقبؔ کنارے پہ آ ہی لگی بہتے بہتے
main vo huun jis kaa zamaane ne sabaq yaad kiyaa
میں وہ ہوں جس کا زمانے نے سبق یاد کیا غم نے شاگرد کیا پھر مجھے استاد کیا حسن جاں سوز نے وحدت میں مجھے یاد کیا میں یہ سمجھا کہ مجھے عشق نے برباد کیا نہیں معلوم وہ میں ہوں کہ کوئی اور اسیر سن رہا ہوں کہ گرفتار کو آزاد کیا جس جگہ کھائی تھی ٹھوکر وہیں تربت تھی مری بھولنے والے نے مشکل سے مجھے یاد کیا میری آہوں کی ہواؤں میں نہ آ جانا تم یہ وہی ہیں کہ جنہوں نے مجھے برباد کیا خانۂ قبر عجب چیز ہے لیکن میں نے اتنے ٹکڑے کو بھی اک عمر میں آباد کیا یاس و امید کے مابین ہوئی ختم حیات ایک نے شاد کیا ایک نے ناشاد کیا تجھ کو سب دیتے ہیں آواز وہ اپنے ہوں کہ غیر اس طرف میں نے موذن نے ادھر یاد کیا میں تھا اک خاک کی چٹکی تو اڑا جاتا ہوں خاک کا وہ بھی ہے ذرہ جسے صیاد کیا کس سے لوں داد وفا کس کو دکھاؤں یہ جفا وہ تو پردے میں ہے جس نے مجھے ایجاد کیا عشق میں اپنے ہی ہاتھوں سے ہوا دو ٹکڑے دل ناکام نے کار سر فرہاد کیا ناتوانی میں گرے تھے جو لہو کے قطرے میں تو بھولا ہوا تھا دل نے بہت یاد کیا اشک آنکھوں سے گرے خون رگوں میں جو نہ تھا میں نے آخر ادب نشتر فصاد کیا ذرے ذرے سے مری خاک یہ دیتی ہے صدا رہے آباد وہ جس نے مجھے برباد کیا ایک سناٹا سا عالم میں تھا لیکن میں نے فتح باب اثر نالہ و فریاد کیا جتنے شکوے ہیں تجھی سے ہیں کہ اس عالم میں مجھ کو بلبل کیا صیاد کو صیاد کیا راستہ چلنے کے قابل نہ رہا اے ہمدم میں نے منزل پہ نیا مرحلہ ایجاد کیا میں تو چیونٹی کے کچلنے سے حذر رکھتا تھا پھر مجھے کس نے تہہ زانوئے جلاد کیا اتنا زندہ رہے ہم جس سے کھلیں معنیٔ موت صبح ایجاد میں قصد عدم آباد کیا بو نکلنے لگی غنچوں سے تو پھر ڈر کس کا یہ خبر سچ ہے تو صیاد نے آزاد کیا قبل از وقت پھنسا دام میں اور پھنستے ہی جو تمنا یہاں لائی تھی اسے یاد کیا عالم حسن ہے وہ نقش معانی ثاقبؔ جو مری طبع خدا داد نے ایجاد کیا
hijr ki shab naala-e-dil vo sadaa dene lage
ہجر کی شب نالۂ دل وہ صدا دینے لگے سننے والے رات کٹنے کی دعا دینے لگے آئیے حال دل مجروح سنیے دیکھیے کیا کہا زخموں نے کیوں ٹانکے صدا دینے لگے کس نظر سے آپ نے دیکھا دل مجروح کو زخم جو کچھ بھر چلے تھے پھر ہوا دینے لگے سننے والے رو دئیے سن کر مریض غم کا حال دیکھنے والے ترس کھا کر دعا دینے لگے جز زمین کوئے جاناں کچھ نہیں پیش نگاہ جس کا دروازہ نظر آیا صدا دینے لگے باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے مٹھیوں میں خاک لے کر دوست آئے وقت دفن زندگی بھر کی محبت کا صلا دینے لگے آئنہ ہو جائے میرا عشق ان کے حسن کا کیا مزہ ہو درد اگر خود ہی دوا دینے لگے سینۂ سوزاں میں ثاقبؔ گھٹ رہا ہے وہ دھواں اف کروں تو آگ دنیا کی ہوا دینے لگے





